کوئٹہ : بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سے گرفتار ہونے والی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبرگ بلوچ کوعدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔ پیر کو تحریری بیان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کوئٹہ میں مغربی بائی پاس کے جس علاقے میں دھرنے کا اعلان کیا گیا تھا وہاں پولیس کی بھاری نفری موجود رہی جبکہ سریاب میں قمبرانی روڈ پر جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔
بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے دعویٰ کیا کہ پولیس کی جانب سے دھرنے میں شرکت کے لیے آنے والوں کو گرفتار کیا جارہا ہے تاہم پولیس کی جانب سے کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔بی وائی سی کے رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف کیچ اور دوسرے علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے بروری روڈ پر دھرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ان کے بقول پولیس وہاں دھرنا دینے کے لیے نہیں چھوڑ رہی ہے اور آنے والے لوگوں کو گرفتار کررہی ہے۔ انھوں نے گرفتاریوں کے حوالے سے ویڈیوز بھی شیئر کیں تاہم بروری پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ انھوں نے تاحال آج بروری کے علاقے سے کوئی گرفتاری نہیں کی ہے۔
کوئٹہ میں سریاب کے علاقے قمبرانی روڈ پر مظاہرین دھرنے اور احتجاج کے لیے جمع ہوئے تاہم پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچی ۔ قمبرانی روڈ پر لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔دوسری جانب کیچ اور بلوچستان کے بعض دیگر علاقوں میں بی وائی سی کے رہنمائوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔
کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں ایک ریلی نکالی گئی جس کے شرکاء نے مختلف شاہراہوں کے گشت کے علاوہ شہید فدا چوک پر دھرنا دیا۔ تربت کے علاوہ بلیدہ میں بھی خواتین نے ایک احتجاجی ریلی نکالی۔کیچ سے متصل سرحدی ضلع پنجگور میں سرکاری حکام نے بتایا کہ پنجگور شہر میں بی وائی سی کے رہنمائوں کی گرفتاری کے خلاف آج تیسرے روز بھی شٹر ڈائون ہڑتال رہی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے گرفتار دیگر رہنمائوں کے وکیل عمران بلوچ نے بتایا کہ کوئٹہ میں جتنے لوگوں کو گرفتار کیاگیا ہے ان کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات بھی درج کیے گئے لیکن تاحال گرفتار رہنمائوں اور کارکنوں کو کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ چونکہ ایم پی او کے تحت 24 گھنٹوں کے اندر کسی کو عدالت میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے ان کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جارہا ہے ۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ ایم پی او کے تحت تمام لوگوں کی گرفتاری کو بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں درخواست کی سماعت کل ہوگی۔
انھوں نے تاحال مقدمات میں لوگوں کی گرفتاری کو ظاہرنہ کرنے کے اقدام کو بدنیتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے تاخیری حربے کے طور پر استعمال کیا جائے گا کیونکہ اگر کسی کو ایم پی او میں رہائی مل گئی تو ان کو رہا کرنے کی بجائے بعد میں ان کی گرفتاری دوسرے مقدمات میں کی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ ہم نے عدالتوں سے گرفتار ہونے والے بی وائی سی کے رہنما بیبرگ بلوچ کے علاوہ گرفتار ہونے والے ایک اور شخص قدرت اللہ کے ریلیز آرڈر حاصل کیئے لیکن ان کو بھی رہا نہیں کیا جارہا پے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

