امر جلیلکالملکھاری

امر جلیل کا کالم:دلیپ اور دیوداس

آج باتیں ہوں گی دلیپ کمارکے بارے میں… دلیپ کے حوالے سے ہم سب سے پہلے بات کریں گے اپنے رویوں کی۔ انیس سو سینتالیس میں انگریز سرکار نے ہندوستان کا بٹوارہ کیا تھا، اور پاکستان وجود میں آیا تھا، تب دلیپ کمار کی دوسری یا تیسری فلم جگنو ریلیز ہوئی تھی۔ فلم جگنو میں نے بندر روڈ پر واقع رادھے سینما میں دیکھی تھی۔ متروکہ جائیداد کے طور پر رادھے سینما جن صاحب کو ملا تھا، انہوں نے رادھے سینما کا نام بدل کر ناز سینما رکھا تھا۔ آج کل ناز سینما کی جگہ کپڑے لتے کی مارکیٹ ہے۔ سپرہٹ فلم جگنو کے ریلیز ہونے کے بعد دلیپ کمار کے لئے بے پناہ شہرت کےدروازے کھل گئے تھے۔ اس کے بعد دلیپ کمار نے پلٹ کر کبھی پیچھے نہیں دیکھا۔ ہر سال دلیپ کی ایک کے بعد ایک سپرہٹ فلمیں ریلیز ہونے لگیں۔ جوگن، انداز، دیدار، شہید، داغ، بابل، ہلچل وغیرہ۔
انیس سو چون میں، یعنی آج سے چھیاسٹھ برس پہلے دلیپ کی معرکہ آرا Outstanding فلم دیوداس ریلیز ہوئی تھی۔ بنگالی ادب کے بے مثال ادیب سرت چندر چیٹر جی کے ناول دیوداس پر مبنی فلم دلیپ کمار کی زندگی کی علامتی فلم ثابت ہوئی۔ میں نے کئی بار ناول دیو داس پڑھ کر دیکھا۔ کئی بار میں نے فلم دیوداس دیکھی۔ میں نے محسوس کیا کہ سرت چندر نے ناول دیوداس دلیپ کمار کیلئے لکھا تھا۔ مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ دیو داس کا کردار کرنے کیلئے دلیپ کمار نے جنم لیا تھا۔ ان دنوں میں کالج میں تھا۔ دلیپ میرے لئے رول ماڈل Role model، میرے ہیرو بنتے گئے۔ عظیم وکٹ کیپر بیٹس مین امتیاز احمد کی شخصیت کا جس طرح باریک بینی سے میں نے مطالعہ کیا تھا اور وہ میرے ہیرو بن گئے تھے، عین اسی طرح دلیپ کی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ میں دلیپ کے ظاہر اور باطن کو سمجھنے کی سعی نہیں کررہا تھا، بلکہ ایک ناول پڑھ رہا تھا۔ دلیپ اپنی ذات میں مکمل ناول تھے۔ جب آپ حیران ہوتے ہیں۔ تب آگاہی کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔ سرت چندر کا ناول دیو داس انیس سو سترہ میں شائع ہوا تھا۔ پانچ برس بعد، انیس سو بائیس میں دلیپ پیدا ہوئے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ فلم دیو داس میں دیوداس کا کردار کرنے سے پہلے دلیپ کمار نے کتنی مرتبہ ناول دیو داس کا مطالعہ کیا تھا۔ مگر دلیپ کی عادت تھی کہ وہ فلم میں کام کرنے سے پہلے فلم کے اسکرپٹ، اسکرین پلے کا بغور مطالعہ کرتے تھے۔ مکالموں میں تبدیلی کی اجازت لیتے تھے۔ وہ اتنی مرتبہ اسکرپٹ، مکالمے اور اسکرین پلے پڑھتے تھے کہ فلم میں تحلیل ہوجاتے تھے۔ فلم کی کہانی کا جیتا جاگتا کردار بن جاتے تھے۔ پچھلے ایک سو برس سے سرت چندر چیٹر جی کا ناول دیوداس مختلف زبانوں میں شائع ہورہا ہے۔ ناول پر آج تک اسٹیج ڈرامے، سیریل اور فلمیں بن رہی ہیں۔ کچھ برس ہوئے، شاہ رخ خان نے فلم دیوداس میں دیوداس کا کردار کیا تھا۔ دلیپ کمار کی فلم دیوداس سے بہت پہلے کے ایل سہگل نے فلم دیوداس میں دیوداس کا رول کیا تھا۔ اپنے گانے سہگل نے خود گائے تھے۔ ان گنت اسٹیج ڈراموں اور بنگالی ٹیلیوژن سیریلیز آنے کے بعد انمان یقین میں بدل جاتا ہے کہ سرت چندر نے ناول دیوداس دلیپ کے لئے لکھا تھا۔ اور یہ کہ دیوداس کو ناول کے پنوں سے نکال کر زندہ و جاوید کرنے کے لئے دلیپ کمار نے جنم لیا تھا۔
دلیپ کو انگریزی اور اردو ادب پر دسترس تھی۔ ابتدائی فلموں، ندیا کے پار، آرزو، شبنم، اور شہید میں ان کی ہیروئن تھیں کامنی کوشل… کامنی کوشل اعلیٰ تعلیم یافتہ، پڑھی لکھی اور ادبی ذوق رکھنے والی تھیں۔ نرم اور شائستہ لہجے میں بولتی تھیں۔ بہت خوبصورت تھیں۔ ان دنوں انگریزی فلمی مخزن فلم فیئر Filmfare میں دلیپ اور کامنی کے انوکھے رومان کی کہانیاں اور قصے شائع ہوتے رہتے تھے۔ قصے کہانیاں پڑھ کر، اور ان دونوں کی فلمیں دیکھ کر لگتا تھا کہ دلیپ اور کامنی ایک دوسرے کے لئے پیدا ہوئے تھے۔ یہ باتیں فلم دیوداس بننے سے پانچ چھ برس پہلے کی ہیں۔ جس المناک سانحہ سے دیوداس کو گزرنا تھا، دلیپ کو ایسے ہی المناک سانحے سے چھ برس پہلے گزرنا پڑا تھا۔ فلم شہید کی شوٹنگ کے دوران دلیپ اور کامنی کے درمیان طے ہوچکا تھا کہ فلم شہید مکمل کرنے کے بعد وہ شادی کرلیں گے۔ المیے دستک نہیں دیتے۔ اچانک نازل ہوتے ہیں۔ کامنی کوشل کی بڑی بہن کا انتقال ہوگیا۔ وہ دو بچے چھوڑ گئی تھیں۔ بچوں کی پرورش کی خاطر فیملی نے منت سماجت کرکے کامنی کو اپنے بہنوئی سے شادی کرنے کیلئے آمادہ کرلیا۔ دلیپ اور کامنی، عین دیوداس اور پاروتی کی طرح ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئے۔ کامنی کوشل اس وقت 95برس کی ہیں۔ پچھلے دنوں دلیپ کمار کے انتقال پر میڈیا کے سوال کا ٹوٹے ہوئے لہجے میں جواب دیتے ہوئے کامنی نے کہا تھا، ’’لوگ ہم دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر خوش ہوتے تھے‘‘۔
فلم دیوداس میں دیوداس کا ناقابل فراموش رول کرنے سے بہت پہلے دیوداس، دلیپ کے اندر، ان کے شعور اور لاشعور میں موجود تھا۔ کامنی کوشل کو کھونے سے پہلے دلیپ کو فلم میلہ میں موہن کا کردار کرتے ہوئے بچپن کی محبت منجو سے بچھڑنا پڑا تھا۔ دیوداس کی پاروتی کی طرح منجو کو بھی ایک بوڑھے سے بیاہ دیتے ہیں۔ منجو کا کردار نرگس نے کیا تھا۔ آج مجھے لگتا ہےکہ فلم میلہ میں محمد رفیع کا گایا ہوا گیت ’’یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے، افسوس ہم نہ ہوں گے‘‘۔ دلیپ کی ترجمانی کرتا ہے۔
دلیپ کمار اپنے آخری ایام تک دیوداس تھے۔ خاموشی سے اور کبھی مسکرا کر المیے اپنا لیتے تھے۔ دلیپ کے حوالے سے مزید باتیں ہوں گی اگلے منگل کے روز۔ آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ دلیپ پچاس برس تک NAB کے سرکردہ رہے تھے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker