امجد اسلام امجدکالملکھاری

باقر نقوی۔۔امجد اسلام امجد

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے باقر نقوی بھائی سے پہلی ملاقات کوئی تیس سال قبل لندن میں ہوئی تھی کوئی شعری محفل تھی جس کے کرتا دھرتا عاشور کاظمی تھے اور جس میں دیگر احباب کے علاوہ ساقی فاروقی بھی شریک ہوئے تھے۔
باقر بھائی کا پہلا شعری مجموعہ ’’تازہ ہوا‘‘ انھی دنوں میں شایع ہوا تھا جس کی 22 جولائی 1988کی دستخط شدہ ایک کاپی اس وقت میرے سامنے ہے۔ ان سے آخری ملاقات تین چار برس قبل کراچی میں ہوئی تھی وہ پہلے سے قدرے کمزور نظر آرہے تھے مگر گفتگو کے خلوص، مسکراہٹ کی گرمی اور آیندہ تحریری منصوبوں کی تیاری کا جوش حسبِ سابق تھا اس وقت میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں ان سے آخری بار ہم کلام ہو رہا ہوں، سو اب ان کی رحلت کی خبر سن کر جیسے یادوں کا ایک طوفان سا امنڈ پڑا ہے۔
باقر بھائی پیشے کے اعتبار سے انشورنس سے متعلق تھے جب کہ شاعری ان کی پہلی محبت اور علمی تحقیق اور ترجمہ نگاری سے ان کو جنون کی حد تک وابستگی تھی۔ تینوں شعبوں میں انھوں نے بہت کامیاب زندگی گزاری اور ایسا وقیع خزانہ اپنی یادگار چھوڑا ہے جس کی مثال ان کے بہت ہی کم ہم عصروں میں بھی شاید ہی مل سکے۔
نوبل پرائز کے بانی الفریڈ نوبل کی زندگی اور خدمات پر ان کی کتاب اردو میں اگر اپنی نوعیت کی سب سے پہلی نہیں تو سب سے اہم کتاب ضرور ہے۔ اس کے بعد انھوں نے نوبل انعام اور اس کے انعام یافتگان کی زندگیوں، یادگاری خطبوں اور کارناموں پر تحقیق کا سلسلہ نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس کی تاریخ کو بہت حد تک ایک ایسی ترتیب بھی دے دی کہ اس انعام کو حاصل کرنے والے سو سے زیادہ ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں بنیادی اور مصدقہ معلومات ان تحریروں میں یکجا مل جاتی ہیں۔
آخری ملاقات کے دنوں میں وہ “مصنوعی ذہانت” کے موضوع، اس کی تعریف، وضاحت، وسعت اور امکانات پر ایک کتاب مکمل کرچکے تھے جو ایک بار پھر اردو کی حد تک ایک منفرد اور شاندار کتاب کہی جا سکتی ہے۔ مجھے یاد ہے ان کی کتاب الفریڈ نوبل کی افتتاحی تقریب اسلام آباد میں ہوئی تھی جس کی صدارت ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے کی تھی، اتفاق سے میں اس وقت اس کے اشاعتی ادارے اردو سائنس بورڈ کا سربراہ تھا اور اس تقریب میں بطور میزبان شریک تھا، مصنف اور ناشر کے شاعر ہونے اور کتاب کا موضوع سائنس سے متعلق ہونے کے حوالے سے ڈاکٹر قدیر خان صاحب نے بہت دلچسپ باتیں کی اور کہا کہ آپ دونوں کے حساب سے تو اب مجھے اور دیگر سائنسدانوں کو جوابی طور پر شاعری شروع کر دینی چاہیے۔
باقر نقوی بہت لائق اور محنتی انسان تھے اور ہمہ وقت کسی نہ کسی سنجیدہ کام میں مصروف رہتے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری بھی اہل ذوق اور صاحبان فکرونظر کی توجہ کا مرکز رہی کہ فطری رجحان طبع، نظریاتی جھکاؤ اور یورپ میں طویل قیام کی وجہ سے ان کا شعری مزاج بھی واضح طور پر ایک مخصوص انفرادیت کا حامل ہے کہ انسانی رشتوں، جذبوں اور اقدار کے حوالے سے وہ ایک بہت درد مند ، ذمے دار اور صاحب طرز لکھاری تھے۔ ان کے دو شعری مجموعے ’’تازہ ہوا‘‘ اور ’’موتی موتی رنگ‘‘کے صفحات کو آپ جہاں سے بھی پلٹیں گے اکثر شعر آپ کو نہ صرف چونکائیں گے بلکہ یہ سوال بھی دامن دل پر دستکیں دے گا کہ ایسا عمدہ اور تازہ گو شاعر اپنی زندگی میں وہ مقبولیت اور شہرت کیوں نہ پا سکا جس کا وہ صحیح معنوں میں حقدار تھا۔ بالکل غیر ارادی طور پر جن اشعار نے دامن پکڑا ان میں سے چند ایک بطور مثال دیکھے جاسکتے ہیں
پھول ہم نے کبھی مانگے نہ صبا مانگتے ہیں
ہم تو جینے کے لیے تازہ ہوا مانگتے ہیں
تو خدا ہے تو ہمیں بھی ہے وفا کا پندار
حق سمجھتے ہیں جو ہم تم سے دعا مانگتے ہیں
کوئی پوچھے جو کبھی گھر تو اسے گھر کہہ لیں
اور ہم ان درودیوار سے کیا مانگتے ہیں
……………
نہ جانے کون سا کس وقت کام آجائے
سوایک جیب میں بت ایک میں خدا رکھنا
یہ شعر جب میں نے ممبئی میں برادرم گلزار کو سنایا تو وہ بہت دیر تک اسے دہراتے رہے، تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ انھوں نے بھی اپنے ڈرائنگ روم میں اسلام، ہندومت، عیسائیت اور سکھ ازم کے مختلف مظاہر سجا رکھے ہیں کہ سب سے بنا کر رکھنی چاہیے کیا معلوم کون کس وقت کام آجائے؟
کلاہِ کذب و قبائے ریا سے بہتر ہے
کہ آدمی کے بدن پر کوئی لباس نہ ہو
ہے بس اتنا گرفتاروں کا احساس نشاط
آئی کچھ تازہ ہوا کچھ بند ڈھیلے ہو گئے
اب کے نظر آتے ہیں عجب پیاسوں کے تیور
پانی نہ ملے گا تو پیالا نہ رہے گا
فکر چہرے کی لکیروں کی کرو باقر میاں
دھیرے دھیرے ہو رہا ہے تم سے برہم آئینہ
آج اس پیارے ،خوش مزاج اور بالغ نظر انسان کی رحلت کی خبر نے پھر سے یہ احساس دلایا ہے کہ کس طرح ہم اپنے ارد گرد موجود اچھے انسانوں سے ملاقات کو بلاوجہ ٹالتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ایک دن وہ صرف اپنے کہے اور لکھے ہوئے لفظوں تک محدود ہو جاتے ہیں۔ میں نے ان کی کتاب ’’موتی موتی رنگ‘‘کے فلیپ میں ان کی شخصیت کے حوالے سے کچھ سطریں لکھی تھیں اپنے اور بعد میں رہ جانے والے تمام ادب دوستوں کی طرف سے یہی پھول ان کے ساتھ روانہ کرتے ہیں کہ ’’ باقر نقوی ایک جیسے خوش رو، خوش خو، دل آویز دلکش اور پرکشش انسان ہیں بعض اوقات ان کی شاعری پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایسے مرنجاں مرنج نظر آنے والے انسان کے احساسات فکر اور لہجے میں ایسی شدت کاٹ اور چیزوں کے باطن میں اتر کر انھیں سمجھنے کی ایسی زبردست بصیرت کہاں سے در آئی ہے؟ ان کے اندر کا شاعر باقر نقوی ایک ایسا دلیر پرجوش اور روایات کا باغی انسان ہے جو معاشرتی ناہمواریوں، دولت اور مراتب کی غیرمنصفانہ تقسیم اور انسان کے انسان پر ظلم اور استحصال کے خلاف صرف سوچتا ہی نہیں بلکہ اپنی اس سوچ کو زمانے بھر میں پھیلانا اور پھر اس کا مثبت نتیجہ بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ اپنے معاشرے سے ایسی گہری کمٹمنٹ کا نتیجہ ہے کہ کتنے برس وطن سے دور رہنے کے باوجود بھی باقر نقوی کی شاعری میں کہیں بھی کسی قسم کی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا وہ بلاشبہ شاعروں کی اس نمایندہ اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں جس کے حوالے سے کسی دور کو پہچانا اور پرکھا جاتا ہے۔‘‘
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker