تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : بپھری ہوئی سپریم کورٹ ، مولویوں کا غصہ اور یوم توبہ

دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی اسمبلیاں کورونا وائرس کے خلاف حکومتوں کی کارکردگی پر مباحث کررہی ہیں اور ان میں تصحیح اور بہتری کے لئے کوشاں ہیں۔ پاکستان میں عدالت عظمیٰ آئین کی شق 184(3) کے تحت سوموٹو اختیار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ کا ’کردار‘ خود ادا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ دنیا بھر کے لیڈر طبی ماہرین کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کی ساخت اور اس سے نمٹنے کے بہترین طریقے تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کا وزیر اعظم ملک کے علما سے ملاقاتیں کرکے یوم توبہ کا اہتمام کرنے پر اتفاق کررہا ہے تاکہ ناراض اللہ کو راضی کیا جاسکے۔
اللہ سے معافی مانگنا ہر شخص کا ذاتی فعل ہے۔ اس مقصد کے لئے وزیر اعظم، صدر مملکت، علمائے دین یا کسی اسمبلی و عدالت سے باقاعدہ اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ ملاقات کے دوران پاکستانی علما کے وفد نے یوم توبہ کا اہتمام کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور وزیر اعظم نے اس رائے پر صاد کیا۔ یہ رائے بھی ملک کے دینی علما کی ساختہ ہے کہ اللہ کی ناراضی کی وجہ سے کورونا کی صورت میں وبا ، اللہ کا عذاب بن کر پاکستان اور پوری دنیا پر نازل ہؤا ہے۔ اس رائے سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے اور اس حوالے سے دلائل بھی دیے جاسکتے ہیں۔ کسی بھی غیر متوقع مشکل کو اللہ سے منسوب کرکے صرف پاکستان کے مسلمان علما ہی سیاسی اہمیت اور سماجی قدر افزائی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کررہے۔ متعدد دوسرے عقائد سے تعلق رکھنے والے مذہبی پیشوا بھی دنیا بھر میں اسی قسم کے عذر سامنے لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن دوسرے ملکوں میں یہ کام انفرادی یا گروہی سطح پر کیا جارہا ہے اور لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے اور اپنے دائرہ اثر میں لانے کے لئے کورونا کو گناہوں کی سزا قرار دے کر اس مشکل سے نکلنے کے مختلف النوع طریقے سامنے لائے جارہے ہیں۔ تاہم پاکستان اور باقی سب ملکوں میں یہ فرق اب واضح ہورہا ہے کہ وہاں انفرادی سطح پر جو کام معاشرے کے چھوٹے چھوٹے گروہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، پاکستان میں وہی کام مین اسٹریم علمائے دین کررہے ہیں اور اب حکومت اس مشن میں ان کے ساتھ مل کر چلنے کا اعلان کررہی ہے۔
پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کے مشورہ پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان صدر میں نماز توبہ کا اہتمام کیا۔ یہ نماز وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کی امامت میں صدر مملکت کے علاوہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے ادا کی۔ گویا ریاست پاکستان کے نمائیندوں نے مل کر مملکت پاکستان میں آباد 22 کروڑ لوگوں کی طرف سے اپنے رب سے معافی مانگنے کا اہتمام کیا۔ بظاہر اللہ نے اس ’توبہ‘ کو قبول نہیں کیا۔ اب علما کے وفد نے وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران نماز توبہ کا اہتمام کیا جائے۔ کیوں کہ اسی طرح اللہ کے غضب کو کم کیا جاسکتا ہے اور کورونا وائرس کی صورت میں نازل ہونے والے عذاب سے مسلمانوں کی جان چھوٹ سکتی ہے۔ وزیر اعظم کے لئے اس رائے کو ماننا آسان تھا کیوں کہ یہ مشورہ انہیں بطور چیف ایگزیکٹو اپنی ذمہ داریوں سے چھوٹ دینے کا سبب بنتا ہے۔ اگر ملک کے سارے علما متفق ہیں کہ یہ وبا قہر الہیٰ ہے اور اس کا علاج توبہ کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے تو بیچارہ وزیر اعظم اس وبا سے نمٹنے کے لئے کیا کرسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ اللہ کے کام ہیں ۔ اسے کوئی حکمران تو درست نہیں کرسکتا۔ بس علما کے مشورہ کے مطابق سب مل کر نماز توبہ پڑھیں اور معافی مانگیں تو مسئلہ خود ہی حل ہوجائے گا۔ اگر حل نہ ہؤا تو سمجھ لیا جائے کہ اللہ ابھی تک ناراض ہے۔
علمائے دین کا یہ مشورہ تو یوں بھی وزیر اعظم عمران خان کے لئے پسندیدہ اور مرغوب ہوگا کہ آج ہی سپریم کورٹ نے کورونا وائرس کیس پر غور کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیمار صرف پانچ ہزار ہوئے ہیں اور حکومت نے اربوں روپے اڑا دیے اور ان کے استعمال میں کوئی شفافیت نہیں ہے۔ جب ملک بھر میں نماز توبہ ادا کرکے واضح کیا جائے گا کہ سب اللہ کو راضی کررہے ہیں تو عدالت عظمیٰ کے ججوں کی کیا مجال کہ وہ اس اصول کو تسلیم کرنے سے انکار کردیں اور حکومت کو ہی نااہلی اور غیر واضح پالیسی کا ذمہ دار سمجھیں۔ عدم شفافیت کا جو تاثر عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین پر بدعنوانی اور خزانہ لوٹنے کاالزام لگاتے ہوئے مستحکم کیا تھا، اب سپریم کورٹ کے ججوں کی زبانی شفافیت کا وہی ’تقاضہ‘ عمران خان سے کیا گیا ہے۔ اس چیلنج کا جواب دینے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ ملکی سیاست میں ہمیشہ بارھویں کھلاڑی کا کردار ادا کرنے والے علمائے دین کو ساتھ ملا لیا جائے۔ کورونا بحران کے عین بیچ علما کے وفد سے وزیر اعظم کی ملاقات اس باہمی لین دین کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
وزیر اعظم مدرسوں کو بلا سود قرضے فراہم کریں گے، بجلی پانی کے بل معاف کریں گے اور سرکاری پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مساجد کھولنے اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف اقدامات کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار مذہبی لیڈروں کو رہا کریں گے۔ اس کے جواب میں علمائے دین نے رمضان المبارک کے دوران عبادات کے لئے صدر مملکت کے توسط سے ہونے والے معاہدے کو وزیر اعظم کی ’اسلام دوستی اور انسان دوستی‘ قرار دیا ہے۔ اور یقین دلایا ہے کہ علما کورونا کی روک تھام کے لئے حکومت کے اقدامات کی مکمل حمایت کریں گے۔ یہ یقین دہانی لفظی جمع خرچ سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ صدر عارف علوی کے توسط سے طے پانے والا 20 نکاتی معاہدہ سے پہلے کہا گیا تھا کہ ’لاک ڈاؤن کا ا اطلاق مساجد پر نہیں ہوتا‘ ۔ یہ ریاست کی بالادستی سے علی الاعلان بغاوت تھی۔ حکومت نے اس اعلان کو ایک معاہدے کی شکل دے کر بظاہر اپنی شکست کو باعزت ’جنگ بندی‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی۔
ان نکات میں نماز ادا کرنے کے لئے جو شرائط رکھی گئی ہیں ، انہیں کنٹرول کرنے کا کوئی طریقہ حکومت کے پاس نہیں ہے لہذا یہ کام بھی مساجد کے سپرد کردیا گیا کہ وہ نگران کمیٹیاں بنا لیں تاکہ ان اصولوں کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے سب لوگ جانتے تھے کہ ان پر عمل نہیں ہوگا۔ نہ تو ایسا کوئی ارادہ دیکھنے میں آرہا ہے اور نہ ہی عملی طور سے یہ اہتمام کرنا کہ نماز باجماعت کے دوران ہر نمازی کے درمیان دو نمازیوں کا فاصلہ ہو اور دو صفوں کے درمیان 6 فٹ فاصلہ رکھا جائے۔ یا ہر نمازی منہ پر ماسک لگا کر نماز ادا کرے اور مسجد میں قیام کے دوران سماجی دوری کے اصولوں پر عمل کرے۔ پاکستان جیسے بد انتظام معاشرے میں کون منتظم ہے جو ان اصولوں پر عمل درآمد کروائے گا؟ اگر ایسی کوئی نیت موجود ہوتی تو سب سے پہلے معاہدے پر دستخط کرنے والے سارے علما یہ حلف نامہ جمع کرواتے کہ وہ خود چونکہ پچاس برس سے زائد عمر کے ہیں لہذا رمضان کے دوران اور کورونا وائرس کے خاتمہ تک وہ خود تو مسجد میں قدم بھی نہیں رکھیں گے۔
حیرت ہے کہ دنیا کے پچاس سے زائد اسلامی ملکوں میں سے صرف پاکستان ایسا ملک ہے جہاں توبہ و استغفار کو اس وبا سے نمٹنے کا واحد حل سمجھا جارہا ہے۔ وبا سے بچاؤ اور اس کی روک تھام کے لئے رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں طریقے بتائے گئے ہیں، ان پر غور کرنے کا اہتمام ضروری نہیں سمجھا گیا۔ مساجد کھولنے کی مہم جوئی کے دوران سرکردہ مذہبی لیڈروں نے یہ اصرار تو کیا کہ اگر منڈیاں کھلی ہیں اور ہسپتالوں میں کھوے سے کھوا چھل رہا تو مساجد کھولنے اور وہاں نماز پڑھنے پر کیوں پابندی ہے۔ لیکن کسی عالم یا مساجد کھولنے کے کسی وکیل کے منہ سے یہ بات سننے میں نہیں آئی کہ اسلام میں فرض نماز کی ادائیگی سے پہلے انسانی جان کی حفاظت ضروری ہے۔ بعض علما نے اس بارے میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش بھی کی لیکن طوطی خانے کے شور میں ان کی آواز کو دبا دیا گیا۔
اب وزیر اعظم کو نماز توبہ پر قائل کرکے مدرسوں کے لئے سرکاری قرضوں کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بننے والے 20 نکاتی قومی ایکشن پلان میں مدارس کی اصلاح اور وہاں پڑھائے جانے والے سلیبس پر نظر ثانی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے شبہ میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے سامنے حکومت پاکستان نے اپنا مقدمہ لڑتے ہوئے اسی ایکشن پلان پر عمل کرنے کے وعدے کر رکھے ہیں۔ کورونا وائرس کے بحران کی وجہ سے یہ معاملہ فی الوقت خبروں میں نہیں ہے لیکن پاکستان بدستور عالمی کنٹرول نظام کی نگاہ میں ہے اور اس کا کوئی بھی غلط قدم اس کے لئے مزید مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ عمران خان آج جب مدرسوں کو بلا سود قرضے دینے کا اقرار کررہے تھے تو وہ یہ بھول رہے تھے کہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کو سنگین سفارتی اور مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ورنہ وہ علما کے وفد سے قومی ایکشن پلان کے نکات کی مخالفت ترک کرنے کی بات بھی ضرور کرتے۔
وزیر اعظم نے بپھری ہوئی سپریم کورٹ کے عتاب سے بچنے کے لئے مولویوں کا غصہ کم کیا ہے۔ بظاہر وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ ملک کے مذہبی پیشوا دین کی سربلندی سے زیادہ سیاسی عزائم رکھتے ہیں۔ انہیں طاقت دے کر کسی سیاست دان کو خود کو محفوظ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔
ٌ( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker