روزنامہ نوائے وقت کی انتظامیہ ان دنوں خوف و ہراس کا شکار تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کچھ شرارتی کارکنوں نے ( جن میں ہمارے ساتھ رحیم یار خان سے آئے ہوئے اس وقت کے نوجوان صحافی عبدالقدوس بھی شامل تھے ) اخبار کا ڈاک ایڈیشن شائع ہونے کے بعد اس پر غلطیوں کی نشاندہی کر کے اغلاط نامے کا ایک صفھہ اخبار کے ’’ وسیع تر مفاد میں ‘‘ مجید نظامی صاحب کو پوسٹ کرنا شروع کر دیا تھا ۔۔ ہم یہ صفحہ ڈیوٹی کے بعد ریلوے سٹیشن والے ڈاک خانے ( آر ایم ایس ) سے پوسٹ کرتے تھے اور ڈاک کا نظام 1990 کے عشرے میں اتنا شاندار تھا کہ یہ صفحہ اگلے روز ہی لاہور پہنچ جاتا اور پھر ہمارے ریذ یڈنٹ ایڈیٹر شیخ ریاض پرویز صاحب کی جواب طلبی ہو جاتی ۔۔
یہ سلسلہ کوئی دس پندرہ روز جاری رہا اس دوران ہماری صفوں میں شامل ڈیرہ غازی خان کے ایک دو نوجوان وعدہ معاف گواہ بن گئے اور اس کے صلے میں انہیں دفتر میں ہی رہائش کی سہولت فراہم کر دی گئی ۔ وہ کرائے کے جس کمرے میں رہتے تھے وہاں سے اپنا بوریا بستر لے کر دفتر منتقل ہو گئے ۔شاید ان سے تنخواہ میں اضافے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا جو ممکن ہے وعدہ ہی رہا ہو کہ نوائے وقت میں تنخواہ میں اضافے کا وعدہ کم ہی ایفا ہوتا تھا ۔
اسی گحڑمس میں ایک روز ہم دفتر گئے تو دیکھا کہ نیوز روم میں تمام سٹاف ہاتھ باندھے بیٹھا ہے اور سامنے والی کرسی پر شیخ ریاض پرویز صاحب اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ اونگھتے ہوئے سگریٹ مٹھی میں دبائے اس کی جان نکالنے کی کو شش کر رہے ہیں ۔
پتا یہ چلا کہ تمام سٹاف سے قرآن پاک پر حلف لیا جا رہا ہے ۔ حلف نامہ بھی شیخ صاحب کے کسی دست راست نے بہت احتیاط کے ساتھ تیار کیا تھا جس کا متن کچھ اس طرح تھا۔
’’ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر قرآن پاک پر حلف دیتا ہوں کہ ہیڈ آفس کو جو خطوط ارسال کیے جا رہے ہیں میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ خطوط نہ میں نے لکھے ، نہ لکھوائے اور نہ ہی میرے علم میں ہے کہ لکھنے والا کون ہے ۔۔ ‘‘
اگرچہ دفتر کےبیشترلوگ جانتے تھے کہ مکتوب نگار کون ہے لیکن پھر بھی وعدہ معاف گواہ بننے والے دو ڈیرے والوں سمیت پورے دفترنےنوکری بچانے کے لیے نوائے وقت کے ’’جابر سلطان ‘‘ کے کارندے کے سامنے حلف اٹھا لیا ۔۔ دلچسپ مرحلہ اس وقت آیا جب ایک صاحب نے حلف اٹھاتے ہوئے کہا
’’چونکہ حلف کی عبارت بہت ٹیکنیکل ہے اس لیے میں حلف اٹھاتا ہوں کہ جو خطوط اس مرتبہ لکھے جا رہے ہیں ان سے تو میرا کوئی تعلق نہیں اور نہ میں لکھنے والے کو جانتا ہوں لیکن اب چونکہ قرآن پاک سامنے ہے اس لیے میں وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ آج سے پندرہ برس قبل شیخ صاحب کے خلاف جو خطوط لکھے گئے وہ فلاں صاحب نے لکھوائے تھے ۔‘‘
یہ معصومانہ جملے خدا کو حاضر ناظر جان کر حلف دینے والے خالد جاوید مشہدی صاحب کے تھے جو پانچ جولائی دوہزار پچیس کی صبح خدا کے پاس حاضر ہوگئے ۔۔
مشہدی صاحب سینئیر صحافی تھے اور نوائے وقت کے میگزین سیکشن اور نیوز روم سے طویل عرصہ وابستہ رہے ۔انہوں نے ڈپٹی نیوز ایڈیٹر اور پھر چیف نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے طویل عرصہ نوائے وقت اور دیگر اخبارات میں کام کیا ۔۔ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اپنے کام میں مگن رہتے تھے ۔۔ ہمارا ان کے ساتھ محبت بھرا تعلق تھا ۔وہ ہمارے گھر کے قریب طویل عرصہ رہائش پذیر رہے ۔ ہمارےپاس جن دنوں موٹر سائیکل نہیں تھی ہم ان دنوں کبھی اسلام تبسم اور کبھی مشہدی صاحب سے موٹر سائیکل مانگ لیا کرتے تھے اور مشہدی صاحب چونکہ ہمارے گھر کے قریب رہتے تھے اس لیے ایسے مواقع پر وہی کام آتے تھے ۔۔ ۔جب تک وہ جلیل آباد رہے ہماری ان کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی رہیں شاکر حسین شاکر بھی ان دنوں جلیل آباد میں رہتے تھے ۔۔ سو ہم دونوں شام کے وقت اکثر ان کے پاس چلے جاتے تھے ۔ پھر جب مشہدی صاحب قاسم بیلہ منتقل ہو گئے تو ہماری ان کے ساتھ ملاقاتیں تقریبات تک محدود ہو گئیں ۔ مشہدی صاحب کا مطالعہ بھی وسیع تھا اور نظریاتی طور پر وہ مسلم لیگ اور نظریہ پاکستان بلکہ جماعت اسلامی والے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے ۔۔ان کا ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق تھا ۔ ان کے بڑے بھائی احمد فاروق مشہدی زکریا یونیورسٹی سے وابستہ تھے ۔۔ خود مشہدی صاحب نے بھی ایک سے زیادہ کتب لکھیں جن میں ان کی خود نوشت ’’ سفر حیات ‘‘ ، سفر نامہ حج اور اور بہت سی انگریزی کتب کے تراجم شامل ہیں ۔
بنیادی طور پر وہ ایک شریف آدمی تھے ۔ تنخواہ پر گزارا کرنے والے صحافی ۔وگرنہ وہ نوائے وقت میں میگزین سے لے کر چیف نیوز ایڈیٹر تک جن عہدوں پر فائز رہے اگر چاہتے تو اپنے کچھ ہم عصروں کی طرح بہت کچھ حاصل کر سکتے تھے ۔ لیکن انہوں نے ان تھک محنت کی اور نوائے وقت کے لیے ایندھن بنے رہے اور ایندھن بن جانے والوں کسی ایک ادارے کے ساتھ مخلص رہنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے کہ جب وہ رخصت ہوتے ہیں تو جس اخبار کے لیے وہ لیڈیں ، سپر لیڈیں اور تین کالمیاں بناتے رہے اسی جان لیوا اخبار کے صفحہ آخر پر سنگل کالم خبر ٹچو بن کر رہ جاتے ہیں ۔مجھے افسوس ہے کہ میں خواہش کے باوجود ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکا لیکن نو محرم الحرام کو ان کے جنازے میں شریک ہونے والے شاکر حسین شاکر نے بتایا کہ ان کے جنازے میں بس چند ہی لوگ شریک ہوئے اور تو اور ان کے ساتھ برس ہا برس کام کرنے والے ان سے بہت کچھ سیکھنے والے ان کے شاگرد اور رفقائے کار بھی وہاں موجود نہیں تھے ۔۔اور نوائے وقت انتظامیہ کی نمائندگی کے لیے تو کوئی موجود ہی نہیں تھا ۔ نہ ایڈیٹر ، نہ رپورٹر ، ز
فیس بک کمینٹ

