بنوں : خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں کینٹ میں واقع کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے پولیس سٹیشن میں شدت پسندوں کی فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ’اتوار کو سی ٹی ڈی آفس میں زیر حراست مبینہ شدت پسندوں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر ان پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں پاکستانی فوج کے ایک اہلکار سمیت سی ٹی ڈی کا ایک اہلکار بھی زخمی ہو گیا ہے۔‘
ذرائع کا کہنا ہے کہ ’شدت پسندوں نے کچھ سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا ہے۔‘
فائرنگ کے بعد پولیس کی نفری طلب کر لی گئی جبکہ سکیورٹی فورسز نے کینٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق تاحال مبینہ دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ جاری ہے۔
دہشت گرد بنوں چھاؤنی کے گیٹ پر حملہ کر کے اندر گھس گئے، اور سی ٹی ڈی کے ہولڈنگ کمپاؤنڈ میں پہنچ کر کئی لوگوں کو یرغمال بنا لیا۔۔۔
اطلاعات کے مطابق 15 سے زائد یرغمالی اور دو درجن سے زائد دہشت گرد ہیں۔
جن میں اصل حملہ آور اور سی ٹی ڈی کے سیلوں سے آزاد ہونے والے افراد بھی شامل ہیں۔یرغمال بنانے والے عسکریت پسند افغانستان کے محفوظ فضائی سفر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں
بی بی سی کے مطابق سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے بنّوں میں شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے تاہم اُنھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔مقامی ذرائع ابلاغ نے بھی ایسی اطلاعات کے بارے میں خبر دی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے چند تصاویر اور ویڈیو گردش کر رہی ہیں۔
بنوں پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ آج شام کو پولیس کو اطلاع دی گئی کہ فی الفور اور ہنگامی بنیادوں پر بنوں کینٹ کے اندر پاکستان فوج ایک آپریشن کر رہی ہے جس کے لیے کینٹ کے علاقے کی مکمل ناکہ بندی کرنی ہے، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری کو کینٹ کے تمام داخلی راستوں پر تعنیات کر دیا گیا ہے۔
فیس بک کمینٹ

