عطاء الحق قاسمیکالملکھاریمزاح

عطاء الحق قاسمی کا کالم : مدّاحین کی سہولت کے لئے چند ہدایات!

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ میرے ڈراموں، سفرناموں، کالموں اور میری شاعری کی دھوم چار دانگ عالم میں ہے چنانچہ گھر سے باہر قدم رکھتے ہی میرے مداحوں کا ہجوم میرے گرد اکٹھا ہو جاتا ہے اور سیلفیاں بناتا ہے، آٹو گراف مانگتا ہے اور یوں میری پرائیویسی میں خلل ڈالنے کا باعث بنتا ہے، چنانچہ جب مجھے کسی (بھی) مقام پر جلدی پہنچنا ہو، میں لوہے کی پیٹی میں سے نانی اماں مرحومہ کا شٹل کاک برقع نکالتا ہوں اور وہ پہن کر گھر سے باہر قدم رکھتا ہوں، چونکہ اُس برقع نے آنکھیں بھی تقریباً ڈھانپی ہوتی ہیں چنانچہ اکثر کسی کھمبے سے جا ٹکراتا ہوں، میری بیوی اکثر کہتی ہے کہ آپ اِس برقعے کی بجائے فیشنی برقع پہن کر نکلا کریں جس پر کڑھائی کا بھی بہت عمدہ کام ہوا ہوتا ہے، آنکھیں بھی ڈھانپنا نہیں پڑتیں، یہ برقع آپ کے جسم کے نشیب و فراز کے مطابق ہوتا ہے۔ اہلیہ کی بات میرے دل کو لگی، آنکھوں میں سرمہ لگانے کی عادت مجھے اماں مرحومہ نے ڈالی ہوئی ہے وہ سرمے کی دھار بھی نکالا کرتی تھیں چنانچہ ایک دن میری اہلیہ نے ایک برقعہ میرے لئے نکالا، آنکھوں میں سرمہ بھی ڈالا اور دھار بھی پھر کہا کہ لوگوں سے اگر چہرہ چھپانا ہی ہے تو اس حلیے میں گھر سے نکلو … چنانچہ مجھے مجبوراً یہ روپ دھارنا پڑا۔ اُس دن میرے مداحوں نے تو مجھے اپنے گھیرے میں نہیں لیا بس بہت سے پیر و جوان میرے پیچھے لگ گئے۔ اُن میں سے اکثر کوشش کرتے تھے کہ اگر کہیں رَش نہیں بھی ہے تو بھی مجھے چھو کر گزریں، لاحول والا، بہت تُھڑی ہوئی قوم ہے، اُس کے بعد میں نے یہ برقع پہننے کے بجائے کھمبے سے ٹکرانے کو ترجیح دی!
اب ظاہر ہے میں روزانہ چہرہ ڈھانپ کر تو گھر سے نہیں نکل سکتا بغیر برقع کے مداحوں کے نرغے ہی میں تو آنا ہے! چنانچہ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ سر پر ٹوپی پہن کر گھر سے نکلا کروں گا، ویسے بھی سردیوں کے موسم میں یہ ٹوپی سر اور گردن کو سردی لگنے سے محفوظ رکھتی ہے اور پھر کسی پٹھان سے دو سو روپے کا ’’برانڈڈ‘‘ چشمہ خرید لوں گا اور باحفاظت اپنی منزل تک پہنچ جایا کروں گا لیکن دوسری طرف ایک خیال یہ بھی آیا کہ مداح اللہ تعالیٰ کی نعمت ہوتے ہیں، اُنہیں اظہارِ عقیدت سے محروم رکھنا کفرانِ نعمت کے مترادف ہے چنانچہ میں نے ابھی ابھی فیصلہ کیا ہے کہ طرفین کو اِس نعمت سے محروم رکھنے کی بجائے میں اُنہیں اپنے دفتر میں ملاقات کا ٹائم دیا کروں گا۔ تاہم اِس کے کچھ قواعد و ضوابط ہوں گے جن پر عمل ضروری ہو گا۔
اِس ضمن میں پہلا اصول تو یہ ہے کہ آنے سے پہلے فون پر اپوائنٹمنٹ ضرور لیں تاکہ آپ کو گھنٹوں دوسرے مداحین کی وجہ سے خواہ مخواہ انتظار نہ کرنا پڑے۔ دوسرے میری زیارت کے اوقات دوپہر بارہ بجے سے شام چھ بجے تک ہیں، اِس دوران میری آفس سیکرٹری آپ کا نام اور عہدہ، محکمہ وغیرہ کی تفصیلات لکھ کر مجھے اندر بھیجے گی۔ آپ سے درخواست ہے کہ گھر سے کھا پی کر اور واش روم سے ہو کر آئیں کیونکہ مجھے آپ کی آسائش کا بہت خیال ہے۔ تیسرے اور سب سے اہم اصول کا ذکر بھی بہت ضروری ہے میں پرانے خیال کا آدمی ہوں اور بیرونی ادویات کا بہت قائل ہوں چنانچہ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مہمان جب کسی کے ہاں جاتا ہے تو خالی ہاتھ نہیں جاتا، حسبِ توفیق کوئی تحفہ ساتھ لیکر آتا ہے۔ اِس ضمن میں آپ پرانی ادویات کے حامل، نہایت نفیس انسان اور مزاح نگار حسین شیرازی صاحب سے مشورہ کر سکتے ہیں!
اور یہ جو بارہ بجے سے چھ بجے تک کے اوقات ہیں، یہ مردوں کیلئے ہیں کیونکہ میں مرد و زَن اسلامی شعائر کے منافی سمجھتا ہوں چنانچہ خواتین سے ملاقات کا ٹائم شام چھ بجے کے بعد کا ہے اور زیادہ سے زیادہ رات بارہ بجے تک کا ہے۔ خواتین چہرہ ڈھانپ کر نہ آئیں کیونکہ ہر انسان کے سو سجن اور سو دشمن ہوتے ہیں، چنانچہ شکل کو ڈھانپ کر میرا کوئی حاسد بھی درونِ کمرہ کسی نہ کسی طرح کا نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہے اور ہاں ایک ضروری بات، اس بات کا انحصار مجھ پر ہے کہ میں کس کو کتنا وقت دیتا ہوں۔ خواتین سے ایک گزارش یہ بھی ہے کہ وہ مجھ سے میرا فون نمبر پوچھنے کی جسارت نہ کریں البتہ وہ میری آفس سیکرٹری سے لے سکتی ہیں۔ میں خواتین سے کوئی ملاقات نہیں کرتا تاہم میں نے دل شکنی سے بچنےکیلئے کمرے میں سینی ٹائزر بھی رکھا ہوا ہے!
اور آخر میں یہ کہ مرد و زن کے حوالے سے قواعد و ضوابط میں کسی بھی وقت ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔ امید ہے اِس تحریر کے بعد میرے بارے میں یہ تاثر ختم ہو جائے گا کہ میں اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتا ہوں اور مجھےیقین ہے کہ خود آپ کو اس کا اندازہ یہ تحریر پڑھ کر ہو چکا ہوگا!
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker