عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

قسم پیڑ کی : روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

ہم لوگ اپنی شاعری سے بھی مایوس ہیں افسانے سے بھی مایوس ہیں، تنقید سے بھی مایوس ہیں ،سیاست سے بھی مایوس ہیں اور ملک کے مستقبل سے بھی مایوس ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ادب، سیاست اور دوسرے شعبوں میں بھی اپنی آئیڈیل وہی شخصیات رکھی ہوئی ہیں جو ہمارے دل ودماغ پر گہرے نقوش چھوڑ گئی ہیں مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ ’’نرگس‘‘ ہزاروں سال اپنی بے نوری پہ روتی ہے اور پھر کہیں جاکر کوئی دیدہ ور پیدا ہوتا ہے ۔تو وہ ’’دیدہ ور‘‘ تو فی الحال ہمارے کسی بھی شعبے میں موجود نہیں ہے نہ ہمارے ہاں اور نہ ہی دنیا کے کسی اور ملک میں ،ٹی ایس ایلیٹ نے کہا تھا کہ بڑا شاعر جب پیدا ہوتا ہے تو اپنے سے بعد کے سو سال کھا جاتا ہے تو مایوس وہ لوگ ہوتے ہیں جو آئیڈیلزم کا شکار ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت بھی بہت عمدہ شاعری ہو رہی ہے اور بہت عمدہ افسانہ لکھا جا رہا ہے ۔آج سے پہلی نسل کو نقاد میسر تھے جو جوہری کا کام کرتے تھے آج کی نسل کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ایسے نقادوں اور ایسے جوہریوں سے محروم ہے جو ان کے لئے گوہر نایاب چنے۔میں نقاد نہیں ہوں اور ادب کے حوالے سے کسی گروپ بندی کا سرے سے قائل نہیں ہوں مجھے بطور قاری جب کبھی کوئی چیز بہت اچھی لگتی ہے تو سال میں ایک آدھی مرتبہ اپنی لذت میں اپنے قارئین کو بھی شریک کرلیتا ہوں حالانکہ ہفتے میں ایک آدھ ایسی چیز ضرور نظر سے گزرتی ہے جو کالم میں شامل کرنا چاہتا ہوں مگر مجبوری یہ ہے کہ میرے کالم کا ’’نیٹ سیٹ ‘‘ حالات حاضرہ ہیں اور روز کچھ نہ کچھ اس حوالے سے لکھنا پڑتا ہے ۔
گزشتہ روز جواد جعفری( جو اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر بھی لکھتے ہیں کہ ادب میں ان کی پی ایچ ڈی ہے ویسے میرے خیال میں کسی شاعر کو اپنی ڈگری لکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ) ایک طویل نظم کا ایک حصہ’’قسم پیڑ کی ‘‘ نظر سے گزرا یہ بہت مختلف قسم کی شاعری ہے اور بہت عمدہ ہے اس امر کا امکان موجود ہے کہ بہت سے قارئین جو ایک خاص قسم کی شاعری کے عادی ہیں اس سے پوری طرح حظ نہ اٹھا سکے مگر شاعری کے نئے رویوں سے آگاہی سے بھی ہمارا ٹیسٹ ڈویلپ ہو سکتا ہے ذیل میں یہ نظم درج ہے ۔
قسم پیڑ کی جو اندھے اور زخمی پرندوں کا رین بسیرا ہےجس کا پھل بیماروں کے لئے شفا اور پانی پیاسے مسافر کی آخر امید ہے وہ میزبانی کی نفی تاریخ رقم کرتا ہے۔
قسم پیڑ کی جو خاک سے وفاداری کا ہنر سکھاتا ہے اس کی شاخیں خوبصورت جسموں کو لوچ عطا کرتی ہیں وہ انسانوں سے بڑھ کر خوش رفتار ہے اس کے سبز تنےپر میری بھوک لکھی ہے ۔
قسم پیڑ کی جو بدنصیب دوشیزہ کا سہاگ ہے جس کی شاخوں سے دکھی دلوں کی منتیں آویزاں ہیں۔
قسم اس پیڑ کی جو بوسیدہ قبروں کے کنارے سائے تقسیم کرتا ہے اور تاریکی میں خاک ہوتے متکبر لہجوں کے بھید جانتا ہے ۔
قسم پیڑ کی دھوپ انسان کا مقدر ہے وہ دن دور نہیں جب سائے زمین سے ہجرت کر جائیں گے (ایک زیادہ بہتر دنیا کی طرف )اور زمین پر صرف لکڑی رہ جائے گی جو ہنستی بستی آبادیوں کو جلانے کے کام آئے گی ۔
قسم پیڑ کی جس نے جلتی ہوئی زمین کو اپنے سائے کی چھتری ہدیہ کی جس کے لذیذ پھلوں پر امتناع کی سطر لکھی ہے اس کی گھنی شاخوں میں مقدس سانپ پھنکارتا ہے جو ازار بند بن کر میری کمر کے گرد رینگ رہا ہے ۔
قسم پیڑ کی جس کے سائے میں اولین انسان کے لئے تمجید کی گئی جس کے سائے کے روبرو دھوپ خجل ٹھہری۔
قسم پیڑ کی جس کی نرم چھال کی اوٹ سے جسم کے لیڈ ترین اعضاء سندیسے بھیجتے ہیں چھال جس کے ساتھ میں نے پہلی بار اپنی اداسی شیئر کی۔
قسم اس پیڑ کی جس کے اولین پھل ڈیلفی کے غیب دانوں کے د سترخوانوں کی نذر ہوئے ۔
قسم پیڑ کی جس کی لکڑی بپھرے ہوئے پانی کے سامنے سرخرو ٹھہری سمندر جس کے آگے ماتھا رگڑتا ہے جو پانی کی شفاف سطح پر تیرتی ہے اور کناروں کے درمیان خیر سگالی کے پل تعمیر کرتی ہے ۔
قسم اس پیڑ کی جس کی بے گناہ بلندی سے مظلوموں کا خون ٹپکتا ہے اس کی روتی ہوئی شاخوں سے جلتے ہوئے چراغ آویزاں ہیں۔
(بشکریہ : روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker