آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم ۔۔ وکلاء کو غصہ کیوں آیا ؟

پی آئی سی میں جہاں پھول لے جانا بھی منع ہے ہمارے وکیل بھائی پتھر، ڈنڈے اور پستول لے کر پہنچ گئے۔ مبینہ طور پر ایک مریضہ کا آکسیجن ماسک اتارا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی اور ایسا بلوہ کیا کہ ڈاکٹروں کے تو کیا سب مریضوں کے ہوش بھی ٹھکانے آ گئے۔ پورے پاکستان کو بلکہ پوری دنیا کو اچھی طرح علم ہو گیا کہ ہمارے وکیل بہت ’ڈاہڈے‘ ہیں اور ان سے معاملات الگ ہی رکھے جائیں تو بہتر ہے۔ ان کا مقصد یقیناً یہ ہی تھا کہ پورے لاہور بلکہ پاکستان کے ڈاکٹروں پہ ان کی دھاک بیٹھ جائے اور ان کی ایسی دہشت ہو کہ دس گاؤں ادھر تک جب کوئی بچہ رات کو اٹھ کر روئے تو اس کی ماں کہے کہ سو جا ورنہ وکیل بھائی آ کر متھا رنگ دیں گے، گھس کر ماریں گے، سٹنٹ ڈال دیں گے اور بائی پاس کر دیں گے۔
وکلا کا مقصد پورا ہوگیا۔ اس دن کے واقعات دہرا کر لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ وکیل بھائی، جو لشکر اور سمندر لے کر جا رہے تھے، اس نے یہ ہسپتال فتح کر لیا۔ ہسپتال کے باہر ’ہارن مت بجائیے‘ کا بورڈ لگا ہوتا ہے، ہمارے وکیلوں نے بکرے بلا دیے، گاڑیاں جلا دیں۔ اس فتح کے بعد ’مالِ غنیمت‘ کے طور پہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبات سے بھری بس ہاتھ آیا ہی چاہتی تھی کہ جانے کون سی حیا راستے میں آ کھڑی ہوئی اور بانکے سجیلے وکیل بے نیل مرام بس سے اتر آئے۔
شاباش بچو! بحیثیت ماں اور استاد تم نے میرا سر بھی شرم سے جھکا دیا۔
اس سانحے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ سوال یہ ہے کہ وکلا کو غصہ کیوں آیا؟ ایک وکیل مبینہ طور پہ دوا لینے کے لیے غلط قطار میں کھڑا ہوا اور اس بات پہ تکرار ہوئی نوبت مار پیٹ تک پہنچی۔ دیگر وکلا وہاں آئے تو ان کو بھی مارا گیا۔ بات بڑھی اور صلح صفائی ہو گئی۔ اس کے بعد ایک ڈاکٹر کی ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ مضحکہ اڑانے والے انداز میں وکیلوں کی اخلاقی شکست کا ذکر کر رہا ہے کہ ان کی کہیں شنوائی نہ ہوئی۔ ایک شعر بھی پڑھا۔
اس ویڈیو کو بنیاد بنا کر پی آئی سی پہ حملہ کیا گیا۔ ریاست ضروری کام سے سوتی رہی۔ فیاض الحسن چوہان صاحب چند مکے دھکے کھا کر بلوائیوں میں کودے مگر کسی کو بھی متاثر نہ کر سکے۔
سوال وہیں کا وہیں، وکلا کو غصہ کیوں آیا؟ اس ویڈیو میں ایسی کیا بات تھی کہ سہی نہ گئی؟ مجھے کئی بار دیکھنے پر بھی ایسی کوئی اشتعال انگیزی نظر نہ آئی جس کا ری ایکشن اتنا شدید اور جاہلانہ ہوتا۔
سیاستدان، دن رات اس سے زیادہ بری طرح ایک دوسرے کے بارے میں بیان دیتے رہتے ہیں مگر سیاسی پارٹیوں کے درمیان ایسے دنگے دیکھنے میں نہیں آتے۔ میاں نواز شریف بیمار ہوئے تو شدید سیاسی مخالفت، عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے باوجود انھیں علاج کے لئے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی۔ صحافیوں کے ساتھ کیا کیا وارداتیں نہیں گزر جاتیں مگر سوائے اخلاقی طور پہ ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے صحافی جوتے لے کر تو نہیں تل جاتے۔
ابھی چند روز پہلے لندن میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے گھر کے باہر مظاہرہ ہوا۔ جواب میں کیا اپوزیشن پستول لہراتی، حکومتی ارکان پہ پل پڑی؟ روزنامہ ڈان کے دفتر کے باہر کھڑے ہو کر نعرے لگائے گئے، کیا صحافیوں نے جواب میں مار پیٹ کی؟
وکلا کو غصہ کیوں آیا؟ سوال وہیں کا وہیں ہے۔
قانون، اخلاق، معاشرتی اقدار، سیاست، وکیلوں سے زیادہ کون جانتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ بالائے طاق رکھ کر بد نامی کا طوق گلے میں پہننے کے لیے ایک نہ دو کئی سو وکیل کیوں چل پڑے؟ کیا ان کو معلوم نہ تھا کہ ہسپتال پہ حملے کے بعد وہ اخلاقی اور قانونی طور پر وہیں آ کھڑے ہوں گے جہاں اے پی ایس پہ حملے کے بعد طالبان کھڑے تھے؟ وکیل تو بہت سمجھدار ہوتے ہیں اور سمجھدار لوگ اس طرح معمولی باتوں پہ غصے میں نہیں آتے۔
صرف یہ ہی نہیں کہ اس روز ایک سانحہ رونما ہوا، زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ اب لوگوں سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وکیلوں کو مظلوم سمجھا جائے۔ جو سمجھدار لوگ اس ہجوم سے الگ ہونا چاہ رہے ہیں ان کی بار کی ممبر شپ منسوخ کی جا رہی ہے۔
دنیا میں چپڑی اور دو دو کسی کسی کو ہی ملتی ہیں۔ مشتعل وکلا اپنی بد معاشی کی دھاک بٹھانا چاہتے تھے، بٹھا دی۔ اب یہ توقع فضول ہے کہ لوگ ان کو مظلوم سمجھ کر چمکاریں بھی۔ بار کے انتخابات ہو جائیں اور یہ گرد بیٹھ جائے تو سینیئر وکلا کو چاہیے کہ سنجیدگی سے سر جوڑ کر بیٹھیں اور سوچیں کہ وکلا کو غصہ کیوں آیا؟ اس رویے کے پیچھے کون سی نفسیاتی پیچیدگیاں ہیں۔ بات صرف لعن طعن سے حل ہونے والی نہیں۔ کچھ عوامل ایسے ہیں جن سے وکلا کے رویے میں یہ تندی آتی جا رہی ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران ہی معمولی واقعات پہ وکلا کے شدید ردعمل کی کئی شکایات سامنے آئی ہیں۔
کیا وکالت کا نصاب درست کرنے کی ضرورت ہے یا وکالت میں داخلے کے لیے میرٹ بڑھانے کی ضرورت ہے؟ کیا وکیل عدم تحفظ اور خوف کا شکار ہیں؟ وکالت کے پیشے سے حلم اور بردباری کب اور کہاں غائب ہوئی؟ کیا عدالتوں، بارز اور چیمبرز کا ماحول اتنا غیر صحت مند ہے کہ وکیل اس مخصوص نفسیاتی کیفیت کا شکار ہو رہے ہیں؟ آخر اس رویے کے پیچھے کیا ہے؟ کالے کوٹ کی عزت بحال کرنے کے لیے ان سوالات کا جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker