ڈاکٹر علی شاذفلکھاری

ڈاکٹر علی شاذف کا کالم : سرمایہ داری اور تعلیمی مقابلے بازی

میں اس وقت کوئٹہ روانگی کے لیے لاہور کے ہوائی اڈے پر موجود ہوں۔ فلائٹ ہمیشہ کی طرح تاخیر کا شکار ہو چکی ہے ۔کلور کوٹ سے کامریڈ رانا جمیل ساحل نے کچھ دیر پہلے اطلاع دی ہے کہ نوجوان سیکنڈ لیفٹیننٹ عثمان کی لاش نہر سے برآمد کر لی گئی ہے اور اس وقت اس کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔ میرے پاس یہ کالم لکھنے کے لیے اب بہت وقت ہے۔
بچپن سے ہمیں مذہبی اخلاقیات پڑھائی جاتی ہیں اور یہ ہمارے خمیر میں شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک مذہبی سبق حسد کے بارے میں بھی پڑھایا جاتا ہے کہ یہ نہیں کرنا چاہیے بالکل ایسے ہی جیسے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، چوری نہیں کرنی چاہیے اور غیبت کرنا بری بات ہے وغیرہ وغیرہ۔۔
مذہبی کہانیوں میں لکھا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام زمین پر آنے والے پہلے انسان تھے۔ وہ کیسے زمین پر آئے اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے لیکن وہ ہمارا آج کا موضوع نہیں ہے۔ آدم کے ساتھ ہی حوا نامی خاتون بھی اس سیارے پر اتریں۔ ان دونوں کے کئی بچے پیدا ہوئے۔ ان میں پہلے دو بچے ہابیل اور قابیل تھے۔ ان کی اپنی بہنوں سے شادیاں ہونا شروع ہو گئیں اور یوں حضرت آدم علیہ السلام کی نسل آگے بڑھنے لگی.
پھر اس مذہبی کہانی نے ایک عجیب و غریب موڑ اختیار کیا. ہابیل اور قابیل کی شادیا‍ں ان کی باریاں آنے پر ہوا کرتی تھیں. ایک موقع پر ہابیل کی باری تھی لیکن قابیل نے دیکھا کہ ہابیل والی دلہن بہت حسین تھی. وہ مذہبی تاریخ میں حسد کے جذبے کا شکار ہونے والا شاید پہلا آدمی تھا. یہ حسد ایک عورت کی ملکیت پر تھا. اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ مذہب نے انسان کو اس کی ابتدا سے ملکیت کا تصور دیا ہے. علاوہ ازیں اس نے عورت کو انسان نہیں بلکہ ایک جنس کے طور پر پیش کیا ہے جسے مرد اپنی ملکیت بنا کر رکھ سکتا ہے. قابیل نے جذبہء حسد کے زیراثر ہابیل کو قتل کردیا. یوں مذہبی تاریخ کے مطابق پہلا باقاعدہ جرم حسد کے نتیجے میں سرانجام دیا گیا.
اوپر بیان کی گئی تاریخ کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں. ایک تھیوری یہ ہے کہ ذاتی ملکیت، حسد، مقابلے بازی اور جنگوں وغیرہ کا تصور انسانیت کے آغاز میں موجود نہیں تھا. ابتدا میں انسان زمین پر موجود ہر چیز پر سب انسانوں کے مشترکہ حق کا قائل تھا. اسے primitive communism یا قدیمی اشتراکیت کہا جاتا ہے. اس زمانے میں غربت، غلامی اور استحصال جیسی اصطلاحات وجود نہیں رکھتی تھیں.
کامریڈ کارل مارکس کے مطابق سرمایہ داری کا تصور انسانوں میں سرپلس ویلیو یعنی محنت کش انسان کی محنت کی قیمت سے زائد قیمت یا منافع کے حصول کے لالچ کے ساتھ پیدا ہوا. سرمائے کے لالچ کا جذبہ بہت سے محنت کشوں سے آگے نکل کر ان کے ذرائع پیداوار پر قبضے کی صورت میں ظاہر ہوا. یوں چند انسانوں کے بہت سے محنت کش انسانوں پر اس سرمایہ دارانہ استحصال نے طبقاتی تقسیم کی بنیاد رکھی. سرمایہ دارانہ نظام اس وقت تقریباً ساری دنیا میں رائج ہے. یہ نظام چونکہ تمام انسانوں کو برابری کی سطح پر ان کے حقوق فراہم نہیں کر سکتا اور اس کی بربریت انسانوں میں دن بدن بڑھتی ہوئی شدید غربت، بھوک، مہنگائی، بےروزگاری، معیاری تعلیم اور صحت کی فراہمی میں ناکامی، جنگوں، نفسیاتی امراض اور خودکشیوں اور قتل جیسے جرائم کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے، اس لیے یہ خود بخود اپنے زوال کی جانب گامزن ہے. دنیا کی آبادی کی اکثریت سرمایہ دارانہ نظام سے اکتا چکی ہے اور ایک ایسے نئے انقلابی نظام کی طرف دیکھ رہی ہے جو انہیں اس ناسور سے نجات دلا سکے. مارکس کا پیش کردہ اشتراکی نظام اس وقت ظلم اور جبر کے سرمایہ دارانہ نظام کا واحد نعم البدل ہے کیونکہ یہ انسان کو اپنی حاصل کردہ مادی ترقی کے ساتھ ہی اسے بتدریج عالمی اشتراکیت کی طرف لے کر جاتا ہے جس میں ذرائع پیداوار محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں ہوں گے.
موجودہ نظام میں معاشی لحاظ سے تین بڑے طبقات موجود ہیں، بالائی طبقہ، درمیانہ طبقہ اور سب سے نچلا اکثریتی محنت کش طبقہ. لالچ، حسد، مقابلے بازی، ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر اور روند کر یا کچل کر آگے بڑھنے کا جنون اس وقت سب سے زیادہ متوسط طبقے میں پایا جاتا ہے. اس طبقے کے بچوں کو والدین اور معاشرے ایک طرف مذہبی اخلاقیات کا درس دیتے ہیں اور دوسری طرف ان میں تعلیم کے میدان میں مقابلے بازی کا جذبہ بھی پیدا کرتے ہیں. سرمایہ دارانہ نظام کے حامی موٹیویشنل اسپیکر تعلیمی مقابلے بازی کو ایک “صحتمند” جذبہ اور زندگی میں “ترقی” کرنے کا زینہ قرار دیتے ہیں. اس کے لیے وہ چند سرمایہ داروں جیسے بل گیٹس اور مارک زکربرگ وغیرہ کی مثالیں دیتے ہیں کہ کیسے ان چند افراد نے “محنت” کے بل بوتے پر اعلی معاشی مقام حاصل کیا. وہ تمام نوجوانوں کو یہ فریب دیتے ہیں کہ اگر آپ بھی تعلیمی میدان میں محنت کریں تو سرمایہ دار بن سکتے ہیں.
نوجوان طلباء و طالبات میں موجود تعلیمی مقابلے بازی عام طور پر علم کے حصول نہیں بلکہ معاشی مستقبل سنوارنے یا معاشی “کیریر” بنانے کے لیے کی جاتی ہے. عموماً اس میں بچوں کے فطری رجحان کی طرف توجہ نہیں دی جاتی بلکہ انہیں ان شعبوں کی طرف جانے پر مجبور کیا جاتا ہے جن سے ان کا معاشی مستقبل محفوظ ہو سکے. طلباء و طالبات اس تعلیمی مقابلے بازی کے نتیجے میں کئی اندرونی اور بیرونی تضادات کا سامنا کرتے ہیں. مثلاً مقابلے بازی کے دوران حسد کے جذبے کا پیدا ہونا ایک بہت فطری بات ہے جسے دبانا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے.
سیکنڈ لیفٹیننٹ رانا عثمان لیاقت متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور حال ہی میں کاکول ملٹری اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہوئے تھے. انہوں نے اسی مہینے بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ پہلی دفعہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنا تھیں. وہ ملازمت اختیار کرنے سے پیشتر تعطیلات گزارنے اپنے آبائی قصبے کلور کوٹ آئے ہوئے تھے. یہاں وہ اپنے پرانے دوستوں اور رشتہ داروں سے مل رہے تھے اور اپنی شاندار تعلیمی اور معاشی کامیابی پر مبارکبادیں وصول کر رہے تھے. ان کے دوستوں میں ایک بہت قریبی دوست “تصور” بھی شامل تھا. تصور اپنے دوست عثمان کی بہترین تعلیمی کارکردگی، کامیابی اور اعزازات کی وجہ سے ان سے شدید حسد کرتا تھا. اسی حسد کے نتیجے میں اس نے عثمان کو بےدردی سے قتل کر دیا اور ان کی لاش نہر میں بہا دی. پولیس نے تصور کو حراست میں لے لیا اور اس نے اقبال جرم بھی کر لیا. اس نے واضح طور پر قتل کی وجہ اپنے حسد کو قرار دیا. آج صبح کئی دن کی تلاش کے بعد عثمان کی لاش مل چکی ہے.
یہ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا ایک اور قتل ہے جس کی وجہ ایک عورت کی ملکیت نہیں بلکہ موجودہ سفاک سرمایہ دارانہ نظام ہے جو انسان کو دوستی کے جذبے اور عظیم انسانی مرتبے سے گرا کر ایک قاتل اور مجرم بنا دیتا ہے. اسی نوعیت کے بےشمار سانحات ہمیں آئے روز دیکھنے کو ملتے ہیں. اس ظالمانہ نظام سے نجات کا واحد راستہ ہر انسان کی مشترکہ معاشی خوشحالی ہے جو صرف اور صرف مسلسل عالمی سوشلسٹ انقلاب سے ممکن ہے. ہمیں نوجوانوں میں طبقاتی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سوشلسٹ انقلاب برپا کر کے جدید منصوبہ بند عالمی معیشت کی تکمیل کے لیے تیار ہو سکیں.

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker