دسمبر ہمارے لیے ایک منحوس مہینہ ہے۔ اسی مہینے سقوطِ ڈھاکہ ہوا، اے پی ایس کا کبھی نہ بھولنے والا سانحہ پیش آیا، اور ہماری عظیم رہنما محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں سڑک پر شہید کر دی گئیں۔ بینظیر بھٹو سے مجھ سمیت وطنِ عزیز کے کروڑوں عوام کا گہرا رشتہ تھا، جس کی جڑیں بہت مضبوط تھیں۔ یہ رشتہ آج بھی قائم ہے، اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی کا تن آور درخت پت جھڑ کے ایک سخت اور بے رنگ موسم سے گزر رہا ہے۔
بینظیر بھٹو تاریخ کی عظیم سیاسی شخصیات کی طرح ایک بھرپور علمی شخصیت تھیں۔ وہ ایک بہترین مقررہ اور مصنفہ تھیں اور عالمی سطح پر ایک مدبر رہنما کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ انہیں سیاست اور تاریخ پر عبور حاصل تھا اور وہ ہمیشہ حال کے عالمی منظرنامے پر گہری نظر رکھتی تھیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی بروقت اور جرات مندانہ سیاسی فیصلے کرنے کی صلاحیت تھی۔ وہ حکومت کرنے کے بجائے عوامی مقبولیت اور عوامی طاقت پر یقین رکھتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ حکومتیں بچانے کے لیے ہمیشہ سمجھوتے نہیں کرتی تھیں۔ اس کے باوجود وہ سیاست میں مکالمے (ڈائیلاگ) کا راستہ ہمیشہ کھلا رکھتی تھیں۔ان کے نزدیک سیاسی مسائل اور ڈیڈلاک کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا۔ وہ وقتی فتوحات کے بجائے تاریخ کے فیصلے اور دیرپا جیت کا انتظار کرتی تھیں۔
بہت سے لوگوں کے نزدیک 18 اکتوبر 2007ء کو ان کا وطن واپسی کا فیصلہ شاید درست نہیں تھا، لیکن ان کے نزدیک یہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے فروغ دی گئی مذہبی انتہاپسندی کو ہمیشہ کے لیے برائی کی علامت بنانے کا ایک نادر موقع تھا۔ وہ ایک دلیر رہنما تھیں۔ حبیب جالب نے اپنی مشہور زمانہ نظم
"ڈرتے ہیں بندوقوں والے، ایک نہتی لڑکی سے”
محترمہ کے لیے ہی لکھی تھی۔
انہیں بخوبی علم تھا کہ وطن واپسی پر انہیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے خودکش حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کا برملا اظہار وہ وطن واپسی سے قبل اپنی پریس کانفرنس میں کر چکی تھیں، اور پھر وہی ہوا۔ 18 اکتوبر 2007ء کو کراچی میں ملک بھر سے تقریباً چالیس لاکھ محنت کش عوام ان کے استقبال کے لیے جمع ہوئے۔ اس عظیم الشان اجتماع نے نہ صرف عالمی اور قومی مبصرین کو بلکہ خود بینظیر بھٹو کو بھی حیران کر دیا تھا۔ پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی وہ شدتِ جذبات سے آبدیدہ ہو گئیں۔ ہم نے انہیں بہت کم روتے دیکھا تھا، شاید اس کے علاوہ صرف مرتضیٰ بھٹو کی شہادت پر۔
انہوں نے لکھا ہے کہ ضیاء الحق کے دور میں ایجنسیاں ان سے ملاقاتیں کرتیں اور ذوالفقار علی بھٹو پر ڈھائے گئے مظالم کا ذکر کرتیں، لیکن وہ انہیں یہ کہہ کر واپس بھیج دیتیں کہ وہ انہیں جذباتی طور پر توڑنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ وہ کبھی نہیں ٹوٹیں گی۔ وہ کم عمری ہی میں اپنی قوتِ فیصلہ سے اپنے بدترین دشمنوں کے سامنے خود کو منوا چکی تھیں۔ اس کا ذکر ان کی حکومت کے خلاف سازشیں کرنے والے جنرل مرزا اسلم بیگ نے بھی کیا ہے۔
انہیں ابتدا ہی سے مذہب کے ٹھیکیداروں کی مخالفت کا سامنا رہا۔ ان کے وزیرِاعظم نامزد ہونے پر عورت کی حکمرانی کے خلاف فتوے دیے گئے۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے اندر موجود بعض “انکلز”، جن میں غلام مصطفیٰ جتوئی، غلام مصطفیٰ کھر اور دیگر افراد شامل تھے، نے بھی ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنے عزم اور حوصلے کے باعث ان تمام مخالفین کو شکست دینے میں کامیاب ہوئیں۔ بعد ازاں یہی مخالف مولوی ان کے قدموں میں بیٹھے دکھائی دیے۔
وہ سوشلسٹ نہیں تھیں بلکہ سماجی جمہوریت (سوشل ڈیموکریسی) پر یقین رکھتی تھیں۔ اسی نظریے کی وجہ سے پیپلز پارٹی میں موجود اشتراکی طبقہ ان کی مخالفت کرتا تھا، لیکن ان کی زندگی میں کم ہی سوشلسٹوں نے پیپلز پارٹی کو خیرباد کہا۔ تمام تر اختلافات کے باوجود انہوں نے پارٹی سے اپنی وابستگی برقرار رکھی، جس کی بنیادی وجہ محنت کش کارکنوں سے محترمہ کا ذاتی تعلق تھا۔ محترمہ ملک بھر میں موجود اپنے کارکنوں کے نام یاد رکھتی تھیں۔ وہ انہیں فون کرتیں اور نام لے کر مخاطب کرتیں، جس سے پارٹی کے ساتھ ان کی وفاداری مزید مضبوط ہو جاتی۔
پاکستان جیسے تنگ نظر معاشرے میں عورت ہوتے ہوئے انہوں نے تین دہائیوں تک سیاسی افق پر راج کیا۔ یہ ان کا ایک ناقابلِ یقین کارنامہ تھا۔ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بعد میں کئی ملکی اور عالمی خواتین سیاست میں آئیں اور اپنے اپنے ممالک کی سربراہِ حکومت بنیں۔ انہوں نے کبھی کسی کی، حتیٰ کہ اپنے والد کی بھی، تقلید نہیں کی بلکہ ہمیشہ اپنی انفرادیت برقرار رکھی۔
ان کی شہادت نے جہاں کروڑوں محنت کشوں کے دل توڑ دیے، وہیں ان کی جماعت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کو پہنچنے والا یہ نقصان درحقیقت پاکستان کا بھی بہت بڑا نقصان تھا، کیونکہ اس کے بعد ملک میں اسٹیبلشمنٹ مخالف مزاحمتی سیاست تقریباً ختم ہو گئی۔ ان کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی اپنے سب سے مضبوط گڑھ، پنجاب، میں ختم ہو گئی۔ پنجاب اگرچہ محترمہ کی زندگی میں ہی کمزور ہو چکا تھا، لیکن وہاں پارٹی کی ایک تنظیم بہرحال موجود تھی۔ اب وہ تنظیم بھی عملاً ختم ہو چکی ہے۔
پیپلز پارٹی ایک قبائلی سردار آصف علی زرداری اور ان کے بیٹے کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے، جنہوں نے سندھ کے قلعے کو
“مرسو مرسو، سندھ نہ ڈیسو”
کا نعرہ لگا کر مضبوط کر لیا ہے، گویا یہ ان کی موروثی جاگیر ہو۔ یوں پاکستان اور پیپلز پارٹی کی اصل طاقت، یعنی محنت کش طبقے کے کارکن، سے تعلق توڑ دیا گیا ہے، جیسے ان کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو۔ یہی پیپلز پارٹی کے زوال کی واحد اور بنیادی وجہ ہے۔
امید ہے کہ یہ رائے مجھ سے پہلے پیپلز پارٹی کے خیرخواہ تجزیہ نگار قیادت تک پہنچا چکے ہوں گے، اور قیادت نے اس “بےکار مشورے” کو حسبِ روایت ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہو گا۔
فیس بک کمینٹ

