ایک عرصہ بعد ملک میں ایک بار پھر سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے۔ سونے پر سہاگہ بارشوں نے بھی رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پے در ہے قدرتی آفات سانحات اور واقعات کے باوجود نہ تو ہماری حکومت ان معاملات کے مستقبل تدارک کے لئے کچھ کرتی یے اور نہ ہی متعلقہ ادارے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے ٹس سے مس ہوتے ہیں۔
حکمرانوں، سیاستدانوں، بیوروکریسی، میڈیا اور مختلف اداروں کی طرف سے قدرتی آ فات اور بھارتی آ بی جارحیت کا ڈھنڈورا تو پیٹا جا رہا ہے مگر اپنی نااہلیوں پر سبھی پردہ ڈال رہے ہیں۔ ایک عرصے سے بھارت پاکستان دشنمی میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ہر بار دریاؤں کا وافر پانی بھی چھوڑتا ہے۔ مگر ہم نے آ ج تک نہ تو ڈیم بنائے نہ ہی مختلف صوبوں کے درمیان اس حوالے سے اختلافات ختم کر سکے۔ ایک صوبہ دوسرے کی کارکردگی ہر سوالیہ نشان اٹھاٹا ہے تو دوسرا اس کے نقصانات پر خوش ہوتا ہے۔ حالانکہ ایسے واقعات سے بروقت نمٹنے میں ناکامی ہی حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ہر حکومت اپنے چہیتوں کے ناز نخرے اٹھانے ہوئے انہیں اصول و ضوابط سے ہٹ کر نوازتی ہے۔ انہیں سیاسی وفاداریاں بدلنے کے لئے انعامات و اعزازات سے نوازتے ہیں اور پھر جب ایسی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے تو ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی جاتی ہے۔ کسی غریب نے اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی پلازے نہیں بنائے، کسی نے دریائی اور ساحلی راستوں پر ہوٹل نہیں بنائے، کسی نے لب دریا ہاوسنگ سوسائٹیوں کی نوازشات نہیں لیں۔ یہ سب حکومتی اور بیوروکریسی کے منظور نظر اور حمایت یافتہ لوگ ہیں۔ اس بار دریا بپھرے ہوئے ہیں، پہاڑی علاقوں کے پھتروں کو چوم ریے ہیں اور میدانی علاقوں سے قبضہ گروپوں سے اپنے قبضے اہنے زور بازو سے واگزار کرا رہے ہیں کہ قبضہ گروپوں کے خاتمے اور ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے لئے قائم ادارے اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔
یہاں راتوں رات غیر قانونی این او سی لے کر پلازے کھڑے کر دییے جاتے ہیں۔
تعمیراتی قوانین کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں بغیر پارکنگ کے پلازے بنائے جاتے ہیں۔
ٹیکس حکومت کے خزانے میں جانے کی بجائے ادارے کے مگر مچھوں کی جیبوں میں جاتا یے۔
سستے داموں اور کوڑیوں کے بھاؤ خریدی گئی زمینوں کو کروڑوں کے بھاؤ بیچا جاتا ہے۔ قدرتی آفات ہوں سیلاب ہو طوفانی بارشوں کا سلسلہ ہو، بجلی کا بریک ڈاؤن ہو، کہیں آ گ لگ جائے ہمارے اداروں کے ہاتھ پاوں پھول جاتے ہیں۔ وہ آلات اور مین پاور اور فنڈز کی کمی کا رونا رونے لگ جاتے ہیں۔ پہلے سے نہ تو کوئی حکمت عملی وضع کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی کارکردگی قابل تحسین ہوتی ہے۔ ہمارے حکمران محض میڈیا پر سب اچھا دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ پروٹوکول بیرونی دوروں اور سرکاری اداروں پر اپنے نام کی تختیاں لگا کر ہمارے حکمران عوامی مسائل اور ان کی آ ہ و فغاں سے بالکل بری ہو جاتے ہیں۔ ہمارا میڈیا بھی وہی بولتا ہے جو حکومتی پالیسی اور خواہشات کے عین مطابق ہوتا ہے۔ اس لئے ہمارے مسائل جوں کے توں ریتے ہیں۔ اور ہم آ نے والی آفات کے آ گے بے بس ہو جاتے ہیں۔
حالیہ سیلاب اور بارشوں نے ترقیاتی اداروں کی کارکردگی کا پول بھی کھول کے رکھ دیا ہے۔ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ جہاں پانی کھڑا ہے، عمارتیں بوسیدہ ہیں، دوائیں موجود نہیں ہیں۔ جن کے حوالے فنڈز اور دوائیں کی جاتی ہیں، ان سے حساب لینے والا کوئی نہیں ہے۔ مریض باہر سے دوائیں لینے اور ڈاکٹر باہر کی دوائیں لکھنے پر مجبور ہیں۔ سرکاری اسپتالوں کی لفٹ اور لیبارٹری اکثر بند ملتی ہیں۔ ٹیسٹ کرنے والی مشینوں کو بند کر کے پرائیویٹ اسپتالوں کی لیبارٹری سے مہنگے ٹیسٹ کرا کے غریب کی جیب خالی اور اپنا کمشن کھرا کیا جاتا ہے۔ سیلاب میں بھی بیچارا غریب ہی گھاٹے میں رہتا ہے۔ شہروں کو بچانے اشرافیہ کے گھروں فیکٹریوں اور زمینوں کو بچانے کے لئے، دہہی آ بادیوں کو قربان کیا جاتا ہے۔ بااثر زمین داروں کی زمین کی خاطر غریب کسان کی زمین اور فصلیں قربان کر دی جاتی ہیں بقول محسن نقوی:
محسن غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں
ملبے میں دب گئے کبھی پانی میں بہہ گئے
اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات کئے جاریے ہیں۔ ضلعی حکومتیں بھی مقدور بھر اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ سیلاب زدگان کے لئے فلڈ کیمپ قائم کئے جارہے ہیں۔ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پاک فوج کے جوان بھی سیلاب زدہ علاقوں میں ماضی کی طرح اب بھی اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔
سماجی اور عوامی حلقے بھی میدان میں موجود ہیں لیکن اس مستقل مسئلے کے حل کے لئے مربوط حکمت عملی اور نیک نیتی کا ہونا اور متعلقہ اداروں کا فعال اور فرض شناس ہونا ضروری ہے۔
ہم حقوقِ العباد کی خلاف ورزی کر کے ملاوٹ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع کر کے رحمتوں کی بارش کے طلبگار ریتے ہیں۔ رشوت سفارش اور ظلم کا بازار گرم کر کے قدرتی آفات سے بچنا چاہتے ہیں۔ ہم سب کو اہنے آ پ کو بدلنا ہوگا تب ہی ہماری حالت بھی بدلے گی کہ:
خدا نے آ ج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
ابھی تو سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے جب یہ اترے گا اور مسائل سامنے آئیں گے۔ فصلوں کی تباہی کیا گل کھلائے گی اور مہنگائی کس طرح آ سمان سے باتیں کرتی نظر آ ئے گی۔ یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ سردست تو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنا اور اس سے متاثرہ افراد کی آ باد کاری اور ان کے نقصان کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ غریبوں کو ان کی فصلوں اور جانوروں کے نقصانات کا معقول معاوضہ ملنا چاہیے۔ شہروں میں سیلاب اتنا متاثر نہیں کرتا جتنا یہ دیہات میں تباہی مچاتا ہے۔ ہسپتالوں میں کتے اور سانپ کے کاٹے کی وافر ویکسین کا ہونا ضروری ہے۔ آئندہ سالوں میں موسمیاتی چیلنج اور مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر اب اس سیلاب کے آگے بند نہ باندھے گئے تو اسے غریب کی جھونپڑی سے امیر کے محل کی طرف جانے سے بھی نہیں روکا جا سکے گا:
آ ئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالب
کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
ایک بات اور بھی سوچنے کی ہے کہ محض دریا اور پہاڑ بھی ہم سے ناراض نہیں ہیں، خدا بھی اپنے بندوں سے ناراض ہے۔ حقوقِ العباد کے ساتھ حقوقِ اللہ کی بھی پاسداری ضروری ہے۔ درختوں کو کاٹ کر اور دریاؤں کی زمین پر قابض ہو کر رہائشی کالونیاں بنانے کی بجائے درخت لگا کر موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کا سوچا جائے۔ تاکہ آ نے والے درپیش چیلنجوں کا اچھے طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

