متحدہ ہندوستان میں برطانوی راج اپنی تشکیل کردہ سول افسر شاہی اور مسلح افواج کے ستونوں پر کھڑا تھا۔ دونوں منظم اور تربیت یافتہ ادارے تقسیم ہند کے وقت پاکستان کو وراثت میں ملے۔ سول افسر شاہی کی تربیت اور اختیارات کا بنیادی مقصد برٹش انڈیا کی رعایا پر آہنی ہاتھوں سے حکمرانی کرنا تھا۔ جبکہ برٹش انڈین آرمی امن و امان برقرار رکھنے، تحریک آزادی کو کچلنے، بیرون ہند برطانوی سامراجی جنگوں یا نئی نوآبادیوں کے حصول کے لئے استعمال کی جاتی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد سول افسر شاہی کوبے حد اختیارات حاصل ہو گئےتھے۔ اس لئے شروع دن سے ہی ریاستی نظام پر غیر جمہوری قوتوں کا غلبہ رہا ہے ۔ گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کو مسلم لیگی راہنماؤں کی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا۔ سیاستدانوں کی بجائے ان کا افسر شاہی پر انحصار روز بروز بڑھتا گیا۔ گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کی حکومت میں سیکریٹری جنرل چوہدری محمد علی برٹش سول افسر شاہی کا تربیت یافتہ اور تجربہ کار افسر تھا۔ انڈین ایکٹ 1935 کے تحت گورنر جنرل کے غیر معمولی اختیارات نے ان کے ماتحت کام کرنے والے افسروں خصوصاً سیکریٹری جنرل حکومت پاکستان چوہدری محمد علی کو بہت طاقتور افسر بنا دیا تھا۔ قائد اعظم کےافسر شاہی پر انحصار نے افسر شاہی کو طاقتور اور سیاسی قیادت کو بتدریج تنزلی کا شکار کر دیا۔ قائد اعظم نے فوج کو حکومتی معاملات کے قریب نہیں پھٹکنے دیا۔ وہ فوجی افسران کو حکومتی و سیاسی معاملات سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے۔
قائد اعظم کے طرز حکمرانی سے پاکستان کو وراثت میں ایک تجربہ کار اور مضبوط سیاسی و جمہوری قیادت میسر نہ آسکی، بلکہ نوآبادیاتی حکمرانی کے نشہ میں بد مست سول افسر شاہی ملک کا مقدر ٹھہری۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے 1951 میں قتل کے بعد طاقتور سول افسر شاہی نے کھل کر سازشی سیاست کا کھیل کھیلنا شروع کر دیا۔ سول افسر شاہی کا ایک کارندہ ملک غلام محمد 1951 میں گورنر جنرل کی مسند پر براجمان ہو گیا۔ 1951 سے 1958 تک سول افسر شاہی کے کارندوں ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا کی حکمرانی اور سازشوں کا دور دورہ تھا۔ اس وقت کا آرمی چیف جنرل ایوب خان حکومت کا وزیر دفاع بن کر اقتدار کی بندر بانٹ میں شامل ہو چکا تھا۔ روز بروز تنزلی کا شکار سیاسی قیادت نے سول و فوجی افسر شاہی کے جونیئر پارٹنر کا درجہ قبول کر لیا تھا۔ جمہوری و سیاسی عمل کے فقدان اور جمہوری اداروں کی کمزوری کی وجہ سے سول افسر شاہی اور عسکری قیادت کا گٹھ جوڑمضبوطی اختیار کرتا جا رہا تھا۔ یہ پاکستان میں حکمرانی کا ایسا ہائی برڈ ماڈل تھا۔ جس میں سول افسر شاہی کے ہاتھوں میں اقتدار اعلیٰ کی باگ ڈور تھی۔ آرمی چیف جنرل ایوب خان ان کا شریک اقتدار تھا۔ جبکہ کمزور سیاسی قیادت اقتدار کے کھیل میں ایک جونیئر پارٹنر کی حثیت پر مطمئن تھی۔
جنرل ایوب خان نے اپنے مربی صدر اسکندر مرزا کو اکتوبر 1958 میں اقتدار سے محروم کرکے ملک میں فوجی مارشل لا نافذ کر دیا۔ جنرل ایوب خان کے براہ راست اقتدار پر قبضہ کرنے سے سول افسر شاہی کا اقتدار میں سینئر پارٹنر کا درجہ ختم ہو گیا۔ اب عسکری قیادت نے اقتدار اعلیٰ میں سینئر پارٹنر بن کر سول افسر شاہی کو جونیئر پارٹنر کے کردار پر لا کھڑا کیا۔ ایوب خان نے اپنی سیاسی جماعت کنوینشن مسلم لیگ تشکیل دی ۔ نئے پرانے سیاستدانوں کو اس جماعت میں اکٹھا کیا۔ بلدیاتی اداروں کے منتخب نمائیدوں سے اسمبلیوں کے نمائیدے منتخب کروائے۔ جنرل ایوب خان نے منتخب بلدیاتی نمائیدوں کے ووٹوں سےصدارتی انتخابات کا ڈھونگ رچایا اور ملک کا منتخب صدر بن بیٹھا۔ صدرجنرل ایوب خان کے زیر سایہ ہائی برڈ نظام میں نام نہاد منتخب نمائندوں اور اداروں کا مقام بالادست فوجی حکمران کے ماتحت کارندوں کا تھا۔ صدر جنرل ایوب خان کو ایک عوامی تحریک کے نتیجے میں صدارت سے مستعفیٰ ہونا پڑا۔ وہ جاتے جاتے اقتدار اس وقت کے آرمی چیف جنرل یحیٰ خان کے سپرد کر گئے۔ جنرل یحیٰ خان کے اقتدار کا خاتمہ دسمبر 1971 میں پاکستان کے دولخت ہونے کے ساتھ ہوا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت 1972 سے 1977 کو ایک طاقتور سیاسی حکومت کہا جا سکتا ہے۔ سیاسی مسائل کی الجھنوں میں گھری بھٹو حکومت کو با لآخر ایک طالع آزما جنرل ضیاالحق نے جولائی 1977 میں مارشل لا لگا کر ختم کر دیا۔ جمہوری قوتوں کے لئے اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم اور ملک کو متفقہ آئین دینے والے لیڈر بھٹوکو جنرل ضیا نے تختہ دار پر لٹکا دیا۔ جولائی 1977 کو ملک پر جنرل ضیا کی آمریت مسلط ہو گئی۔ جنرل ضیا نے آئین معطل کر کے ملک پر آہنی ہاتھوں سے جبر کی حکمرانی کے تمام ریکارڈ توڑ دئے۔ جولائی 1977 سے جنرل ضیا کی اگست 1988 میں موت تک ملک پر فوجی حاکمیت مسلط رہی۔ جنرل ضیا نے 1985 میں اسمبلیوں کے غیر جماعتی انتخابات منعقد کرائے اور من پسند سیاستدانوں کو بطور جونیئر پارٹنر شریک اقتدار کر لیا۔ 1985 سے 1988 تک جنرل ضیا کی صدارت میں عسکری غلبے اور محمد خان جونیجو کی وزارت عظمیٰ کی صورت میں سیاسی ماتحتی والے ہائی برڈ سسٹم کی ایک شکل سامنے آئی۔ جنرل ضیا نے ایک نئی مسلم لیگ کھڑی کر لی۔ غیر جماعتی پارلیمنٹ کے ذریعے 1973 کے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا۔ پارلیمنٹ سے آئینی ترامیم کے ذریعے صدر کو قومی اسمبلی اور حکومت توڑنے کے اختیارات تفویض کر دیئے۔ اس طرح پارلیمان اور حکومت کو ایک ایسے فرد واحد یعنی صدر مملکت کے رحم و کرم کا محتاج بنا دیا جو آسانی سے جمہوری قوتوں کے خلاف طاقتوروں کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر سکے۔
دسمبر 1988 میں بے نظیر بھٹو شہید کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت قائم ہوئی۔ جنرل ضیا آمریت کے خلاف طویل عوامی تحریک اور عوامی ووٹوں کے نتیجہ میں قائم ہونے والی پی پی پی کی حکومت کا دورانیہ اٹھارہ ماہ سے زیادہ نہ بڑھنے دیا گیا۔ بے نظیر بھٹو شہید کی دوسری حکومت اور میاں نواز شریف کی پہلی حکومت کو طاقتوروں کی ریشہ دوانیوں نے اڑھائی تین سال سے زیادہ عرصہ نہیں چلنے دیا ۔ جنرل ضیاءکی گیارہ سالہ آمریت کے دوران ریاستی اداروں کے اندر سرائیت کرگئے آمرانہ مزاج کو منتخب سول حکومت کی بالادستی قابل قبول نہ تھی ۔ سیاسی عمل اور منتخب جمہوری ادارو ں کے تسلسل میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہیں۔ بالآخر اکتوبر 1999 کو ایک اور طالع آزما جنرل مشرف نے منتخب وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کرکے ملک میں ایک بار پھر فوجی راج مسلط کر دیا۔
جنرل مشرف نو سال تک اقتدار پر قابض رہا۔ وہ ایک نام نہاد ریفرنڈم کے ذریعے ملک کا صدر بن بیٹھا ۔ ایک کٹھ پتلی مسلم لیگ بنا ڈالی۔ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو جلا وطنی اختیار کرنے پر مجبور کیا اور ان کی غیر موجودگی میں مینجڈ پارلیمانی انتخابات کرائے۔ صدر جنرل مشرف نے سابقہ فوجی آمروں کی پیروی کرتے ہوئے اپنے زیر نگرانی ایک نامزد وزیر اعظم کی حکومت قائم کر دی۔ مشرف ہائی برڈ ماڈل میں سویلین سیاستدانوں کا کردار کٹھ پتلی سے زیادہ نہ تھا جو جنرل مشرف کی انگلیوں کے اشاروں پر رقص کرنے پر ہر وقت تیار رہتے تھے۔ بے نظیر بھٹو کا بے رحمانہ قتل بھی مشرف دور کے سیاہ کارناموں میں شامل ہے۔
جنرل مشرف آمریت کے بعد پی پی پی اور نواز لیگ کی حکومتوں 2008 سے 2018 کو کسی حد تک سیاسی اور جمہوری قوتوں کی نمائندہ کہا جا سکتا۔ پی پی پی کی مذکورہ حکومت میں جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے ادوار میں آئین کا جمہوری چہرہ مسخ کرنے والی شقوں میں ترامیم کرکے آئین کو اصل صورت میں بحال کیا گیا۔ مسلم لیگ نواز نے بھی آئین کو اصل صورت میں بحال کرنے میں پی پی پی حکومت کا بھر پور ساتھ دیا۔ ۔ مذکورہ دونوں حکومتوں کے خلاف پس پردہ قوتوں کی سازشوں کے باوجود ان ادوار کو جمہوری عمل میں اہم پیش رفت کہا جا سکتا ہے۔
بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان مئی 2006 میں چارٹر آف ڈیموکریسی پر اتفاق کو غیر جمہوری قوتوں نے اپنے مذموم عزائم کی راہ میں رکاوٹ جانا۔ حسب روایت جمہوری عمل میں پیش رفت غیر جمہوری قوتوں کے لئے قابل قبول نہیں تھی۔ پس پردہ طاقتور عناصر نے ملک میں ایک تیسری سیاسی قوت سامنے لانے کی ٹھانی لی ۔ عمران خان کے سلیبرٹی سٹیٹس کو سیاسی مقبولیت میں بدلنے کے لئے پاکستان تحریک انصاف کو ملک کی بڑی سیاسی جماعت بنانے کے لئے ہر قسم کے منفی اور مثبت حربے استعمال کرنے سے دریغ نہیں کیا گیا۔ ۲۰۱۸ کے انتخابات کے نتائج کا اعلان روک کر راتوں رات مختلف نتائج مرتب کئے اور پی ٹی آئی کو کامیابی کے ستون پر کھڑا کر دیا گیا۔ مذکورہ انتخابات کے نتیجہ میں ملک کے سیاسی افق پر رونما ہونے والی تیسری سیاسی قوت پی ٹی آئی کی ایک پیج والی حکومت قائم ہو گئی۔
سابقہ عمران حکومت کو ملک میں اس وقت جاری ہائی برڈ سسٹم کی پیش رو کہہ سکتے ہیں۔ عمران حکومت کا عسکری حکام کی تعریفوں کے پل باندھنے کے باوجود ایک پیج والا ہائی برڈ نظام مشکل سے تین سال مکمل نہ کر سکا۔ 2024 کے انتخابات میں چمتکار کے نتیجہ میں شہباز حکومت تخت اسلام آباد پر براجمان ہوئی۔ یہ حکومت پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی بیساکھیوں کے سہارے چل رہی ہے۔ پی پی پی ملک کی صدارت، دو صوبوں کے گورنر شپ، سینٹ کے چئیرمین جیسے آئینی عہدوں اور صوبہ سندھ کی حکومت پر خوش ہے۔ مقتدرہ کی حمایت کو اس سیٹ اپ کی گارنٹی سمجھا جا تا ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ملک میں ہائی برڈ سسٹم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سول عسکری پارٹنر شپ نتائج پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر عسکری غلبہ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سول اور عسکری قیادت اتفاق رائے سے فیصلے کرتی ہے۔ اس بیان سے قبل گزشتہ ماہ عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا تھا کہ یہ مثالی جمہوری نظام نہیں مگر آپ اسے عملی ضرورت کہہ سکتے ہیں۔ یہ ایک سینئر حکومتی عہدیدار کا کھلا اعتراف ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین کی حکمرانی محض کہنے کی باتیں ہیں اور حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔
حکومتی معاملات میں ریاستی اداروں کا عمل دخل پاکستان کی تاریخ کا کھلا باب ہے ۔ مگر آج ایک جمہوری آئین کے ہوتے ہوئے جمہوری اداروں اور سیاسی قوتوں کی پسپائی کا الزام کس پر دیا جائے۔ سیاسی راہنماؤں کے درمیان مکالمہ کے فقدان، ذاتی دشمنیوں، اقتدار کی خاطر مقتدرہ کی کاسہ لیسی اور جمہوری اقدار سے انحراف نے جمہوری پسپائی میں اہم کردار دا کیا ہے۔ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت کے بعد جمہوری قوتوں کے لئے سیاسی سپیس بڑھتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ آج کے حالات میں تین بڑی سیاسی جماعتوں یعنی مسلم لیگ نواز، پی پی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی ڈائیلاگ اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے جمہوری قوتوں کی پسپائی پر بندھ باندھا جا سکتا ہے۔جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے راستے کھولے جا سکتے ہیں۔ مگر نواز لیگ، پی پی پی اور دیگر سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد اس وقت حکمرانی کے جھولے جھولنے میں مشغول ہے۔ اس وقت انہیں آئین کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالاستی ، عدلیہ اور اظہار رائے کی آزادی اور انسانی حقوق کی پامالی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی اقتدار سے محرومی کے صدمے سے باہر نہیں نکل سکی۔ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان بے خبری کے عالم میں غلط نشانوں پر گولہ باری کرکے پارٹی کے لئے مشکلات پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ٹویٹر اور سوشل میڈیا پر سر گرم پی ٹی آئی ،پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں سیاسی منظر سے اوجھل ہو چکی ہے۔
موجودہ صورت حال میں مقتدرہ کے کھیل کھیلنے کے لئے میدان خالی ہے۔ مقتدرہ صرف شہباز شریف سے ہی خوش نہیں بلکہ عمران خان بھی ان کی خوشی کو دو بالا کر نے میں کم کردار ادا نہیں کر رہے۔
( بشکریہ : کاروان ناروے )
فیس بک کمینٹ

