پاکستان میں آج ستمبر 1965 میں ہونے والی جنگ کی یاد میں ساٹھواں یوم دفاع پاکستان منایا گیا۔ حال ہی میں بھارت کے ساتھ ہونے والی نئی جھڑپوں میں قومی دفاع اور یک جہتی کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے۔ ایسے میں صرف بیان دینے، توپیں داغنے یا دشمن کو للکارنے کے علاوہ اس سوال پر بھی غور کرنا چاہئے کہ قومی اتحادد کا مقصد کیسے حاصل کیا جائے؟
یہ عام فہم نکتہ ہونا چاہئے کہ کوئی دن منانے سے قوم متحد نہیں ہوسکتی اور نہ ہی کسی جنگ میں کامیابی کا اعلان کرنے سے کسی ملک کو فاتح قرار دیا جاسکتا ہے۔ کوئی یادگار دن منانا بعض صورتوں میں شاید قومی اتحاد کی علامت کے طور پر ضروری ہو لیکن پاکستان اس وقت متعدد اندیشوں، افتراق ، سیاسی بے چینی اور اختلاف رائے کا سامنا کررہا ہے۔ ایسی صورت حال میں صرف ایک تاثر کی بنیاد پر دن منانا ، توپوں کی سلامی دینا اور مستقبل میں کامیابیوں کے بارے میں دعوے کرنا کافی نہیں ہوسکتا۔
ستمبر 1965 میں ہونے والی سترہ روزہ پاک بھارت جنگ کا پس منظر زیادہ خوش آئیند نہیں ہے۔ بھارت نے بلاشبہ 6 ستمبر کو بین الاقوامی سرحدیں عبور کرکے پاکستان پر شدید حملہ کیا اور پاک فوج نے داد شجاعت دیتے ہوئے اپنی سرحدوں کا بھرپور دفاع کیا ۔لیکن اس سے پہلےپاکستانی فوجی قیادت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیے بغیر ’آپریشن جبرالٹر‘ کا آغاز کیا تھااور اپنے تئیں مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ فیصلہ کرتے ہوئے باور کرلیا گیا تھاکہ بھارت اس کے جواب میں خاموش رہے گا اور جوابی وار نہیں کرے گا۔
متنازعہ علاقہ ہونے کے باوجود پاکستان کو مقبوضہ کشمیر پرفوجی زور آزمائی کے ذریعے قبضہ کرنے کا حق نہیں تھا۔ پاکستان مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جن قراردادوں کا حوالہ دیتا ہے، ان کے مطابق بھی یہ مسئلہ طاقت کی بجائے سول طریقہ سے استصواب کے ذریعے حل ہونا ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان کو ان قراردادوں کے ہوتے ہوئے عسکری کارروائی کی منصوبہ بندی نہیں کرنی چاہئے تھی یا پھر بھارت پر 6 ستمبر کے حملہ کا الزام عائد نہیں کرنا چاہئے۔
پاکستان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر پر اپنی عملدداری بحال کرنے کے لیے ’آپریشن جبرالٹر‘ کا آغاز کیاتھا۔ اس طرح اس نے خود ہی کشمیریوں کے حق خود اختیاری کے اس اصول کو مسترد کیاجس کی دہائی دیتے ہوئے پاکستان چاہتا ہے کہ بھارت کشمیرکا تنازعہ حل کرنے کے لیے مذاکرات کرے۔ساٹھ سال پہلے ایک غلط فیصلہ کی وجہ سے پاکستان کو جس سترہ روزہ جنگ کا سامنا کرنا پڑا، اس کی وجہ سے ملکی ترقی کا پہیہ رک گیا، ملک کو جنگی مصارف پورے کرنے کے لیے بین الاقوامی قرضوں کا محتاج ہونا پڑا اور بھارت کے ساتھ بداعتمادی کا ایک ایسا رشتہ استوار ہؤا جو آج تک دونوں ملکوں کے درمیان ایک دیوار بنا ہؤا ہے۔ حالانکہ یہ دونوں ملک باہمی تعاون اور لین دین سے اس خطے کی معاشی تقدیر تبدیل کرنے اور عالمی سطح پر اپنی حیثیت منوانے کی پوزیشن میں ہوسکتے تھے لیکن پاکستان اور بھارت نے گزشتہ 7 دہائیوں میں ایک دوسرے سے برسر پیکار رہنے کی کوشش کی ہے۔ سوچنا چاہئے کہ اس تصادم اور جنگ جوئی کی قیمت کسی نے ادا کی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم دفاع پاکستان پر آج اپنے بیان میں جہاں شہدا کو خراج عقیدت اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے، اس کے ساتھ ہی متنبہ کیا ہے کہ اس موقع پر بھارتی عزائم سے درگزر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ انتباہ کسی حد تک درست ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم کو خود بھی یہ ماننا چاہئے اور اس تفہیم کی بنیاد پر قومی حکمت عملی بنانی چاہئے کہ بھارت کے ساتھ معاملات جنگ جوئی یا تصادم سے حل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے ہوشمندی سے کام لینے، کشمیر اور بھارت دشمنی کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر ترک کرنے اور سفارتی ذرائع بروئے کار لاکر نئی دہلی کو یہ پیغام دینے کی ضرورت ہوگی کہ پاکستان سنجیدگی سے امن کا خواہاں ہے اور ماضی کی جھڑپوں، جنگوں اور غلط فیصلوں کو باہمی تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دے گا۔ بدقسمتی سے ماضی قریب میں کسی پاکستانی حکومت نے اس پہلو سے حالات کا جائزہ لے کر پالیسی بنانے اور معاملات طے کرنے کی کوشش نہیں کی۔ پاکستان میں اسلامی انتہاپسندی کی سرپرستی کی گئی جس کے نتیجے میں خود ملک کو اس وقت بھی سنگین دہشت گردی کا سامنا ہے ۔ اب ایسا ہی ماحول سرحد پار بھارت میں دیکھا جارہا ہے جہاں مودی کی حکومت اور بی جے پی یکساں طور سے انڈیا کو ہندو ریاست بنانے اور اس مقصد کے لیے مذہبی شدت پسندی عام کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
گورکھپور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انیل چوہان نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازع انڈیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے اور مستقبل میں بھی یہی صورتحال برقرار رہے گی۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ ’پراکسی وار‘ کو دوسرا بڑا چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان انڈیا کو ’ہزار زخم دے کر کمزور کرنے کی‘ حکمت عملی پر گامزن ہے۔ یہ بیان حال ہی میں چینی شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی شرکت کی اور چین کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی پیدا کرنے کی بات کی تھی۔ لیکن جنرل چوہان کے بیان سے واضح ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں تبدیلی کے بغیر کم از کم بھارتی عسکری قیادت کو چین کے ساتھ معاملات درست ہونے کی توقع نہیں ہے یا وہ ایسی خواہش نہیں رکھتی۔ اس بیان کو بھارتی خطرے کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔ تاہم پاکستان کے نقطہ نظر سے ضروری ہوگا کہ اس تاثر اور سوچ کو تبدیل کیا جائے اور چین کے تعاون سے یا شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فورم سے بھارت کے ساتھ مراسم بڑھانے کی کوشش کی جائے۔
البتہ یوم دفاع پاکستان کے عذر پر بھارتی جارحیت کے اندیشوں کا ذکر کرتے ہوئے، خود اپنی طرف سے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ پاکستان کسی صورت بھارت سے شکست قبول نہیں کرے گا۔ حالانکہ یہ اعلان نہ بھی کیا جائے تو بھی یہ حقیقت واضح اور مسلمہ ہے کہ خود مختار ملک کے طور پر پاکستان اپنی خود مختاری کے خلاف کوئی بھارتی حرکت قبول نہیں کرے گا۔ البتہ اس خواہش کو نعروں میں لپیٹ کر ایسی فضا پیدا کی جاتی ہے جس سے دشمنی کا ماحول تقویت پکڑتا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال کراچی میں مزار قائد پر گارڈ تبدیلی کی تقریب کے موقع پر سنائی دی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ائر وائس مارشل شہریار خان نے کہا کہ ’پاکستان کے عوام اس سرزمین کے محافظ ہیں خواہ وہ میدان جنگ میں ہوں، سرحدوں پر برسرپیکار ہوں یا وطن کی گلیوں میں موجود ہوں۔ آپریشن بنیان المرصوص نے 6 ستمبر1965 کی یاد تازہ کردی ہے۔ اس روز واضح ہؤا کہ ہماری مسلح افواج اور بہادر عوام شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیاجائے گا۔ پھر ایسا کوئی موقع آیا تو اسکور چھ صفر نہیں ساٹھ صفر ہوگا‘۔
ایسے بیانات ضرور قومی جذبہ اجاگر کرتے ہیں لیکن پاکستانی قیادت کو اپنے بیانات کے سیاسی و سفارتی مضمرات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ ایسا صرف اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب امن کو واحد آپشن کے طور پر اختیار کیا جائے اور مسلسل جنگ جوئی اور دشمن کو نیچا دکھانے کی بات کرکے بھارت میں آباد لوگوں کے احساسات کو نہ روندا جائے۔ قومی کامرانی و جذبہ پر مشتمل بیانات کا ایک بنیادی مقصد قومی یک جہتی کا فروغ ہوتا ہے۔ پاکستانی فوج کو روائیتی طور سے عوام کی بھرپور تائید حاصل رہی ہے۔ البتہ گزشتہ چندسالوں میں سیاسی تقسیم گہری ہونے کی وجہ سے فوج اور عوام کے ایک بڑے طبقے کے درمیان بدگمانیاں پیدا ہوئی ہیں۔ ان الجھنوں کو یوم دفاع منانے اور قومی اتحاد کے بلند بانگ نعروں سے دور کرنا ممکن نہیں ہے ۔ بلکہ قومی سیاسی منظر نامہ میں صلح جوئی اور باہمی احترام کا اصول منطبق کرنے کی ضرورت ہے۔
قومی اتحاد کے لیے سیاسی مخالفین کی آواز دبانے یا آزادی رائے کا گلا گھونٹنے کے ہتھکنڈے سود مند نہیں ہوسکتے اور نہ ہی یوم دفاع پر پرجوش بیانات جاری کرنے سے یہ مقصد حاصل ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے سیاسی مطالبات ماننے اور باہمی احترام کا ماحول واپس لانا بے حد اہم ہے۔ اس کے لیے بات کہنے اور اختلاف قبول کرنے کا اصول تسلیم کرنا ضروری ہے ۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

