اسد اللہ غالبکالملکھاری

وزیر داخلہ پربے بنیاد الزام: انداز جہاں /اسد اللہ غالب

سب سے پہلے ایک ضروری بات۔ وزیر داخلہ کا سروسز ہسپتال لاہور کا کمرہ آئی سی یو قرار دے دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ کے آپریشن کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے کمرے کو دربار اور چوپال کی شکل نہ دی جائے اور وی وی آئی پی کی آمدو رفت کو مکمل طور پر روک دیا جائے، یہ لوگ ہر قسم کی انفیکشن مریض کو منتقل کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں آئی سی یو کے انچارج ڈاکٹر صاحب پر بھاری ذمے داری عاید ہوتی ہے ، انہیں نام نہاد اہم افراد کی طرف سے عیادت کا سلسلہ سختی سے بند کر دینا چاہئے تاکہ ان کا مریض تیزی سے شفایا ب ہو سکے اور بعد از آپریشن انفیکشن سے محفوظ رہے۔
اب آیئے ایک بڑے اعتراض کی جانب جسے ہمارے آزاد میڈیا نے بلا سوچے سمجھے اچھال دیا۔ الزام یہ ہے کہ جو وزیر داخلہ اپنی حفاظت نہیں کر سکتا وہ ملک اور قوم کو کیا سیکورٹی دے سکتا ہے۔میں اس الزام کو غیر منطقی کہوں گا۔ مجھے یہ نقاد حضرات بتائیں کہ کیا ملک بھر میں ہر سیاسی اورمذہبی پارٹی کے جلسے جلوس سکون سے منعقد ہو رہے ہیں یا نہیں ، کیا کسی جلسے میں کسی کو آج تک خراش تک آئی ہے ، کیا کسی راہنما پر اب تک گولی چلی ہے، کیا کسی جلسے کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے،اور اگرہر جگہ امن امان اور سکون ہے تو پھر وزیر داخلہ اپنے فرض کی تکمیل میں کامیاب ٹھہرے۔ پھر ان پر اعتراض کاہے کو۔کیا کبھی کسی نے کہا کہ جو قائد اعظم اپنی صحت کا خیال نہ رکھ سکے اور ٹی بی کے ہاتھوں اللہ کو پیارے ہو گئے، وہ پاکستانی عوام کو صحت کی سہولتیں کیسے فراہم کر سکتے تھے۔ کیا کبھی کسی نے کہا کہ لیاقت علی خان وزیر اعظم ہوتے ہوئے شہید ہو گئے تو وہ ملک کی سیکورٹی کا بندو بست کیا کر سکتے تھے۔ کیا ایسے نقاد نہیں جانتے کہ ملک اور قوم کی حفاظت کے لئے وہ مکا کافی تھا جو لیاقت علی خاں نے بھارت کے سامنے لہرایا تھا۔ اور کیا کسی نے ضیا الحق کو اس امر کے لئے مورد الزام ٹھہرایا کہ وہ اپنی جان نہ بچا سکے، اپنے عوام کے جان و مال کی حفاظت کیا کرتے، ان نقادوں کو بھی معلوم ہونا چاہئے کہ جنرل ضیا تو شہید ہو گیا، ہر انسان فانی ہے مگر اس نے اس دنیائے فانی سے جاتے جاتے دنیا کی ایک سپر طاقت سوویت روس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا اور پاکستان کو ہمیشہ کے لئے سوویت روس کے خطرے سے محفوظ بنا دیا تھا۔ کیا کسی نے وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو پر یہ اعتراض کیا تھا کہ وہ اپنے بھائی مرتضی بھٹو کی جان کی حفاظت نہ کر سکیں تواپنے عوام کی کیا حفاظت کر پائیں گی۔
وزیر داخلہ کی کارکردگی پر زبان اعتراض دراز کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ وزیر داخلہ کی کارکر دگی کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا بازار گرم نہیں ، لوگ مسجدوں ، امام بارگاہوں، چرچوں ، اسکولوں، دفتروں ، بازاروں اور مزاروں کا رخ بے دھڑک ہو کر کرتے ہیں۔کراچی میں آج کوئی بھتے کی پرچی تقسیم کرنے کی ہمت نہیں رکھتا، شہر کے کسی کونے کھدرے میں بھی ٹارگٹ کلنگ کا بازار گرم نہیں ہوتا۔
احسن اقبال صرف سیکورٹی ہی کے ماہر نہیں ،اقتصادی پلاننگ میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔ نواز شریف کی دوسری حکومت میں انہوں نے ویژن ٹونٹی ٹونٹی تیار کیا ، اب وہ اگلی نصف صدی کی ضروریات کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انی شیٹو کے معماروں میں ان کا نام شامل ہے۔
اب جہاں تک انتہا پسندی کا تعلق ہے تو اس پر کوئی حکومت راتوں رات قابو نہیں پا سکتی۔ مگر یہ جان لیجئے کہ احسن اقبال کا گھرانہ جس قدر مذہبی ہے، اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔دین کو زبانی کلامی مانناا ور بات ہے مگر احسن اقبال نے تو حضور ﷺ کے چہرہ مبارک کی نشانی اپنے چہرے پر سجا رکھی ہے۔ اس طرح کے کٹر مذہبی اور دینی شخص کے خلاف کسی کو بھڑکانا جرم عظیم ہے مگر ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ہمارے نوجوان پراپیگنڈے سے بہت جلد متاثر ہوتے ہیں، جنرل مشرف پر دو جان لیوا حملے ہوئے، وہ اسی نوع کے عام افراد تھے اور ان کا تعلق بھی مسلح افواج سے تھا تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ صدر ملک کی کیا حفاظت کرے گا، جنرل کیانی کے دور میں جی ایچ کیو پر دہشت گردوں کا حملہ ہوا، کئی گھنٹوں تک مقابلہ ہوا، کامرہ کمپلیکس فوجی مرکز ہے، اس پر دو حملے ہوئے،کراچی میں بحریہ کے دفتر پر حملہ ہوا، لاہور میں آئی ایس آئی کے دفتر پر دہشت گردی کی گئی۔ لاہور میں نیول کالج کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اور کئی چھاؤنیوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تو کیا کسی نے کہا کہ جو فوج اپنے آپ کو نہیں بچا سکتی ، وہ ملک کی کیا سیکورٹی کرے گی، شاید کسی نے ایسا کہہ بھی دیا ہو، کسی کی زبان تو نہیں پکڑی جا سکتی، مگر اسی فوج نے جانوں کا نذرانہ دیا، اپنی ماؤں ، بہنوں بھائیوں کی بجائے پوری قوم کی ماؤں بہنوں اور بھائیوں کے لئے اس ملک کو بالا ٓخر محفوظ بنا دیا۔
وزیر داخلہ اپنے کام کو جانتے ہیں ، ان کے ماتحت کام کرنے والے اپنا کام جانتے ہیں اور پوری طرح چوکس ہیں،آج کی پولیس بے خوف ا ور نڈر ہے، آج کی رینجرز کے حوصلے جوان ہیں،وہ کسی بھی خطرے کو خاطر میں نہیں لاتے۔میں اسے وزیر داخلہ ہی کی لیڈر شپ کا کمال سمجھتا ہوں۔
مجھے کوئی بتائے کہ جب نائن الیون کے حوادث ہوئے، امریکہ کے مختلف ہوئی ا ڈوں سے اڑنے والے پانچ طیارے فضا میں گم ہو گئے، ایک نے امریکی فوج کے ہیڈ کوراٹر پینٹاگون کو نشانہ بنایا، دو طیارے ٹون ٹاورز سے ٹکرا گئے تو کیا کسی نے سی آئی اے، فوجی کمان ،ایف بی آئی، امریکی صدر میں سے کسی کو بھی غفلت برتنے کے لئے مورد الزام ٹھہرایا تھا۔بھارت میں ممبئی سانحہ ہوا ، کیا کسی نے حکومت کو نااہلی کا الزام دیا۔ یہ کام صرف ہمارے ہاں ہی ہوسکتا ہے جہاں آزادی اظہار کی کوئی حد متعین نہیں کی جاسکی۔بلکہ آزادی عمل کی بھی اس حد تک اجازت ہے کہ کسی کو بھی جوتے یا گولی کا نشانہ بنا دو۔ جو لوگ اس صورت حال پر خوش ہیں ، انہیں فکر کرنی چایئے کہ کل کو ان کی باری بھی آ سکتی ہے اس لئے وہ منہ کھولیں تو سوچ سمجھ کر کھولیں، کسی شخص کی کارکردگی پر سوال اٹھانا ہو تو پورا بھی کھاتہ دیکھ کر سوال اٹھائیں۔ مذہبی جنونیت پر سیاست نہیں ہو سکتی ، نہ کرنی چاہئے۔ وزیر داخلہ کی کارکردگی کا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ تمام خطرات کے سامنے خود سینہ سپر ہو گئے۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker