ایم ایم ادیبکالملکھاری

امریکی معاشرہ اور نسلی امتیاز۔۔ایم ایم ادیب

نسلی امتیاز یامنافرت امریکہ کا بڑا مسئلہ رہا ہے ،امریکی اقتدار بھی ہمیشہ سفید فام امریکیوں کا مقدر رہا ہے ۔لاطینی ،سیاہ فام امریکی اور ریڈ انڈین امریکہ کی دھرتی پر کبھی شاد آباد نہیں رہے ۔سیاہ فام امریکیوں کی قسمت کا ستارہ باراک اوباما کے نام سے ایک ہی بار چمکا اور آٹھ سال تک اقتدار کے ایوانوں میں اس کی چاپ گونجتی رہی اور دومرتبہ اقتدار کے سنگھاسن پر متمکن رہنے کے بعد آخرکو سیاہ فام باراک اوباما خوبصورت یادوں کا اثاثہ لئے وائٹ ہاؤس سے رخصت ہوئے،افسوسناک امر یہ ہے کہ امریکہ میں جب اوباما کی حکومت تھی سیاہ فامز کی قسمت اس وقت بھی نہیں بدلی۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو نسلی منافرت فقط امریکہ ہی کا مسئلہ نہیں ہے ،برطانیہ میں معمولی تعداد میں سہی مگر سیاہ فام موجود ہیں ،وہاں بھی نسلی اعتبار سے انہیں امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہے ،یہاں تک کہ برطانیہ نے اس چھوٹی سی اقلیت کو ویلس کی پہاڑیوں کی جانب دھکیل دیا تھا ،اسی طرح جاپان نے بھی اپنے قدیم باشندوں کو شمال کی طرف پناہ لینے پر مجبور کر دیا تھا،اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ تعصب کسی ایک قوم کا وطیرہ نہیں رہا اور نا ہی اس کا تعلق کسی مہذب یا غیر مہذب ملک سے وابستہ ہے بلکہ نسلی منافرت ایک ایسا منہ زور بیل ہے جسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مہذب ترین معاشرے بھی نکیل ڈالنے میں بے نیل ومرام رہے ہیں۔
مورخ آرنلڈ ٹوائن بی کے ساتھ بیسویں صدی کے چھٹے یا ساتویں عشرے میں جاپانی دانشور اور مورخ دائیساکو اکیدا کے ساتھ ایک مکالمے میں کہتے ہیں کہ ”تعصبات جیسے بھی ہوں پیچیدہ مسئلہ ہیں اور جذبات پر مبنی تعصبات جیسے کہ امریکہ میں پائے جاتے ہیں زیادہ پریشان کن ہوتے ہیں ۔امریکہ کے عوام اور حکومت نسلی حالات کو بہتر بنانے کی جتنی بھی کوشش کرتے رہے ہیں اس پیچیدگی میں کمی نہیں لاسکے ،کچھ امریکی ایسے بھی ہیں جنہوں نے سیاہ فاموں اور امریکی انڈینز کےلئے علیحدہ ریاستوں کی تجویز پیش کی ،مگر جب تک فریقین کے درمیان نفرت موجود ہے ریاستیں قائم بھی ہوجائیں تو تنازع ختم نہ ہوگا ،اس لئے امن کے حصول کے لئے تعصب اور منافرت کا خاتمہ پہلی کڑی ہے “ اس مکالمے کے دوران آرنلڈٹائن بی نے کہا کہ ”مجھے خدشہ ہے کہ دونوں ہی سیاہ فام اور سفید فام جو آزاد ریاستوں سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں ،زیادہ ہی خوش گمان ہیں ۔کچھ امریکی انڈین امریکہ کے اندر خود مختار ریاستیں چاہتے ہیں مگر ان کے تحفظات کی تاریخ مایوس کن ہے ،ان کو بد ترین زمین دی گئی ہے اور بد ترین طریقے سے ان پر حکومت کی جارہی ہے ۔
جنوبی افریقہ کے سفید فام سیاہ فاموں کو آزادریاستوں کے نام پر بدترین نعم البدل دے رہے ہیں مگر ان کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں ۔امریکہ کے سیاہ فام اور سفید فام باشندوں کو مساوات ،اخوت اور باہمی دوستی کی بنیادوں پر اکٹھا رہنا پڑےگا“۔ آج نصف صدی بیت جانے کے بعد بھی مذکورہ دونوں دانشوروں کی خواہش تشنہ¿ تکمیل نظر آتی ہے، حالات جوں کے توں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ دگر گوں۔
پہلی جنگ عظیم جو 28جولائی 1914سے 11نومبر1918تک رہی اس میں تین لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ سیاہ فام نے مغربی محاذ پر خدمات سرانجام دیں،اسی طرح دوسری جنگ عظیم جو 1939ءمیں شروع ہوئی اور 1945ءمیں اس کاخاتمہ ہوا اس میں بھی لاکھوں سیاہ فام مختلف محاذوں پر لڑتے رہے مگر نسلی امتیا ز ہمیشہ ان کی جان کا وبال رہا۔
1948ءمیں صدر ٹرومین نے ایک انتظامی حکم کے تحت امریکی فوج میں نسلی امتیاز کے خاتمے کی ایک یادداشت پر دستخط کئے مگر سفید فام امریکی فوج نے اس حکم پر عمل داری نہیں دکھائی۔سیاہ فام کے ساتھ زندگی کے ہر محاذ پر امتیازی سلوک روارکھا گیا 1968ءمیں انسانی اور شہری حقوق کے علمبردار ماٹن لاتھرکنگ کو ہلاک کیا گیا تو تقریباََ ایک سو بیس امریکی شہر فسادات کی زد میں آئے ۔انیس سو بانوے میں لاس اینجلس میں ایک امریکی عدالت نے ایک سیاہ فام شہری روڈنی مارٹن کو تشدد سے ہلاک کرنے والے ایک سفید فام پولیس اہلکار کو رہا کر دیا ،اس پر بھی بڑے لیول پر احتجاج ہوا ۔ 2015ءمیں بالٹی مور میں فرائیڈے گرے نامی سیاہ فام کو پولیس تشدد کے ذریعے ہلاک کردیا گیا اور ہنگامے اس قدر فروتر ہوئے کہ بالٹی مور میں ایمرجینسی کے بعد کرفیو لگانا پڑا۔
27اگست 2014ءمیں ڈان اخبار میں لکھے گئے ایک مضمون میں تجزیہ نگا ر ماہر علی لکھتے ہیں ” امریکہ میں پولیس کی جانب سے سیاہ فام لوگوں کو نشانہ بنایا جانا معمول کی بات ہے ،ملک بھر میں پولیس فورس کو آرمی کے سر پلس ہتھیایاروں سے لیس کر دیا گیا ہے ،بکتر بند گاڑیوں اور جنگی لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں کے مناظر نے کچھ لوگوں کو فرگوسن کو فرگوستان کہنے پر مجبور کردیا ہے یہ واقعات ماینڈسیٹ کی وجہ سے جنم لیتے ہیں ،جن کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں تک کی طرف سے سیاہ فام لوگوں کو سفید فام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ چیک کیاجاتا ہے “۔
امریکی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلوئیڈ کی ہلاکت ان ہلاکت خیز حالات میں کسی بڑے المیئے سے کم نہیں کہ جب امریکہ میں کورونا وائرس نے مرگ انبوہ کا سماں پیدا کیا ہوا ہے توملک میں ”خاص مائینڈسیٹ“ کے تناظر میں ہولناک بد امنی پیدا کی گئی ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پورے ملک میں فوجی ایمر جینسی کا عندیہ دے دیا گیا ہے یہاں تک کہ امریکی صدر نامعلوم مقام پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker