تل ابیب: اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی ایک کارروائی میں شہید ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائی حالیہ حملوں کے دوران کی گئی، تاہم اس کی مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
دوسری جانب اس دعوے پر ایران کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس کے باعث اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جن کی تصدیق بعد میں مختلف ذرائع سے ہوتی رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ لاریجانی کو ’ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم ایران نے اس پر تاحال ردعمل نہیں دیا۔
اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے اور وزیرِ اعظم نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی قیادت کا تعاقب جاری رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ علی لاریجانی کو آخری بار 13 مارچ کو تہران میں یومِ القدس کی ریلی کے دوران دیکھا گیا تھا۔
ان کے سوشل میڈیا پر ایکس اکاؤنٹ کے مطابق اس موقع پر جاری تصاویر میں وہ سڑک پر اپنے حامیوں سے ہاتھ ملاتے اور گفتگو کرتے نظر آ رہے تھے۔
اس سے ایک روز قبل انھوں نے سوشل میڈیا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ایکس پر اپنی پوسٹ میں لاریجانی نے لکھا تھا کہ ’ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ تیز رفتار فتح چاہتے ہیں۔ جنگ شروع کرنا آسان ہے، لیکن اسے چند ٹویٹس کے ذریعے نہیں جیتا جا سکتا۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’ہم اس سنگین غلطی پر آپ کو پچھتانے پر مجبور کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘
10 مارچ کی ایک اور پوسٹ میں لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران ٹرمپ کی ’دھمکیوں‘ سے خوفزدہ نہیں۔‘
اپنی پوسٹ کے اختتام پر انھوں نے لکھا تھا کہ ’احتیاط کریں، کہیں آپ ہی ختم نہ ہو جائیں۔‘
( بشکریہ : بی بی سی / ایکسپریس نیوز)
فیس بک کمینٹ

