عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

پراچہ صاحب اور کھانے پینے کےآداب: روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

میں نے ایک دفعہ علامہ شکم پرور لدھیانوی کی خوراک دشمنی کے حوالے سے آپ کو کچھ باتیں بتائی تھیں مگر جب سے پراچہ صاحب سے میری ملاقات ہوئی ہےمیں نے ان کی جگہ پراچہ صاحب کو وکٹری اسٹینڈپر کھڑا کر دیا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے خوراک دشمن دیکھے ہیں لیکن پراچہ صاحب، ایسا مرد ِ میدان کم کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ پراچہ صاحب جب کھانےکی میز پر بیٹھتے ہیں تو خود کو میدان جنگ میں محسوس کرتے ہیں۔ وہ دشمن پراس طرح جھپٹتے ہیں کہ ان کے ہنر اورچابکدستی کی داد دینا پڑتی ہے۔کبھی کبھار جب ان کے دل میں چھری کانٹے سے کھانے کا شوق ابھرتا ہے تو وہ منظر خصوصاً دیدنی ہوتا ہے۔ دشمن کے دل پر ان کی اتنی ہیبت طاری ہوتی ہے کہ وہ جان بچانے کےلئے پلیٹ میں اِدھراُدھر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے مگر پراچہ صاحب اس کا پیچھا اس وقت تک کرتے ہیں جب تک وہ ان کی چھری کی زد میں نہیں آ جاتا۔ تاہم پراچہ صاحب کا کہنا ہے کہ وہ کھانے کو ایک فضول ایکٹویٹی سمجھتے ہیں چنانچہ وہ اس وقت تک کھاتے رہتے ہیں جب تک وہ کھانے سے متنفر نہیں ہوجاتے۔ یہی عمل وہ اگلے دن بھی دہراتے ہیں بلکہ گزشتہ برس ہا برس سے دہرا رہےہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ عمل سو سال کی عمر میں بھی اس وقت تک دہراتے رہیں گے جب تک وہ کھانے سے ہمیشہ کے لئے متنفر نہیں ہوجاتے۔ ان کی یہ کوشش اس حدتک ضرور کامیاب ہوئی ہے کہ انہیں کھاتا دیکھ کر بہت سے لوگ کھانے سے متنفر ہوچکے ہیں۔
کسی زمانے میں پراچہ صاحب کی دشمنی مرغ کے ساتھ زوروں پر تھی جسے وہ ککڑ کہتے تھے۔ ککڑ کو دیکھتے ہی ان کے سارے جسم پر دانت اُگ آتے۔ انہوں نے اس زمانے میں اتنے ککڑ کھائے کہ ان کے قریب بیٹھنے والوں کو باقاعدہ بانگیں سنائی دیتی تھیں۔ ان کی مرغ دشمنی کا یہ عالم تھا کہ مرغوں نے صبح کے وقت اس خوف سے اذانیں دینا بند کردیں کہ کہیں پراچہ صاحب ان اذانوں کا پیچھا کرتے کرتے ان تک نہ پہنچ جائیں۔ جس شام کو کوئی مرغ اپنے ڈربے میں صحیح سلامت واپس آتا، مرغیاں سجدہ ٔ شکر ادا کرتیں۔ لاپتہ مرغوں کی بازیابی کے لئے مرغیوں نے کئی مرتبہ پراچہ صاحب کے گھرکے سامنے مظاہرہ بھی کیا۔ ایک دفعہ تو وہ اسلام آباد بھی گئیں لیکن ان کی شنوائی نہ ہوئی بلکہ اس کے بعد پراچہ صاحب کی مرغ دشمنی میں اضافہ ہو گیا۔ اس میں کمی تو برڈ فلو کے بعد آئی۔ پراچہ صاحب کا کہنا تھا کہ اب اس مخلوق سے دشمنی کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ اپنی دشمنی پر خود اترآئی ہے۔ پراچہ صاحب جب کھانے بیٹھتے ہیں تو بھوک نہیں دیکھتے گھڑی دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کھانا ڈیڑھ گھنٹے تک کھاتے رہنا چاہئے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پراچہ صاحب اچھی صحت کے لئے ایکسرسائز بہت ضروری سمجھتے ہیں چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ ڈیڑھ گھنٹے تک کھانے کا مطلب ڈیڑھ گھنٹے تک ایکسرسائز کرنا ہے۔ انسان اس دوران لقمہ توڑتاہے، یہ ہاتھ کی ورزش ہے۔ اس کے بعد یہ لقمہ منہ تک لے جاتا ہے، یہ بازو کی ورزش ہے۔ پھر یہ لقمہ منہ میں ڈالنے کے لئے منہ کھولتاہے، یہ منہ کی ورزش ہے۔ پھر وہ یہ لقمہ چباتا ہے، یہ دانتوں اورجبڑوں کی ورزش ہے چنانچہ اس ورزش کے نتیجے میں پراچہ صاحب کی صحت دن بدن پھیلتی چلی جارہی ہے۔ ڈاکٹر کئی مرتبہ انہیں صحت کا پھیلائو کم کرنے کا مشورہ دے چکےہیں بلکہ وہ یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ اگر پراچہ صاحب نے اپنی صحت کم نہ کی تو وہ فوت نہیں ہوں گے بلکہ ایک دن بیٹھے بیٹھے پھٹ جائیں گے۔ اس پر پراچہ صاحب بھرپور قہقہہ لگاتے ہیں۔ اس قہقہے کے دوران پراچہ صاحب کے جسم کے مختلف حصے علیحدہ علیحدہ پھڑپھڑاتے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں دوبارہ بھوک لگ جاتی ہے اور وہ ایک بار پھر کھانا کھانے بیٹھ جاتے ہیں۔
پراچہ صاحب کےوالد بزرگوار اور ان کے دادا حضور بھی انہی کی طرح بسیارخور تھے۔ ا ن بزرگوں کو سیاحت کا بہت شوق تھا چنانچہ یہ جہاں بھی جاتے وہاں کچھ دنوں کے بعد قحط پڑ جاتا۔ مختلف اوقات میںدنیا کے مختلف ملکوں میں جو تاریخی نوعیت کے قحط پڑے ان میں پراچہ صاحب کے بزرگوںکا بہت دخل تھا۔ زیادہ دور جانے کی کیا ضرورت ہے۔ کسی زمانے میں ہمارا پنجاب غلےکے معاملے میں خودکفیل ہی نہیں بلکہ غلہ برآمد بھی کرتا تھا۔ اب ہمیں درآمد کرنا پڑتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پراچہ صاحب روایت پسند انسان ہیں۔ وہ اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں چنانچہ ایک خیال یہ ہے کہ پنجاب میں غلے کی پیداوارمیں کمی نہیں آئی بلکہ جو زوال نظر آرہا ہے اس میں پراچہ صاحب کے کمال کا دخل ہے۔
پراچہ صاحب بہت لبرل مسلمان ہیں ۔ نماز روزے سے تو کچھ زیادہ رغبت نہیں ہے تاہم ان تمام مذہبی رسموں کے قائل ہیں جن کا تعلق کھانے پینے سے ہے چنانچہ خود بھی نذر نیاز کا اہتمام کرتے ہیں اور دوسروں کی طرف سے دی گئی نیاز میں صرف اپنے ان نیاز مندوںکو مدعوکرتے ہیں جو ان کے سامنے سےکوئی چیز اٹھانے کی جسارت نہ کریں چنانچہ یہ نیازمند آخر میں صرف دعا میں شریک ہوتے ہیں۔ پراچہ صاحب چہلم کی تقریبات میں بھی بڑی باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں بلکہ اجنبیوں کےہاں بھی چلے جاتے ہیں، وجہ ایک دن سب کو مرنا ہے۔ چنانچہ وہ ایسے موقع پر بلاوجہ کے انتظار میںرہنے کو نفس امارہ کا بہکاوا سمجھتے ہیں۔ چہلم کی تقریب میں وہ اپنے کھانے کی روٹین یعنی ڈیڑھ گھنٹے کے دورانیے کو دوگھنٹے تک بڑھا دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کا مقصد محض مرحوم کی روح کو زیادہ سے زیادہ ثواب پہنچانا ہوتا ہے کیونکہ لواحقین نے کھانے کا انتظام کیا ہی مرحوم کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے ہوتا ہے۔ ایک دفعہ کھانے کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور بآواز بلند مرحوم کی مغفرت کے لئے دعا مانگنا شروع کی جس پر کچھ نوجوانوں نے اُٹھ کر ان کی پٹائی شروع کردی کیونکہ یہ دعوت ولیمہ تھی۔ پراچہ صاحب دراصل کنفیوز ہوگئے تھے کیونکہ ان کے ذہن پر وہ دعوت چہلم سوار تھی جس میں انہوں نے اس کے بعد شرکت کرنا تھی۔
پس نوشت:ان دنوں میرے پی ٹی وی کے مقبول عام پروگرام ’’کھوئے ہوؤں کی جستجو‘‘ کے حوالے سے کردار کشی کی ایک نہایت مضحکہ خیز مہم کچھ ٹی وی چینلز پر چلائی جارہی ہے اور مجھ پر کرپشن کاتو کوئی الزام نہیں لگایا گیا البتہ یہ پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ اس پروگرام پر بیس کروڑ روپے خرچ ہوئےا ور ان بیس کروڑ میں پروگرام کا سارا بجٹ بھی شامل کردیا گیا ہے۔ حالانکہ میں نے اس پروگرام کا کوئی معاوضہ وصول نہیں کیا تھا۔ اس موضوع پر کل اپنا نقطہ نظر پیش کروں گا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker