گزشتہ سے پیوستہ
میرے تدریسی تجربات اور مشاہدات کالج لیول کے ہیں۔ میں نے چوبیس سال پہلے تدریس کا آغاز کیا ہی انڑ ، گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی سطح سے تھا۔ میں نے سکول کی سطح پر چند دن خدمات سر انجام دی تھیں۔ وہ بھی بالکل اپنے کیرئیر کے آغاز میں۔ اس لیے سکول سطح کے بچوں کے رحجانات ، دلچسپیاں اور مسائل میرے ذاتی مشاہدے میں کم ہیں۔ میں نے کالج لیول کے نوجوان اور بالغ طلباء وطالبات کے طبعی ، ذہنی ، نفسیاتی اور تعلیمی مسائل ، الجھنیں ، رحجانات اور رولنگ پیشن کا بڑے قریب سے مشاہدہ کیا ہے ۔
میٹرک کا امتحان دے کر نوجوان جب کالج سطح کی علمی جستجو میں کسی کالج یا ایوننگ اکیڈمی میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے ذہین میں کالج لائف کے بہت سے بے بنیاد نقوش جو وہ سکول اور دوستوں سے سن کے آئے ہوتے ہیں زندہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ایک دم وہ خود کو بڑا ہو جانا محسوس کرنے لگتے ہیں ۔ اعتماد سے آگے زیادہ اعتماد مطلب اوور کنفی ڈینس کے احساسات سرایت کر جاتے ہیں۔
مضامین کے انتخاب میں بھی بہت بڑا بلنڈر ہو جاتا ہے۔ یہاں زیادہ تر والدین اپنی پسند نہ پسند طلباء پر ٹھونس دیتے ہیں۔ شاذ ہی کوئی والدین نوجوانوں کی ذاتی دلچسپی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ یہاں طلباء کی بہرصورت اپنی دلچسپی یا ذہنی رحجان یا کم ازکم وقت اور زمانے کے ٹرینڈ سامنے رکھنے میں کوئی قباحت نہیں۔
کالجوں میں یہ تکلیف دہ امر دیکھنے کو ملتا ہے کہ داخلہ لیتے ہی پہلے مہینے میں پچاس فی صد طلباء غیر حاضر ہو جاتے ہیں۔ جب کہ تمام پروفیسرز جو کہ اپنی قابلیت ، اہلیت ، نام اور کام میں ثانی نہیں رکھتے۔ جو ایک کٹھن پراسس سے گزر کر منتخب ہو کے آتے ہیں۔ ہزاروں میں سینکڑوں، سینکڑوں میں درجنوں اور درجنوں میں چند ایک خوش نصیب لوگوں کی سلیکشن ہوتی ہے۔ جو اپنی عمر کا ایک طویل تر حصہ اپنے اسی پروفیشن کے نام کر چکے ہوتے ہیں۔ اساتذہ کرام نے اپنے پیشہ اور اپنے بھرم اور وقار کے لئے زندگی میں بہت سی قربانیاں دی ہوتی ہیں۔ مگر افسوس ایسے بے مثل اور محنتی اساتذہ کرام کے ہوتے ہوئے اور تمام تر سہولتیں جو ہر آنے والے طلباء کےلئے سرکاری طور پر کالجوں میں مہیا ہوتی ہیں۔ طلباء ان سے مستفید نہیں ہوتے۔ سرکاری کالجز میں کئی کئی کنال پر مشتمل وسیع و عریض عالی شان عمارات ، ائیر کنڈیشنڈ لیبز ، زرخیز لائبریریز ، کھیلوں کے وسیع میدان ، آ مد و رفت کے لئے بسیں ، سر سبز ہرے بھرے پلاٹس ، گل و گلزار ، خدمت کے لئے مینیل سٹاف ، بہترین ذمہ دار سیکورٹی ، قابل ترین اساتذہ کرام ، سکالرشپس اور سب سے بڑھ کر یہ کہ فیس نہ ہونے کے برابر ، یہ سب پروٹوکول طلباء کے لئے ہوتا ہے۔
والدین اور طلباء کو ا ور کیا چاہیئے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ والدین اتنی سہولیات دیکھ کر بھی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے کرائے کی عمارتوں پر چلنے والے دس بیس مرلہ کے ادارے کیوں منتخب کرتے ہیں جہاں نہ کوئی انفراسٹرکچر ہے نہ کوئی معیاری اور قابل اساتذہ کرام کی سہولت میسر ہے۔
( جاری ہے ۔)

