کل صدرِ مملکت نے ہائی کورٹ کے جج، جسٹس طارق جہانگیری کو قانون کی سند جعلی ثابت ہونے پر باضابطہ طور پر برطرف کر دیا۔ اس خبر نے مجھے 2007 کا ایک واقعہ یاد دلا دیا، جب میں چودھری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں میڈیکل افسر تعینات تھا۔ سی پی ای آئی سی ابتدا میں ملتان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے نام سے قائم ہوا تھا اور بعد میں اس کا نام تبدیل کر دیا گیا، لیکن اب بھی اسے ایم آئی سی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ادارہ اپنے عملے اور انتظامی سہولیات کی بدولت ملتان کا بہترین انسٹی ٹیوٹ بن کر سامنے آیا تھا۔
انٹروینشنل کارڈیالوجی امراضِ قلب کے علاج کا ایک ایسا شعبہ ہے جس میں مختلف آلات کے ذریعے جراحی کے بغیر بچوں اور بڑوں میں دل کے امراض کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان دنوں انٹروینشنل کارڈیالوجی میں ایک رجسٹرار کی بہت دھوم تھی۔ مجھے ان کا نام یاد نہیں، اور اگر ہوتا بھی تو شاید میں یہاں نہ لکھتا۔ وہ ذہین، محنتی اور ہنرمند ڈاکٹر تھے، لیکن اپنی جذباتی طبیعت اور غصے کی وجہ سے بدنام تھے۔
وہ ہسپتال کی حدود میں واقع ہوسٹل میں مقیم تھے اور مریضوں کے علاج کے لیے اپنے ڈیوٹی اوقات کے علاوہ بھی ہر وقت دستیاب رہتے تھے۔ وہ دل کے مریضوں کے ایمرجنسی علاج میں ماہر تھے اور نہایت پیچیدہ مسائل بھی بآسانی حل کر لیتے تھے۔ دوسرے ڈاکٹر جب ان سے مدد طلب کرتے تو وہ فوراً ایمرجنسی وارڈ پہنچ جاتے اور اپنی خدمات سرانجام دیتے۔ وہ مریضوں میں عارضی سینٹرل لائن اور عارضی پیس میکر وغیرہ بھی مہارت سے لگا دیتے تھے۔ انہیں ای سی جی پڑھنے پر عبور حاصل تھا۔ وہ ایمرجنسی ایکو کارڈیوگرافی بھی کرتے تھے اور انہیں کیتھ لیب تک بھی رسائی حاصل تھی، جہاں وہ دل کی بند شریانیں کھولنے میں کنسلٹنٹ کی مدد کرتے تھے۔ غرض یہ کہ وہ اپنی مثال آپ تھے۔
ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ہوسٹل میں شراب نوشی کرتے ہیں اور کبھی کبھار نشے کی حالت میں ڈیوٹی پر بھی آ جاتے تھے۔ میں نے ذاتی طور پر انہیں بااخلاق پایا تھا اور ہم دونوں ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے۔ وہ کافی عرصے تک ہسپتال کو اپنی خدمات فراہم کرتے رہے، پھر ایک دن پتا چلا کہ ان کی ایم بی بی ایس کی ڈگری اور امراضِ قلب کا ڈپلومہ جعلی ہیں۔ انہیں فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا اور وہ اچانک ہی منظرِ عام سے غائب ہو گئے۔
جسٹس طارق جہانگیری کو دسمبر 2020 میں اُس وقت کے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہائی کورٹ کا جج نامزد کیا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کی نامزدگی کی منظوری دی تھی۔ ججوں کی تعیناتی کے لیے قائم اُس وقت کی پارلیمانی کمیٹی نے بھی ان کی نامزدگی پر مہرِ تصدیق ثبت کی تھی، اور اُس وقت کے صدرِ مملکت، عارف علوی، نے انہیں باضابطہ طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بننے سے قبل وہ اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ 2011 سے 2013 تک وہ بطور ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان بھی فرائض انجام دیتے رہے۔ وہ اپنی دیانت داری، اصول پسندی اور استقامت کی وجہ سے ایک معتبر قانونی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ اُن ججوں میں شامل تھے جنہوں نے 2023 میں اعلیٰ عدلیہ کے امور میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کی تصدیق کی تھی۔
وہ پاکستان تحریکِ انصاف اور عمران خان سے ہمدردی رکھتے تھے، اسی لیے پی ٹی آئی کے ہمدردوں اور کارکنوں میں مقبول تھے۔ اس وقت بھی سوشل میڈیا پر تحریکِ انصاف کی جانب سے ان کی حمایت کی جا رہی ہے اور ان کی برطرفی کی مذمت کی جا رہی ہے۔ وہ خود بھی اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کر رہے ہیں اور تمام دستاویزی شواہد اور گواہیوں کو بے بنیاد اور اپنے خلاف گہری سازش قرار دے رہے ہیں۔
تحریکِ انصاف، جو معاشرے میں ریاستِ مدینہ کی طرز پر ایمانداری قائم کرنے کا نعرہ لگاتی ہے اور اسی بنیاد پر اقتدار میں آئی، اپنے ادوار میں متعدد بے ضابطگیوں میں ملوث ثابت ہوئی ہے۔ ان میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تقرری بھی شامل ہے۔ یہ واحد جماعت ہے جو دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس سیاست نہیں بلکہ عبادت کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ ان کے نزدیک ہر مخالف بے ایمان اور ہر حمایتی ایماندار ہوتا ہے، خواہ اس پر بددیانتی ثابت ہی کیوں نہ ہو جائے۔ بددیانت ثابت ہونے کے لیے ہر دیانت دار کا تحریکِ انصاف کو خیرباد کہنا لازم سمجھا جاتا ہے۔
بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے، چاہے وہ اصلی ہو یا جعلی۔ تحریکِ انصاف کا بھی شاید یہی ماننا ہے کہ ڈگری تو ڈگری ہی ہوتی ہے، چاہے اصلی ہو یا جعلی بشرطیکہ ڈگری ہولڈر تحریکِ انصاف اور عمران خان سے ہمدردی رکھتا ہو۔
فیس بک کمینٹ

