اختصارئےرضی الدین رضیلکھاری

رضی الدین رضی کا اختصاریہ :کرسمس پر ڈگلس جیری اور پرکاش جیمز کی باتیں

پچیس دسمبر کو بڑا دن کیوں کہتے ہیں ؟ بچپن میں یہ سوال ہمارے ذہن میں گردش کرتا تھا اور ہم سوچتے تھے کہ سال کا طویل ترین دن تو بائیس جون کو ہوتا ہے پچیس دسمبر تو مختصر دنوں میں سے ایک ہے پھر اسے بڑا دن کیوں کہتے ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ ہم اس حقیقت سے آشنا ہوئے کہ بڑا دن اسے حضرت عیسیٰ کی ولادت کے تناظر میں کہا جاتا ہے اور اس روز مسیحی برادری حضرت عیسٰی کے پیدا ہونے کی خوشی مناتی ہے کہ اس روز درازی شب کی انتہا کے بعد دن کی درازی کی ابتدا ہوتی ہے۔
اس خطے پر چونکہ طویل عرصہ گوروں کی حکمرانی رہی تو اسی تناظر میں مسلمانوں نے بھی اسے بڑا دن کہنا شروع کر دیا۔کرسمس کے علاوہ پچیس دسمبر کو قائد اعظم کے یوم پیدائش کے حوالے سے بھی ہمیشہ سے اہمیت حاصل رہی اور نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد ان کے حامی بھی اس روز ان کی سالگرہ کا کیک کاٹتے ہیں۔ اور اس حوالے سے الگ تقریبات بھی ہوتی ہیں۔
ہمیں یاد ہے کہ ہمارے کچھ دوست ایسے بھی تھے جنہیں ہم کرسمس پر مبارک باد بھیجتے تھے وہ آج اس دنیا میں نہیں لیکن جس طرح عید پر ہم اپنے عزیز اقارب اور پیاروں کو یاد کرتے ہیں اسی طرح کرسمس پر بھی ہمیں اپنے یہ دوست یاد آتے ہیں۔ کئی سال تک میں کرسمس کی رات کو ڈگلس جیری کو کرسمس مبارک کہتا تھا اور جواب میں جیری مجھے خیر مبارک مسلمانو کہتے تھے۔ جیری کے ساتھ ہم نے کرسمس کی ایک سرد رات ڈاکٹر عامر سہیل کے ہمراہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع ان کے گھر میں گزاری تھی جہاں اس نے کرسمس کی خوشی میں دوستوں کے لئے محفل موسیقی کا اہتمام کیا تھا۔ اس رات اس نے جو سر چھیڑے وہ آج تک سماعتوں میں محفوظ ہیں۔ اسی رات ہماری ملاقات بھابھی جبین سے بھی ہوئی۔جیری دنیا سے چلے گئے تو کچھ عرصہ ہماری طرف سے کرسمس کا پیغام بھابھی کے لئے پرسہ بنا رہا اور پھر ایک روز وہ بھی چلی گئیں۔ لیکن میں آج بھی ان دونوں کو کرسمس کی مبارک باد دیتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ دیتا ہوںکہ وہ ان تک پہنچتی بھی ہے۔
روزنامہ ” نیا دن“ میں پرکاش جیمز ہمارے ساتھ کام کرتےتھے ، انگریزی مضامین کا ترجمہ ہم ان سے کراتے تھے۔ بہت ہنس مکھ انسان ، ان کی آواز گمبھیرتاہمیں ہمیشہ مسحور کرتی تھی ۔ وہ سینئر صحافی عبدالقادر یوسفی کے بھی دوست تھے اور اسی دوستی کے حوالے سے یوسفی صاحب کو چچا جوزف کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ یوسفی صاحب کے ساتھ ایک مرتبہ ہم پرکاش جیمز صاحب کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لئے کینٹ والے گرجا گھر بھی گئے تھے جسے ککڑ والا گرجا بھی کہا جاتا ہے ۔ پرکاش جیمز کو ہم آج بھی کرسمس کی مبارک باد دے رہے ہیں کہ وہ پیرانہ سالی کے باعث اب گھر تک محدود ہو چکے ہیں۔
نذیر قیصر ، جاوید یاد ، شوکت قادری سمیت ہمارے بہت سے مسیحی دوست کورونا میں آنے والا پہلا کرسمس منا رہے ہیں۔ آج کے دن ان سب کے لیے نیک تمنائیں اور مبارک باد۔ دعا ہے کہ آنے والے برسوں میں سب کے تہوار مختلف ماحول میں ہوں۔ وہی ماحول جو کووڈ 19 سے پہلے تھا۔

( بشکریہ : روزنامہ سب نیوز اسلام آباد )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker