عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عالی جناب چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان : روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

عزت مآب جناب ثاقب نثار صاحب میرےآج کے کالم کے مخاطب آپ اور آپ کے رفقاکار ہیں۔
میں جب سیاستدانوں کے بیانات کی شہ سرخیاں اخبارات میں پڑھا کرتا تھا تو جل بھن کر رہ جاتاتھا۔آج بالآخر میرےکلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی جب میں نے بیشتر اخبارات میں اپنے نام کے حوالے سے شہ سرخیاں دیکھیں اور یہ سپریم کورٹ میں میری پی ٹی وی میں بطور چیئرمین تقرری کے حوالے سے تھیں۔ اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو فاضل چیف جسٹس اور آ پ کےرفقا کو اعتراض میری اہلیت پر نہیں تھابلکہ تقرری کے طریق کار پر تھا، جو بظاہر نہیں ہونا چاہئے تھا کہ اول تو میری معلومات کے مطابق تقرری کے حوالے سے تمام قانونی پہلوؤں کو پورا کیا گیا تھا۔ تاہم اس کا فیصلہ آپ ہی نے کرنا ہے۔ دوسر ے ایک اعتراض غالباً تنخواہ پر بھی تھا جو کورٹ کے نزدیک زیادہ تھی۔ میری معلومات کے مطابق ایک بہت بڑے ادارے کے سربراہ کی تنخواہ ان اینکروں سے کہیں کم رکھی گئی تھی جو ہفتے میں صرف تین چارپروگرام کرتے ہیں۔ ا ن میں پچاس پچاس لاکھ روپے ماہوار تنخواہ لینے والے اینکر بھی شامل ہیں۔ ہمارے ہاں بلکہ پوری دنیا میں ایسے بہت سے شعبے ہیں جہاں تقرری کے وقت تعلیم نہیں صرف اس کام کی اہلیت دیکھی جاتی ہے جس کے لئے اسے رکھا گیا ہوتا ہے۔ اخبارات کے ایڈیٹر کاپی ایچ ڈی ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کا تجربہ اور اہلیت دیکھی جاتی ہے۔ بہت بڑی بڑی فرموں کے چیف ایگزیکٹو نیچے سے اوپر تک اپنی اس محنت کے بل بوتے پر پہنچتے ہیں جو انہوںنے اس شعبے میں کی ہوتی ہے۔ ہماری فوج میں جنرل ٹکا خان، جنرل سوار خان اور جنرل موسیٰ خان سپاہی سے جنرل کے عہدے تک پہنچے تھے۔ ابوالاثر حفیظ جالندھری شاید آٹھ جماعتیں پاس تھے مگر وہ ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشن کے عہدے پرفائز رہے اور ان کی ماتحتی میں کام کرنے والوں میں ابن انشا، ضمیر جعفری اورغالباً احمدبشیر ایسے زعما بھی شامل تھے۔ ہمارے عہدسازشاعرفیض احمد فیضؔ کرنل کے عہدے پربھی فائز رہے ہیں۔ میرے دوست اور صف ِ اول کے کالم نگار نذیر ناجی سرے سے اسکول ہی نہیں گئے لیکن وہ اکیڈمی آف لیٹرز ایسے ادارے کے چیئرمین رہے اور انہوں نے بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان دنوں وہ بیمار ہیں، اللہ انہیں صحت کاملہ عطافرمائے۔ استادوں کے استاد شاعر احسان دانش جس یونیورسٹی کی تعمیرکے دوران پاؤں سے گارا بنانے کی مزدوری کرتے تھے آج اسی یونیورسٹی میں ان پر پی ایچ ڈیز ہورہی ہیں۔ ان کی زندگی میں یونیورسٹیوں نے کئی اہم منصوبوں کے لئے ان کی خدمات حاصل کیں۔
جناب والا! آپ نے میری تقرری کے طریق کار کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ جو فیصلہ بھی سنائیں گے وہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہوگا۔ محترم چیف جسٹس عزت مآب ثاقب نثار صاحب! آپ نے فرمایا کہ امریکی صدر کسی کو ایک کھوکھا بھی الاٹ نہیں کرسکتا۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے اس کے مطابق نیا صدرِ امریکہ تقریباً دو ہزار نئی تقرریاں کرتاہے تاکہ وہ نئی ٹیم کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکے۔ مجھے اپنے بارے میں کچھ کہنا اچھا نہیں لگتا کہ یہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات لگتی ہےلیکن مجبوراً کچھ معروضات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ میری زندگی کے 35برس پی ٹی وی کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں کام کرتے گزرے ہیں۔ میں نے اس قومی ادارے کےلئے ایسے ڈرامہ سیریل لکھے جنہیں یادگارقرار دیا گیا اور یہ باربارٹیلی کاسٹ کئے گئے جن میں ایک ’’خواجہ اینڈ سن‘‘ بھی تھا جس کے کئی کردارمثلاً جواد جی، آفٹر آل میں داماد ہوں، استاد اللہ دتا اداس سپرہٹ گئے۔ میرا ایک ڈرامہ سیریل ’’شب دیگ‘‘ بھی تھا جس میں ’’انکل کیوں‘‘ آج بھی لوگوں کی یادداشت میں محفوظ ہے۔ اس میں ’’کاکا منا‘‘ بھی تھا جسے ہڈیوں کے جوڑ توڑ کاماہر دکھایا گیا تھا اور جس کی معصومیت قہقہہ بارہوتی تھی۔ ایک ڈرامہ ’’آپ کاخادم‘‘ تھا جس کا کردار ’’شیدا ٹلی‘‘ اتنا مقبول ہوا کہ بیچارے شیخ رشید احمد کے نام کے ساتھ خواہ مخواہ نتھی ہو گیا۔ اس زمانے میں شیخ رشید کے لاہور آنے پر ایک انگریزی اخبار کی سرخی تھی”Sheeda Talli arrives Lahore” اس کے علاوہ ’’ہر فن مولا‘‘، ’’سارے گامے،‘‘ اپنے پرائے‘‘، ’’علی بابا چالیس چور‘‘ اور دیگر اردو ڈراموں کے علاوہ پنجابی ڈرامے بھی لکھے۔ صرف یہی نہیں ٹی وی کے مختلف پروگراموں میں شریک بھی ہوتارہا اوریوں ان دنوں میری زندگی کے شب و روز ٹی وی اسٹیشن ہی میں گزرتے رہے اور یوں ٹی وی کے تمام شعبوں سے آگاہی کا موقع ملا!
جہاں تک میری تنخواہ کا تعلق ہے، جناب والا! وہ ٹی وی کے برگزیدہ اینکر سے آدھی بھی نہیں تھی مگر کہا گیاکہ مجھ پر ایک کروڑ روپے ماہانہ خرچ ہوتے تھے۔ اس ایک کروڑ کی داستان بھی سن لیں۔ میں نے چیئرمین ہوتے ہوئے بھی اپنی اضافی سوجھ بوجھ کو استعمال میں لانے اور ٹی وی پروگراموں کو بہتر بنانے کی دوسری کاوشوں کے علاوہ ایک پروگرام ’’کھوئے ہوؤں کی جستجو‘‘ کے نام سے شروع کیا۔ جس میں، میں خود بھی موجود ہوتا تھا۔ اس پروگرام میں ملک کے مایہ ناز فنکاروں، اسکالروں، شاعروں، ادیبوں، گلوکاروں، موسیقاروں، دانشوروں، صحافیوں، سیاستدانوں اور زندگی کے دیگرشعبوں سے تعلق رکھنے والوں کے انٹرویو کئے جو ا ن کے بچپن اور جوانی کے حوالے سے تھے اوریوں ان کی زندگی کے وہ پہلو پہلی بار سامنے آئے جنہیں قارئین نے بے حد پسند کیا اور یوں یہ پروگرام سپرہٹ ہو گیا۔ یہ پروگرام آرکائیو حیثیت کےہیں اور ٹی وی کے لئے مستقل اثاثہ ہیں۔ میری تنخواہ ایک کروڑ ثابت کرنے کے لئے بہت مضحکہ خیز حرکت یہ کی گئی کہ پاکستان کے ہر ٹی وی چینل کی طرح اس پروگرام کے پرومو بھی چلائے گئے جو ایک طرح سے فلر ہوتے ہیں۔ ان فلرز کی لاگت چودہ کروڑ روپے نکال کر اسے بھی میرے اخراجات میں شامل کردیا گیا۔ اسی طرح پی ٹی وی کے مختلف پروگراموں کے اشتہارات چند اخبارات میں بارٹر سسٹم کے تحت شائع ہوتے ہیں۔ کئی کروڑ روپے ان اشتہاروں کے اخراجات کے طور پر میری ’’تنخواہ‘‘ میں شامل کردیئے گئے۔ یہ ایک لمبی مضحکہ خیز داستان ہے جس کی تفصیل میں جانے سے میڈیا ہاؤسز سے وابستہ افراد یقیناً محظوظ ہوں گے اور اس پہلو سے بھی کہ پروگرام کاجو بجٹ منظور کیا گیا تھا وہ بھی شامل کرکے یہ تنخواہ ایک کروڑ روپے ماہانہ کردی گئی۔
جناب والا! یہ سب ڈرامہ اس وقت کیا گیا جب میں نے منسٹری آف انفارمیشن کی نالائقیوں کا حوالہ دے کر اپنی مدت ِ ملازمت سے ایک سال پہلے استعفیٰ دے دیا مجھے ایک میٹنگ میں استعفیٰ واپس لینے کے لئے کہاگیا مگر میں نے یہ ذمہ داری حصول ِزر کیلئے نہیں پی ٹی وی کی عظمت ِ رفتہ کی بحالی کے لئے قبول کی تھی!
میں نے اس عظمت ِرفتہ کی بحالی کے لئے کیا کیا؟ میں نے اس دور کے سیکرٹری انفارمیشن عمران گردیزی، جن کے پاس ایم ڈی کا اضافی چارج بھی تھا اور جو میری ہی طرح ٹی وی کی بہتری کے لئے پرجوش تھے، کے تعاون سے پرائیویٹ پروڈکشن ہاؤسز کے پروگرام خریدنا بند کردیئے۔ میری سوچ یہ تھی کہ ہم نے اگر سارے پروگرام باہر ہی سے خریدنا ہیں تو پھر پی ٹی وی کے چھ ہزار ملازمین اور 26اسٹوڈیوز کس لئے ہیں۔ خبرنامہ بھی باہر سےخرید لیا کریں۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ آئندہ باہر سے کوئی پروگرام نہیں خریدا جائے گا بلکہ آئندہ اِن ہاؤس پروڈکشن ہوا کرے گی۔ نہ صرف یہ کہ پورے دور میں اس پر عمل ہوا بلکہ ممتاز فنکاروں کے نئے پروگرام شروع کئے گئے۔ ان میں ڈاکٹریونس بٹ، فاروق قیصر، اداکارہ ریما، کنول مسعود اور اس لیول کے کئی دوسرے پروگرام شامل تھے۔ آج الحمد للہ پی ٹی وی سے نشر ہونے والے سب پروگرام اس کی اپنی پروڈکشن ہیں۔ بات لمبی ہوتی جارہی ہے مگر جناب چیف جسٹس میرا دل بہت بوجھل ہے۔ میں آج آپ کے ساتھ بہت کچھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ کہا گیا کہ مجھ پر ایک کروڑروپے ماہانہ خرچ ہوتے تھے۔ جناب والا! پی ٹی وی بجلی کے صارفین سے ان کے بلوں کے ساتھ جو 35روپے اضافی وصول کرتا تھا، اس میں سے بیس روپے واپڈا والے سروس چارجز کے طور پروصول کرتے تھے اوریوں پی ٹی وی کو صرف پندرہ روپے وصول ہوتے تھے۔ اس وقت کے ایم ڈی برادرم محمد مالک نے مجھے کہا کہ اگر آپ وزیراعظم سے مل کر ایک کام کرالیں تو یہ ٹی وی پر آپ کابہت بڑا احسان ہوگا اور وہ یہ کہ واپڈا والے 20روپے سروسز چارجز کی بجائے ٹوکن کے طورپرصرف 5روپے کاٹ لیاکریں تو ہمارے بہت سے معاشی مسائل حل ہوجائیں گے۔ میں سمری لے کروزیراعظم نواز شریف صاحب کی خدمت میں حاضرہوا۔ انہوں نے کہا آپ یہ چھوڑ جائیں میں مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرسکوں گا۔ الحمد للہ، الحمد للہ یہ کام ہو گیااور اس کے نتیجے میں آج تک پی ٹی وی کی آمدنی میں 70کروڑ روپے کا اضافہ ہوچکاہے۔ جنابِ والا! ابھی بہت کچھ کہنے کوہے مگر مجھے آپ کے قیمتی وقت کا احساس ہے۔ بس اپنے دل کا تھوڑاسا بوجھ ہلکا کرلیا ہے۔ فیصلہ بہرحال آپ ہی نے کرنا ہے مگر میں ممنون ہوں کہ آپ نے میری معروضات پڑھنے کےلئے وقت نکالا۔ یہ میرا حسن ظن ہے کہ آپ ان معروضات کو پڑھنے کے لئے کچھ وقت ضرور نکالیں گے!
(بشکریہ : روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker