ہم ہر روز کچھ نیا سیکھتے ہیں، لیکن ہمیں اس کی شعوری کوشش بھی کرنی چاہیے۔ ہمیں علم کو تعصبات سے بالاتر ہو کر حاصل کرنا چاہیے اور حالات کا غیرجانبدارانہ تجزیہ کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔
پچھلے دنوں میں نے جسٹس ایس۔ مرلی دھر کا انٹرویو بی بی سی پر سنا۔ وہ فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کا تجزیہ کرنے والے اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل نے واضح طور پر فلسطینی بچوں، یہاں تک کہ نوزائیدگان کے سروں اور گردنوں کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا۔ وہ بہت غمزدہ اور حیران دکھائی دیے کہ آخر اسرائیل کی معصوم بچوں سے کیا دشمنی ہے۔
میں نے اس انٹرویو کا کلپ دوستوں کے ساتھ شیئر کیا۔ ان دوستوں میں ڈاکٹر احمد شیری بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر شیری پی کے ایل آئی کے ایمرجنسی میڈیکل یونٹ کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے جواب میں میرے ساتھ ایک کتاب شیئر کی، جسے پڑھ کر مجھے جسٹس مرلی دھر کے اس سوال کا جواب بڑی حد تک مل گیا کہ اسرائیل اور امریکہ آخر کیوں معصوم عورتوں اور بچوں کو قتل کر رہے ہیں؟ آخر ان کے اصل اغراض و مقاصد کیا ہیں؟
میں اس تحریر میں بہت مختصر تجزیہ پیش کروں گا۔ اگر آپ اس کتاب کے بارے میں جاننا اور اسے پڑھنا چاہتے ہیں تو اس کا نام Forcing God’s Hand ہے اور اس کی مصنفہ کا نام گریس ہالسل ہے۔ ہالسل بیسویں صدی کی معروف امریکی مصنفہ اور صحافی تھیں۔ 1960ء کی دہائی میں انہوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور وہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی سیاسی حامی رہیں۔ ان کا انتقال 2000ء میں ستتر برس کی عمر میں ہوا۔ یہ کتاب ان کی آخری کتاب تھی اور 1999ء میں شائع ہوئی۔ یہ ایک تحقیقاتی اور ادبی تصنیف ہے جو مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص فلسطین کے تنازعے کا تجزیہ پیش کرتی ہے۔
گریس ہالسل کے مطابق فلسطینی تنازعے کے پیچھے دو انتہاپسند مذہبی گروہوں کا ہاتھ ہے، جو اگرچہ ایک دوسرے کے عقائد کو رد کرتے ہیں، لیکن اپنے اپنے مذہبی مقاصد کی تکمیل کے لیے مسئلۂ فلسطین میں اپنا مشترکہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ پہلا گروہ صیہونی مسیحیوں کا ہے، جب کہ دوسرا صیہونی یہودیوں کا۔
صیہونی مسیحی انتہاپسند پروٹسٹنٹ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آرمیگڈون یا ہرمجدون، یعنی معرکۂ خیر و شر، اگرچہ نزدیک ہے، لیکن ان پر فرض ہے کہ وہ شعوری طور پر یا جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کر دیں کہ اس معرکے کی تمام نشانیاں پوری ہو جائیں اور یسوع مسیح کا ظہور ہو جائے، اور پھر یسوع مسیح دنیا سے تمام برائیاں ختم کر دیں۔ یہ بہت دلچسپ ہے کہ برائیوں کو ختم کرنے کے لیے انہیں خود برائیاں پیدا کرنے کی ضرورت پڑ رہی ہے۔
گریس کے مطابق امریکہ میں بالائی متوسط اور بالائی طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، اور اس تعداد میں بیسویں صدی میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اور کیوں نہ ہوتا؟ آخر مذہبی مسیحیوں کی ایک بڑی تعداد حضرت یسوع مسیح کے دیدار کی خواہشمند ہوگی، اور ان کی آمد کے لیے اپنا کوئی کردار ادا کرنے کی ضرورت پیش آئے تو وہ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ بھی لے گی، کیونکہ یہ تو بڑے ثواب کا کام ہوگا۔
دوسری طرف صیہونی یہودی ہیں۔ انہیں پہلی صدی عیسوی میں رومی سلطنت نے فلسطین سے بے دخل کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ دنیا بھر میں ٹھوکریں کھاتے پھرے اور انہیں ہر جگہ ذلیل و رسوا کیا گیا۔ بیسویں صدی میں انہوں نے صیہونی مسیحیوں کے ساتھ مل کر فلسطین میں دوبارہ آباد ہونے کا منصوبہ بنایا، جسے وہ مذہبی طور پر اپنا اصل وطن سمجھتے ہیں، کیونکہ وہاں ان کی مقدس عبادت گاہیں موجود ہیں۔ مسیحیوں کے برعکس وہ ایک خدا کو مانتے ہیں اور یسوع مسیح کو محض ایک عام انسان سمجھتے ہیں، لیکن مسیحیوں اور مسلمانوں کی طرح وہ بھی یسوع مسیح کے ظہور اور قیامت کے منتظر ہیں۔
بدقسمتی سے صیہونی مسیحی دنیا کے بڑے سرمایہ دار ہیں۔ شاید وہ اپنی دولت کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں، یا شاید واقعی وہ پاگل پن اور جنونیت کی حد تک مذہبی ہیں اور اس کے لیے فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھانے میں صیہونی یہودیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ دونوں گروہ تمام مسیحیوں اور یہودیوں کی نمائندگی نہیں کرتے، اور مسیحیوں اور یہودیوں کی اکثریت ان کے انتہاپسند عقائد اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت کرتی ہے۔
حماس اور فلسطینی مسلمان اپنی زمین اور وطن کی حفاظت اور اپنے جان و مال کے تحفظ کو اپنا مذہبی جنگی فریضہ، یا جہاد، سمجھتے ہیں۔
صیہونیوں کے انتہاپسند گروہوں کو بین الاقوامی میڈیا میں ظالم اور دہشت گرد قرار نہیں دیا جاتا۔ اس کے برعکس مسلمان طالبان، حزب اللہ، حماس اور ایران کو مذہبی انتہاپسند اور دہشت گرد قرار دے کر ان کی مذمت کی جاتی ہے۔
اس کتاب سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا طبقہ انتہاپسند دہشت گرد ضرور ہے، لیکن وہ معصوم بچوں اور عورتوں کو ہلاک کرنا اپنا مذہبی فریضہ نہیں سمجھتا۔ صیہونیوں کے لیے فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کرنا ان کا مذہبی فریضہ ہے۔ یہ انکشاف انتہائی خوفناک ہے۔ ان افراد کی ذہنی کیفیت کے بارے میں سوچ کر بھی جھرجھری آ جاتی ہے۔
مذہب تو اخلاقیات، محبت اور بھائی چارے کا سبق دیتا ہے۔ کیا یہ واقعی مذہبی گروہ ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ سفاکیت کوئی مذہبی گروہ نہیں دکھا سکتا۔ ہاں، سرمایہ دار کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ کہیں سرمایہ دار مذہب کو استعمال تو نہیں کر رہا؟ کہیں دنیا کے معصوم لوگ اسی طبقے کے ہاتھوں گمراہ تو نہیں ہو رہے؟
ان سوالات کے جوابات کے لیے یہ کتاب پڑھیے۔ آپ کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا، لیکن اسے خود پر طاری مت کیجیے۔ ہمیشہ سیکھتے اور سکھاتے رہیے اور علمی سفر کو جاری رکھیے۔
فیس بک کمینٹ

