شاہد راحیل خانکالملکھاری

اسلام زندہ ہوتا ہے ،ہر پانچ سال بعد ۔۔ شاہد راحیل خان

کتابوں میں بھی یہی پڑھا ہے اور بزرگوں سے بھی یہ ہی سناہے کہ یہ ملک پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ عجیب اتفاق ہے کہ اس کے بنانے والے، اسے بنانے کی تحریک چلانے والے اور اس تحریک کے دوران قید با مشقت کاٹنے سے لے کر جان تک قربان کر دینے والے، اسلام کی سربلندی و سرفرازی کاروایتی نعرہ لگانے والوں سے یکسر مختلف تھے۔اکثریت تو کلین شیوقیادت پر مشتمل تھی، جن کے دل میں بسی اپنے نظریے اور مقصد سے محبت بھی ان کے کلین شیو چہروں کی طرح کلین تھی۔ان کے دل حسد،بغض اور تعصب سے پاک تھے۔وہ ایک ایسا ملک بنانا چاہتے تھے جو امن اور محبت کو گہوارہ ہو۔ان کے دلوں میں اسلام کے نام پر ایک الگ مملکت بنانے کاخیال اس لیئے سمایا ہوا تھا کہ وہ اسلام ہی کو انسانیت کا سب سے بڑا محافظ سمجھتے تھے۔ایک ایسی مملکت جہاں سب کو جینے کا برابر حق حاصل ہو۔اس لیئے اسلام کی سر بلندی کے روایتی نعرہ بازوں اور دعوے داروں کی طرف سے آئے دن کفر کے فتووں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی کہ عمل کا دارو مدار نیتوں پر ہوتا ہے۔ ان کے کچھ خواب تھے جو ایک مملکت کے قیام کی حد تک تو شرمندہ تعبیر ہوئے۔ آج یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ جن کے اپنے بقول وہ پاکستان بنانے کے ” گناہ“ میں شامل اور شریک نہیں تھے۔آج وہ ہی دعوے دار بنے کہہ رہے ہیں کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور ہم اس ملک میں اسلامی نظام نافذ کر کے رہیں گے۔یہ ملک اسلامی نظام کے بغیر نہیں چل سکتا۔ سوبسم اللہ۔ اگر آ ج انہیں یہ احساس ہو ہی گیا ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا تو پہلے تو وہ اپنے بزرگوں کی طرف سے پاکستان بنانے کے ” گناہ“ میں شامل نہ ہونے پر معافی نہ سہی کم از کم شرمندگی کا اظہار کر کے پاکستان بنانے والوں کو خراج تحسین ہی پیش کر دیں اور ساتھ یہ بھی بتا دیں کہ اس ملک میں کس کا تشریح کردہ اسلام نافذ ہو گا کیونکہ ان سے اختلاف رکھنے والے باقی تو سب لوگ قابل گردن زدنی ہیں ۔ چند روز قبل مزار قائد کے سامنے والے گراﺅنڈ میں اپنی جماعت کی طرف سے منعقد کردہ یوتھ کنوینشن کے موقع پر ،،ترچھی ٹوپی،، والے امیر جماعت سراج الحق اور کچھ نہیں تو جماعت کے نوجوانوں کو اپنی سربراہی میں مزار قائد پر لے جا کر، مزار قائد پر فاتحہ پڑھ کر کچھ کفارہ ادا کر دیتے۔طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں ، اسلام ہمیشہ ہی خطرے سے دوچار رہا ہے۔پاکستان کو اسلامی بنانے کی پہلی کوشش تو ہم تحریک نفاذ نظام مصطفےٰﷺ میں دیکھ چکے ہیں۔اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیئے میرے پیارے نبی سرور کون ومکاں آقائے دوجہاںﷺکا متبرک ، مقدس و مبارک نام ایک ڈکٹیٹر جنرل ضیاءالحق کے ایماءپر کیسے استعمال کیا گیا۔پھر دوسرے ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے متحدہ مجلس عمل بنوا کر ایک صوبہ کے پی کے اسلام کے نفاذ کے لیئے متحدہ مجلس عمل کے حوالے کر دیا۔گفتار کے غازیوں نے پانچ سال تک ایک صوبے پر حکومت کی ۔ متحدہ مجلس عمل نے دوران اقتدارسب کچھ کیا مگر اسلام کے نفاذ میں بے عمل ہی ثابت ہوئی۔اب مولانا فضل الرحمان فرماتے ہیں کہ ستر سال سے اس ملک میں مغربی نظام چل رہا ہے، اب ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، مزید یہ کہ اب تو متحدہ مجلس عمل دوبارہ فعال ہوچکی ہے۔متحدہ مجلس عمل کی بے عملی کی بھی انتہا ہے کہ پورے پانچ سال تک ایک صوبے میں بلا شرکت غیرے حکومت کر کے بھی اسلام کے لیئے کچھ نہ کر سکی۔اور جیسے میاں برادارن برسوں اقتدار میں رہنے کے بعد بھی کچھ کرنے کے لیئے ہر جلسے میں فرماتے ہیں کہ اگر اللہ نے ہمیں موقع دیا تو ہم عوام کے لیئے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں گے۔جس کا امکان کم کم نظر آتا ہے کہ بقول بلاول بھٹو زرداری ” پہلے جو بھلائی مخلوق تھی اب خلائی مخلوق بن چکی ہے“ ۔ پاکستانی عوام جیسی مخلوق بھی دنیامیں کہیں نہیں ملے گی کہ جسے سیاست دان جب اور جیسے چاہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیں۔ اسی طرح اسلام کی سربلندی اور سرفرازی کے روایتی دعویداربھی ایک بار پھر اسلامی نظام کے نفاذ کا نعرہ لے کر میدان میں اتر آئے ہیں یا اتارے گئے ہیں۔پرانے زمانے میں جب کشتی کا فن عروج پر تھا تو استاد اکھاڑے میں خود اترنے سے پہلے اپنے پٹھے اتارا کرتے تھے تاکہ مخالف کے دا ﺅ پیچ کا پتہ چل سکے۔ویسے بھی لکھنو کے بٹیر بازوں میں یہ محاورہ مشہور تھا کہ استاد نہیں، استادوں کے ہاتھ لڑا کرتے ہیں ۔عام انتخابات کا ڈول ڈالا جانے والاہے۔اگر ہر پانچ سال بعد انتخاب اسی تسلسل سے ہوتے رہیں تو اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں ہر پانچ سال بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ” اسلام زندہ ہوتا ہے ہر پانچ سال بعد ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker