تجزیےعلی نقویلکھاری

7 اکتوبر 1958 +12 اکتوبر 1999 = 712 عیسوی ۔۔ علی نقوی

سات اکتوبر 1958 ء پاکستان کے پہلے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ایوب خان کے ٹیک اوور کی بنیاد کی تاریخ ہے.. اسی طرح 12 اکتوبر 1999 پاکستان میں چوتھے مارشل لاء کے نفاذ کا دن ہے جو پرویز مشرف نے نافذ کیا، اور اتفاق سے (اختلاف سے نہیں) 712 عیسوی فاتح ہند محمد بن قاسم کے دیبل پر حملے کا سن ہے..

قبضہ انسانی فطرت کا ایک حصہ ہے دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو کہ جس میں کسی بھی چیز پر قبضے کی خواہش نہ ہو صرف مادیت پرستی کی نوعیت اور شدت کا فرق ہو سکتا ہے کہ ایک اعلیٰ افکار کا حامل شخص لوگوں کی افکار اور سوچ پر قبضہ چاہتا ہوگا تو ایک تاجر ذہنیت کا آ دمی لوگوں کے مال و زر پر۔۔ کوئی تحت و تاج پر نظر رکھتا ہوگا تو کوئی کسی حسین عورت پر، لیکن قبضہ اور تسلط انسانی جبلت کی وہ خواہش ہے جو بعض افراد کے لیے کمزوری اور چند لوگوں کے مجبوری کا درجہ رکھتی ہے..
سیاست کی زبان میں ایک ایسا شخص جس نے اقتدار پر ایسا قبضہ جما رکھا ہو جس میں وہ کسی غیر کی شرکت برداشت نہ کرتا ہو اور اپنے اقتدار کو قائم کرنے اور اس کو دوام بخشنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کی صلاحیت رکھتا ہو اسکو “ڈکٹیٹر” کہتے ہیں ۔



دنیا میں ڈکٹیٹر شپ کی تاریخ قدیم ہے تقریباً دنیا کے ہر اس خطے میں جہاں انسانی آبادی موجود رہی ہے ڈکٹیٹر شپ کسی نہ کسی شکل میں وجود رکھتی ہے ہمارے ملک میں ڈکٹیٹر شپ صرف عسکری قبضے سے منسوب ہے یہ ایک غلط تاثر ہے کہ ایک ایسا حکمران کہ جس کا کوئی واضح فوجی عسکری بیک گراؤنڈ نہ ہو وہ بھی ڈکٹیٹر ہوسکتا ہے ۔ پولیٹیکل سائنس میں
Hybrid Dictatorship, One man Dictatorship اور Single Party Dictatorship کی اصطلاحات اسی نوعیت کی ڈکٹیٹر شپ کو واضح کرتی ہیں کہ بظاہر ملک میں جمہوریت نظر آتی ہے لیکن عملا کسی ایک شخص، ادارے یا ایک پارٹی کی عملداری ہوتی ہے اور وہ اپنے مخالفین کے خاتمے اور اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو روکنے کے لیے ہر وہ کام کرتا ہے جو بظاہر جمہوری روایات کے خلاف ہوتے ہیں ۔ آج کی دنیا کی آبادی کا بیشتر حصہ جمہوریت کو ہی بہترین نظام سمجھتا ہے اور اس کا حامی ہے لیکن آج بھی دنیا کے تقریباً پچاس ممالک کے حکمران بالواسطہ یا بلا واسطہ ڈکٹیٹر ہی ہیں ۔ اگر ہم ایک نظر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ انیس سب – صحارن افریقن ممالک
بارہ وسط ایشیائی اور شمالی امریکہ کے ممالک
آٹھ ایشین پیسیفک ممالک، سات یورشین (یورپ اور ایشیا کے سرحدی علاقے کے ممالک) تین امریکی ممالک اور ایک یورپی ملک میں موجود حکومتیں ڈکٹیٹر شپ کی تعریف پر پوری اترتی ہیں ۔ موجودہ دنیا کے چند مشہور ڈکٹیٹرز کے ناموں میں افغانستان کے اشرف غنی، بحرین کے الخلیفہ، چین کے شی جنگ پنگ، مصر کے عبد الفاتح السیسی، ایران کے صدر روحانی، عراق کے برہام صالح، کوریا کے کِم جونگ، اومان کے قابوس بن صید الصید، کمبوڈیا کے ہن سین، قطر کے تمیم التھانی، روس کے ولادامیر پوٹن، شام کے بشار الاسد، تھائی لینڈ کے پیرابوت چان و چا، ترکی کے رجب طیب اردگان، یو اے ای کے شیخ خلیفہ ناہیان اور یمن کے عبد الہادی کے نام اہم ہیں ان میں بیشتر نام وہ ہیں کہ جن کا عسکری بیک گراؤنڈ نہیں ہے لیکن وہ آمر ہی مانے جاتے ہیں..



اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو پاکستان میں چار فوجی ادوار گزرے ہیں اور بدقسمتی سے ان چاروں مارشل لاؤں کو عوامی کی پذیرائی اور حمایت حاصل رہی ہے سوائے ضیاء الحق کے کوئی ایک بھی فوجی حکمران ایسا نہیں گزرا کہ جس کو عام عوام نے منہ بھر بھر کے گالیاں دی ہوں۔ آج بھی آپ ایک سروے کیجیے اور لوگوں سے ایوب خان، یحییٰ خان اور پرویز مشرف کے بارے میں رائے لیجیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ایک دو کو چھوڑ کر کسی سیاسی رہنما کے حصے میں وہ عزت نہیں آئی جو ایوب خان یا پرویز مشرف کو نصیب ہے یہاں تک کہ اگر آپ ضیاء الحق کے حامی تلاش کریں تو آپ کو وہ بھی اچھی تعداد میں مل سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں ملتان کینٹ بازار کی مشہورِ زمانہ محفوظ پان شاپ پر کھڑا تھا کہ ایک گاہک نے دوکان کے اندر آویزاں ضیاء الحق کی تصویر کو دیکھ کر اسے ہاتھ کے اشارے سے لعنت دی، اس کے بعد دوکان کے مالک نے جو ہنگامہ کھڑا کیا اس کو پورے بازار نے دیکھا دلچسپ بات یہ تھی کہ دوکاندار ضیاء کو دی جانے والی لعنت کو اسلام پر لعنت بھیجنے سے منسلک کر رہا تھا اور اس کا مؤقف صرف یہ تھا کہ مردِ مجاہد کی اہانت اسلام کی اہانت ہے، پاکستانی عوام چونکہ یہ مانتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور یہی وہ ملک ہے کہ جو اسلام کا قلعہ ہے تو یہاں کی ہر چیز ہی اسلامی ہے ۔ مثلاً عام لوگ اپنی فوج کو اسلامی فوج تصور کرتے ہیں ہمارا ایٹم بم اسلامی دنیا کا ایٹم بم ہے، جبکہ دوسری جانب عام لوگ جمہوریت کو انگریز کا نظام سمجھ کر اس سے بیزاری کا اظہار کرتے اور اس کو ایک لعنت سمجھتے ہیں کیونکہ اسلام میں جمہوریت نامی کوئی نظام موجود نہیں ہے، یہ عوامی رویہ ہمارے ملک کے ڈکٹیٹروں کے لیے بہت فائدہ مند رہا اور یہی وجہ رہی کہ ہمارے ملک میں حقیقی جمہوری رہنما پیدا نہ ہوسکے، پیٹرن یہ رہا کہ جو بھی آمر آیا اسکو کچھ عرصے میں جمہوریت کا دورہ پڑا اور جو بھی نام نہاد جمہوری لیڈر آیا اس پر آمر بننے کا بھوت سوار ہو گیا لہذا جمہوریت تو چھوڑیے آمریت بھی خالص شکل میں یہاں کبھی نہیں آ سکی۔



ہر آمر کی ناک کے نیچے کچھ سیاسی رہنما پیدا ہوئے جو آمر کو اسکے مقاصد پورا کرنے کی جمہوری و اخلاقی وجوہ تراش کر دیتے رہے اور آمر کے کمزور ہوتے ہی عوام کو جمہوریت کے فائدے بتانے لگ گئے، ہر سیاسی رہنما نے گزشتہ ڈکٹیٹر کو تو گالی دی لیکن موجودہ کی شان میں صرف قصیدہ پڑھا مثلا پیپلزپارٹی جب ڈکٹیٹر شپ پر لعنت بھیجتی ہے تو اس سے مراد ضیاء الحق کی ڈکٹیٹر شپ ہوتی ہے نہ کہ ایوب خان کی ۔میں نے آج تک کسی پیپلزپارٹی کے رہنما سے ایوب خان کو گالی پڑتے نہیں دیکھی اسی طرح جب ن لیگ ڈکٹیٹر شپ کو گالی دیتی ہے تو اس سے مراد پرویز مشرف کی ڈکٹیٹر شپ ہوتی ہے نہ کہ ضیاء الحق کی اور کچھ جماعتیں ایسی بھی ہیں کہ جن کو کسی ایک ڈکٹیٹر نے بنایا اور دوسرے نے بھی استعمال کیا جیسے ایم کیو ایم..



یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ آخر کیوں ہم عوام ڈکٹیٹرز کو پسند کرتے ہیں مجھے بظاہر اس کی دو وجوہات نظر آتی ہیں پہلی جو میں نے اوپر بیان کی کہ یہ چونکہ اپنی اساس میں ایک مذہبی معاشرہ ہے اور مذہبی ذہن کی مجبوری یہ ہے کہ وہ زندگی میں درپیش ہر معاملے کو سب سے پہلے مذہب کے ترازو پر تولتا ہے اور دوسری وجہ وہ وقتی آسودگی ہے جو آمرانہ ادوار میں ایک لالی پاپ کے طور پر لوگوں کو کچھ وقت کے لیے میسر آتی ہے ۔ آئیے دوسری وجہ پر پہلے بات کر لیتے ہیں۔



ہم میں سے اکثر نے یہ سنا ہوگا کہ ایوب خان کا دور اس ملک کا بہترین دور تھا آج کے نوجوان پرویز مشرف کے دور کو سرد آہ بھر کر یاد کرتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ مالی آسودگی بتاتے ہیں کہ ہم سکھی تھے اس کا سیدھا سیدھا سا ایک جواب یہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی کبھی مارشل لاء لگا تو وہ امریکہ کے مفادات کو پورا کرنے کے لیے لگا کم از کم ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی حکومتوں کا وجود صرف افغانستان میں امریکی مفاد کے لیے کام کرنا تھا ضیاء الحق اگر حکمران نہ ہوتے تو افغان جہاد نامی اصطلاح سے شاید دنیا واقف بھی نہ ہوپاتی اور اگر پرویز مشرف حکمران نہ ہوئے ہوتے تو وار آن ٹیرر شاید کبھی موثر نہ ہوپاتی، کیا یہ مخص اتفاق ہے کہ 77 میں ضیاء الحق آتے ہیں اور 79 میں روس افغانستان میں داخل ہوجاتا ہے اور پھر وہیں پھنس کر ٹوٹ جاتا ہے، کیا یہ بھی محض اتفاق ہے کہ 99 میں پرویز مشرف اقتدار پر قبضہ کرتے ہیں اور 2000 میں نائن الیون کا واقعہ ہوجاتا ہے اور افغانستان میں پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہو جاتی ہے، اور وہی لوگ کہ جن کو امریکی اور ضیا الحق مجاہدین کہتے تھے انہی کو دہشت گرد اور انتہا پسند کہا جانے لگتا ہے، یقینی طور پر یہ اتفاقات نہیں ہیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پہلے پاکستان میں فوجی حکومتوں کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے اور پھر منصوبے کو آگے بڑھانے میں ان سے کام لیا جاتا ہے اور اس سب کی قیمت کے طور پر پاکستان کو بھاری امداد موصول ہوتی ہے۔ مثلا پرویز مشرف کے زمانے میں یہاں یورپی اور امریکی اداروں نے این جی اوز کے ذریعے بے پناہ پیسہ خرچ کیا ہر گلی ہر نکڑ پر این جی اوز کھلنے لگیں اور ہر ایک کی فنڈنگ کوئی انٹر نیشنل ڈونر کر رہا ہوتا تھا اور اب انکشافات ہو رہے ہیں کہ کئی این جی اوز منشیات اور اسلحے کی سپلائی لائنز کے طور پر کام کر رہیں تھیں لہذا یہ جو مالی آسودگی والا معاملہ ہے وہ تو سیدھا سیدھا ہے کہ جب کسی طاقتور کو کسی کمزور سے کوئی کام لینا ہو تو وہ سب سے پہلے اسکو مالی آسودگی فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اس مقصد پر فوکس کر سکے کہ جس کے لیے اس کو ہائیر کیا گیا ہے باہر سے آنے والے پیسوں کا کچھ حصہ عوام پر خرچ کر کے مہنگائی کم کرکے عوام کی حمایت کو پکا کیا جاتا ہے تاکہ کسی قسم کا عوامی احتجاج سر نہ اٹھائے جبکہ دوسری جانب سیاسی لیڈروں کو جیلوں میں بند کرکے یا پھانسیاں دے کر عوام میں موجود اس غصے کی بھی ترجمانی کر دی جاتی ہے جو وہ خودان لیڈرز پر نہیں نکال پاتے جیسے ضیاء نے بھٹو کو پھانسی دی اور پرویز مشرف نے نواز شریف اور بینظیر کوجِلا وطن کیا.



آئیے اب دوسری وجہ پر غور کرتے ہیں آپ ذرا ہمارے قومی ہیروز پر غور کیجیے غزنوی، غوری، ابدالی، محمد بن قاسم یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو ہمارے نصاب اور ریاستی بیانیے نے ہیرو بتایا ہے ہم اگر ان اشخاص کے کارناموں کو ایک منٹ کے لیے گفتگو سے باہر رکھ کر صرف ان کی مزاج اور طرز عمل پر غور کریں تو ایک پولیٹیکل سائنس کا طالبعلم با آسانی یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ آمرانہ مزاج کہ لوگ تھے جن میں کسی دوسرے کی رائے کی کوئی اہمیت نہ تھی بلکہ کسی اور کی رائے کو یہ تمام لوگ دراندازی تصور کیا کرتے تھے..

ہمارے لوگوں میں ان کی پسندیدگی کی سب سے بڑی وجہ انکا مسلمان حکمران ہونا ہے کہ جس نے غیر مسلم آبادیوں کو تہس نہس کر دیا، یہ ہمارے لیے بہت فخر کی بات ہے کہ سلطان محمود غزنوی نے سومنات کے مندر پر سترہ حملے کیے لیکن یہ بات کم ہی لوگوں نے مانی کہ حملہ کرنے والےسومنات میں رکھے بتوں کو گرانے سے زیادہ دلچسپی اس سونے کے خزانے میں رکھتے تھے جو وہاں پر موجود تھا کیونکہ اگر بت شکنی ہی مقصد تھا تو ہندوستان میں اس وقت بھی ہزاروں لاکھوں مند تھے اور ان میں بت بھی موجود تھے لیکن کیا وجہ رہی کہ سلطان نے صرف سومنات کا ہی بار بار انتخاب کیا؟



ایک محاورہ ہے
کھادا پیتا لاہے دا
باقی احمد شاہے دا
یہ محاورہ یوں بنا کہ احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان پر سات حملے کیے تو لوگوں نے کہا کہ جو بھی ہے کھا پی جایا کرو کیونکہ جوڑنے اور سنبھال کر رکھنے کا فائدہ اس لیے نہیں کہ جو جمع پونجی ہوگی وہ احمد شاہ ابدالی آئے گا اور لوٹ کر لے جائے گا، یعنی لوگ اس ڈر سے کچھ بچا کر رکھتے ہی نہیں تھے کہ احمد شاہ ابدالی لوٹ کر ہی نہ لے جائے لیکن آج ہمارے ایک میزائل کا نام ابدالی ہے اور وجہ صرف یہ ہے کہ وہ ایک مسلمان حکمران تھا کہ جس نے ہندوستان کے ہندوؤں کی کئی بار اینٹ سے اینٹ بجائی تھی..



محمد بن قاسم کو فاتح ہند بتایا جاتا ہے کیونکہ اس نے اپنے چچا اور سسر بدنام زمانہ عرب حکمران حجاج بن یوسف کے حکم پر سن 712 میں ہندوستان کے ساحل دیبل پر آٹھ ہزار فوجیوں کے ساتھ حملہ کیا حکم یہ تھا کہ دیبل کا ایک بھی شخص زندہ نہیں بچنا چاہیے سندھ کے آخری راجے راجہ داہر پر یہ الزام تھا کہ اس نے ایک مسلمان عورت کو قید کر رکھا ہے اور اس عورت کی درد بھری داستان حجاج تک پہنچی اور اس نے اس عورت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہ حملہ کیا راجہ داہر کو مار دیا گیا اور سندھ اسلام کے زیر نگیں آ گیا، لیکن یہاں بات ختم نہیں ہوتی محمد بن قاسم نے اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا اور ملتان تک کا علاقہ فتح کیا کہ جو دیبل سے ایک ہزار سے زائد کلومیٹر کی دوری پر ہے سوال یہ ہے کہ ملتان میں اس وقت کس مسلمان پر کون سا ظلم جاری تھا؟ اور فاتح ہند کے برصغیر میں ایک روایت کے مطابق چار اور ایک کے مطابق چھ سالہ قیام کے مقاصد کیا تھے؟؟ ایک عورت کی داد رسی کے لیے آپ نے ایک سے ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کے علاقے پر حملہ کرکے وہاں پر قبضہ کیا مقامی لوگوں کی نسل کشیُ کی جبکہ تاریخ ہمیں حجاج کے اپنے حرم میں چھ سو عورتوں کی موجودگی کی مخبری کرتی ہے نہ آج تک اس عورت کہ جس کی آہ سن کر محمد بن قاسم برصغیر آئے تھے کا نام پتہ چلا نہ ہی راجہ داہر کی موت کے بعد اس کا کیا بنا یہ پتہ چلا، جو پتہ چلا وہ یہ کہ محمد بن قاسم کو واپس بلا کر قید کر لیا گیا اور آخر کار وہ مصلوب کر دیئے گئے ایک جھوٹی سچی روایت یہ بھی ہے کہ انکو زندہ ایک جانور کی کھال میں سی کر آگ لگوا دی گئی لیکن جو بھی سلوک ہوا وہ ایک فاتح ہندکہ جس نے اسلام کی دیرینہ خدمت سرانجام دی تھی اس کے شایان شان نہیں تھا ۔

ہمارے ایک استاد کہا کرتے تھے کہ جن ہیروز کے کارنامے ہم اپنے بچوں کو فخریہ پڑھاتے کبھی ان کے انجام بھی پڑھائیں تو دیکھیں کہ بچے ان کو کہاں رکھتے ہیں..
آخر میں صرف یہ کہ جتنا مارجن اور جتنی غلطیوں سے درگزر ہم آمریت کی کرتے ہیں اگر اس کا آدھا بھی ہم جمہوری نظام کے لیے کریں تو ہم یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں بہتر حکمران نصیب ہو سکتے ہیں کیونکہ آمریت نے دنیا کو اگر مسولینی اور ہٹلر دیے تو جمہوریت نے نیلسن منڈیلا، چئیرمین ماؤ، جناح، گاندھی اور ابراہم لنکن دییےاگر آمر کا نام ایوب خان تھا تو جمہوریت فاطمہ جناح جیسی خوبرو تھی، اگر آمریت ضیاء الحق کو سامنے لائی تو جمہوریت ذوالفقار علی بھٹو کو اگر آمریت کی شان پرویز مشرف ہے تو جمہوریت کے ماتھے کا جھومر بینظیر بھٹو ہے یہ فیصلہ ہمیں اور آپ کو کرنا ہے کہ ہمارے مستقبل کا فیصلہ ایوب خان کرے کہ فاطمہ جناح، ضیاء الحق کرے کہ ذوالفقار علی بھٹو یا پھر پرویز مشرف میری تقدیر لکھے کہ بینظیر شہید اگر جلد ہم نے یہ فیصلہ نہ کیا تو 712 میں سے کبھی 7 نکلتا رہے گا تو کبھی 12..

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker