نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے مسئلہ پر گزشتہ چند ماہ سے سیاست دانوں اور سیاسی تجزیہ کاروں نے ملک اور قوم کو جس لایعنی او ر انتہائی نامعقول بحث میں الجھا رکھا ہے وہ جہاں ایک طرف ہمارے سیاستدانوں کی پست فکری اور حد درجہ سیاسی منافقت کی آئینہ دار ہے وہاں دوسری طرف عالمی سطح پر ملک اور قوم کی مسلسل تضحیک اور رسوائی کا باعث بھی ہے ۔ مجھے نہیں یاد کہ کبھی کسی دوسرے ملک میں آرمی چیف کی تعیناتی پر ایسا ہنگامہ تو درکنار کبھی کوئی تنازعہ تک کی خبر ہی آئی ہو۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے محرکات ہیں جو اس افسوسناک سے بھی بڑھ کر شرمناک صورتحال کا باعث ہیں؟
اس درجہ ناقابل رشک صورتحال کا بلا شبہ سب سے بڑا سبب تو گزشتہ 70 سال سے مسلسل اسٹیبلشمنٹ کے نام سے موسوم اعلیٰ فوجی قیادت کا ملکی سیاست میں محض عمل دخل ہی نہیں بلکہ اس پر ایسا کلی اور ہمہ گیر اختیار رہا ہے کہ ہر سیاست دان اقتدار کے حصول کے لیے عوامی مینڈیٹ سے بھی کہیں بڑھ کر اسٹیبلشمنٹ کی تائید و حمایت کو ناگزیر سمجھتا ہے ۔ اس صورتحال نے جہاں ایک طرف آج تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں پیدا ہونے دیا وہاں دوسری طرف آرمی چیف کے منصب کو ایک پیشہ ور سپہ سالا ر سے کہیں زیادہ سیاسی میدان کا بادشاہ گر بنا دیا ہے۔ یہاں اس حقیقت کا بیان بھی عین قرین انصاف ہوگا کہ اس سراسر خلاف آئین اور دنیا بھر میں مسلمہ جمہوری روایات کے برعکس صورتحال کی ذمہ داری جس قدر جرنیلوں پر عائد ہوتی ہے اس سے کہیں بڑھ کر سیاست دانوں کی بے لگام ہوس اقتدار ، جمہوری اصولوں سے روگردانی ، وسیع پیمانے پر کرپشن اور ضمیروں کی خریدو فروخت کی سیاست پر عائد ہوتی ہے۔
آئین کی رو سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے ۔29 نومبر کے روز موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا مسئلہ در پیش ہے اور اس حوالے سے سرکاری اور سوشل میڈیا پر عمران خان سمیت تمام سیاستدانوں کے بیانات اور جناب وزیر اعظم کی حالیہ لندن یاتر ا کے دوران اس مسئلہ پر میاں نواز شریف سے مبینہ مشاورت سے صرف ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو ایک ایسے ”وفادار“ آرمی چیف کی تلاش ہے جو ان کے موجودہ اقتدار کو جس قدر ممکن ہو طول دینے اور مستقبل کے سیاسی فیصلوں اور اقدامات میں ان کا معاون ہو۔ حکمرانوں کی اس سوچ کے انتہائی احمقانہ اور ناعاقبت اندیشانہ ہونے کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ 1970 ءکی دہائی میں ”ذہین و فطین“ ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کے سینئر ترین جنرلز کو نظر انداز کرکے سینیارٹی لسٹ پر چھٹے یا ساتویں نمبر کے جنرل ضیاءالحق کو اس یقین کے ساتھ آرمی چیف تعینات کیا کہ وہ ان کاوفادار رہے گا اور یوں ان کے اقتدار کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہوگا۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ اسی جنرل ضیاءالحق نے نہ صرف بھٹو صاحب کو اقتدار سے چلتا کیا بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا۔ اس کے بعد 1990 ءکی دہائی میں میاں نوازشریف سے بھی وہی حماقت سرزد ہوئی اور انجام کار انہیں اپنے ”وفادار“ آرمی چیف پرویز مشرف کے ہاتھوں اٹک جیل کے عقوبت خانہ اور ملک بدری جیسے المیوں سے دوچار ہونا پڑا۔
ا ن دو انتہائی المناک تجربات کے بعد ایک بار پھر ”وفادار“ آرمی چیف کی تلاش ہمارے حکمرانوں کے عقل و شعور سے تہی دامن ہونے پر دلیل ہے۔ مزید یہ کہ ایک طرف ہمارے سیاستدان یہ رونا روتے رہتے ہیں کہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے رول نے ملک کو تباہ کیا ہے لیکن دوسری طرف اپنے ”وفادار“ آرمی چیف کی تلاش بھی جاری ہے تاکہ اس کی مدد سے اقتدار کے مزے لوٹتے رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاستدانوں کی بے لگام ہوس اقتدار ، منافقت ، بے اصولی اور ضمیروں کی خریدو فروخت کی سیاست نے ہی اسٹیبلشمنٹ کو ملکی سیاست پر بالا دستی قائم کرنے کا ماحول اور جواز بہم پہنچایا ہے۔
سیاستدانوں اور حکمرانوں کے اس جمہوریت کش طرز عمل سے قطع نظر اگر ہم آرمی چیف کی تعیناتی کے مسئلہ میں سینیارٹی کے ساتھ ”میرٹ“ کے اصول کا بغور جائزہ لیں تو ہمیں اپنے مروجہ سیاسی کلچر میں یہ اصول بھی نامعقول اور اثرات کے حوالے سے انتہائی نقصان دہ نظر آتا ہے۔ اگر چار یا پانچ سینئر ترین جنرلز میں سینیارٹی کے علاوہ ”میرٹ “ کو بھی دیکھنا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرنل سے بریگیڈئیر سے میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کی ترقیوں کے دوران ان کے میرٹ کا جائزہ نہیں لیا گیا تھا ؟ ایک لیفٹیننٹ جرنل جس نے ایک آرمی کور کی کمانڈ کرنا ہوتی ہے کیا وہ میرٹ کے بغیر محض سینیارٹی کی بنیاد پر یہاں تک پہنچا تھا؟ اور پھر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ایک سیاستدان وزیر اعظم کے پاس وہ کونسا پیمانہ ہے جس سے اس نے بوقت تعیناتی آرمی چیف کسی جنرل کا میرٹ چیک کرنا ہے؟ اگر ہم تاریخی تناظر میں اپنے سیاستدانوں کے کردار ، اہلیت اور طرز عمل کا جائزہ لیں تو میری دانست میں کوئی ایک بھی سابق وزیر اعظم خود اس میرٹ کا حامل نظر نہیں آتا جو ایک آرمی چیف کے میرٹ کا تعین کرنے کے لیے ضروری ہے۔ مزید یہ کہ” نام نہاد میرٹ“ کی بنیاد پر ایک جونیئر جنرل کو چیف کے عہدہ پر تعینات کرنے سے سینیئر جنرلز کے ساتھ جو ناانصافی ہوتی ہے اس سے فوج کے پورے ادارہ کے مورال پر نہایت منفی اثرات پڑتے ہیں۔ دراصل یہ ”میرٹ“ کا صوابدیدی اختیار سراسر بد دیانتی پر مبنی ہے جس کا واحد مقصد پیشہ ورانہ قابلیت اور اہلیت کی بجائے گھٹیا سیاسی مفادات کے تابع تقرریوں اور تعیناتیوں کا اختیار حاصل کرنا ہے۔
چنانچہ مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر ہم حکمرانوں سے گزارش کریں گے کہ وہ خود اپنے اوپر اور ملک اور فوج کے ادارہ پر رحم فرمائیں اور ”وفادار“ آرمی چیفوں کی ”عبرتناک وفاداریوں“ کے انجام سے عبرت حاصل کریں او ر ”میرٹ“ کے بددیانتی پر مبنی اور تباہ کن اصول کو خیر باد کہہ کر 29 نومبر کے روز جو بھی جنرل سینیئر ترین ہے فوج کی کمانڈ اس کے حوالے کریں تاکہ ملک و قوم کو مزید خلجان اور عالمی سطح پر مزید رسوائی اور جگ ہنسائی سے بچایا جاسکے۔
حرف آخر کے طور پر ہم حکمرانوں سے یہ گزارش بھی کریں گے کہ اگر آپ واقعی ملک کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی ختم کرنے اور اسے سول اتھارٹی کے تابع کرنے کے دعوی میں مخلص ہیں تو پھر آرمی چیف کی تعیناتی میں بددیانتی پر مبنی میرٹ کے قانون کو ختم کریں اور صرف سینیارٹی کی بنیاد پر آرمی چیف کی تعیناتی کا قانون نافذ کریں۔
فیس بک کمینٹ

