حیرت کدے میں حیرت ۔۔۔یہ ہے ہماری سوسائٹی میں کسی نظریے doctrine سے ٹوٹ کر محبت کرنے، جاگتی آنکھوں سے دیکھے مناظر اور اپنے جسم و جان پر بیتنے والے المیوں کو لبوں تک لانے کے عذاب کا نوحہ۔۔۔
ڈاکٹر علی شاذف باقری کا اولین شعری مجموعہ ۔۔جب وہ یہ کہتا ہے کہ؛
”ادبی دنیا میں اس وقت مسخروں کا راج ہے،مسخروں اور جگت بازوں کوبین الاقوامی مشاعروں میں مہمانِ خصوصی بنایا جاتا ہے،کچھ شاعر ٹک ٹاکر بن چکے ہیں۔یہ معاشرے کے زوال کی نشانی ہے،شاعر اور ادیب معاشرے کا چہرہ ہوتے ہیں،یہ چہرہ مسخ کر دیا گیا ہے۔،،
تو وہ کس قدر ایمان داری سے سچ بول رہا ہے، آئیے اس کا یہ مجموعہ پڑھئیے،
اعلانِ انا الحق کرنے والا علی شاذف۔۔۔ جب آپ اس کے حیرت کدے میں آئیں گے، اس کے درودیوار پر لکھی عبارت کو غور سے پڑھیں گے تو آپ کو یہ شاعری متداول شعری نصابوں سے الگ خوشبو اور ذائقہ دے گی۔۔۔۔میں یہاں ایک غزل کے تین چار شعر مشتے از خروارے کے طور پر نقل کرتا ہوں
زندگی میں ذائقہ شامل کرو
چائے میں اک قہقہہ شامل کرو
اے مصور،عکس حرکت بھی کرے
اس میں رنگِ ارتقا شامل کرو
لا فتیٰ لکھو کتابِ زیست میں
اور بابِ کربلا. شامل کرو
زندگی شاذف بڑی بے رنگ ہے
اس میں جینے کی وجہ شامل کرو
یہ خوبصورت مجموعہ،رضی الدین رضی نے اپنے ادارے” گردو پیش “سے شائع کیا ہے۔
فیس بک کمینٹ

