آج دن کے دوران دو تقریریں اخبارات کی زینت بنی ہیں۔ ان میں سے ایک تقریر وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے جی ایچ کیو کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کی جس میں انہوں نے آرمی چیف کی تعریفوں کے پل باندھے اور دعویٰ کیا گیا کہ جنرل عاصم منیر نے منصب سنبھالتے ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ دوسری تقریر پیپلز پارٹی کے چئیرمین اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کی اور ملکی سیاست میں سے عناد و دشمنی ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان دونوں تقریروں کے مطالعے سے محسوس کیاجاسکتا ہے کہ ملکی سیاست میں سرگرم سیاست دانوں کی پرانی اور نئی نسل کی سوچ اور کام کے طریقہ کار میں بنیادی فرق ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس فرق کو واضح کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری اپنے والد کی نسل پر عائد کی اور کہا ہے کہ انہیں اور مریم نواز کو بہترماحول میں کام کا موقع ملنا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے آصف زرداری اور میاں نواز شریف ایسے فیصلے کریں کہ آئندہ میرے اور مریم کے لیے سیاست آسان ہو۔ انہوں نے کہا ’جب سیاست کو ذاتی دشمنی تک لے کر جایا جائے تو اس کا نقصان ریاست کو اور سب کو ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ ہمارے بڑوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جیسے انہوں نے 30 سال تک سیاست بھگتی ہے، اب مریم اور میں بھی ویسے ہی سیاست کریں‘۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’یہ سیاست دیکھتے دیکھتے اب نوجوان تنگ آ چکے ہیں۔ اور وہ اب نہ ہم پر بھروسہ کرتے ہیں اور نہ کسی اور پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہمیں اپنا رویہ ایسا کرنا ہوگا کہ جس سے 65 فیصد سے زیادہ نوجوان بھروسہ کر سکیں‘۔
پیپلز پارٹی کے نوجوان قائد کی یہ باتیں حکمت سے بھرپور ہیں اور ملکی سیاست میں تازہ ہوا کے ایک جھونکے کی مانند ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری دشمنی اور ضد کی سیاست کی بجائے ایسے طریقہ کار کی بات کررہے ہیں جس میں سیاسی پارٹیاں اپنے منشور کے لئے کام کریں اور اس عمل کو ذاتی دشمنی کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اسی لئے انہوں نے بڑی حوصلہ مندی سے اپنے والد اور میاں نواز شریف کو سیاسی منظر نامہ میں تعاون اور بقائے باہمی کا ماحول پیدا کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ سیاست دانوں کی نئی نسل بھی ماضی قریب کی طرح آپس میں ہی نہ الجھی رہے بلکہ سیاسی اصولوں کی سربلندی کے لئے تعاون ، احترام اور مل جل کر کام کرنے کا ماحول پیدا ہوسکے۔ بلاول کا یہ کہنا درست ہے کہ اگر سیاسی پارٹیوں پر کنٹرول رکھنے والے سینئر سیاست دان جو اپنی طبعی عمریں گزار چکے ہیں ، بدستور ضد اور گروہی مفاد کی بنیاد پر سیاست کرتے رہیں گے تو ملکی سیاست پر نوجوان نسل کا اعتبار اور بھروسہ کمزور پڑتا رہے گا۔ یہ صورت حال ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل اور معاشی استحکام کے لئے ضرر رساں ہوگی۔
بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر اپنے پہلے دورانیے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایک دلچسپ تجربہ قرار دیا جس کے دروان ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب حکومت کو کسی عدالتی حکم یا فوجی طاقت کی وجہ سے سبکدوش نہیں ہونا پڑا بلکہ آئینی طریقہ کار کے تحت تحریک عدم اعتماد کی بنیاد پر تحریک انصاف کی حکومت ختم کرکے اتحادی جماعتوں کی حکومت قائم ہوئی۔ انہوں نے اداروں کے لئے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ روزمرہ انتظامی امور کے حوالے سے طے ہونا چاہئے کہ یہ کام حکومت کو کرنا ہے یا سپریم کورٹ اہم فیصلوں میں شراکت داری کرے گی۔ تاہم اسی کے ساتھ انہوں نے تسلیم کیا کہ موجودہ حکومت 16 ماہ پرمحیط اقتدار کے دوران میں اداروں کو اپنے دائرہ کار میں کام کرنے پر آمادہ کرنے پر کامیاب نہیں ہو سکی۔
ایک قومی پارٹی کے سربراہ اور حکومت میں ایک اہم وزارت پر فائز بلاول بھٹو زرداری کے اس اعتراف کو کسی ناکامی کی بجائے مستقبل کی طرف پیش قدمی کے رہنما اصول کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے درحقیقت ملک کی گنجلک اور مشکل سیاسی صورت حال کی طرف توجہ دلواتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ’اب ہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو سیاست اس طریقے سے کرنی چاہیے کہ صورتحال کو مفاہمت کی طرف لے کر جائیں‘۔ بلاول جس مصالحت کی بات کرتے ہیں اس میں صرف سیاسی پارٹیوں کے درمیان احترام کا رشتہ استوار کرنے کا عمل ہی شامل نہیں ہے بلکہ وہ یہ تقاضہ بھی کررہے ہیں کہ مستقبل میں ہونے والے انتخابات کو ان تمام عناصر کے درمیان مصالحت کی بنیاد بننا چاہئے جو کسی نہ کسی طرح سے ملکی سیاست پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں عدلیہ بھی شامل ہے اور عسکری ادارے بھی جو بوجوہ ملکی سیاسی فیصلوں میں شریک رہے ہیں۔
ایک نوجوان سیاسی لیڈر کی اس ہوشمندانہ گفتگو پر غور کرتے ہوئے ملک کے وزیر اعظم اور ایک بڑی سیاسی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے طرزگفتگو اور سیاسی پیغام کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو وہ عام طور سے اپنی باتوں میں سامنے لاتے رہے ہیں۔ لیکن آج جی ایچ کیو کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جن الفاظ اور خوشامدانہ لب و لہجہ میں آرمی چیف کو خراج تحسین پیش کیا اور ملکی مسائل حل کرنے کے لئے جنرل عاصم منیر کے کردار اور قیادت کا تذکرہ کیا، اس کے بعد غور کرنا چاہئے کہ کیا ایسے لیڈر واقعی اس ملک میں جمہوری عمل جاری و ساری کرنا چاہتے ہیں یا وہ کسی بھی قیمت پر فوجی قیادت کو خوش کرکے دھونس و دھاندلی سے اپنے لئے اقتدار کا راستہ ہموار کرنا ہی کافی سمجھتے ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے جوں ہی منصب سنبھالا بغیر وقت ضائع کیے مجھ سے کہا کہ یہ ہے پاکستان کو آگے بڑھانے کا پروگرام۔ انہوں نے سرمایہ کاری کی سہولت کاری میں معاونت کرنے والی کونسل کے قیام میں ہمارا ہاتھ بٹایا‘۔
وزیر اعظم کی طرف سے آرمی چیف کی خدمات کو سراہا جانا کوئی ناجائز اور ناروا طرز عمل نہیں ہے لیکن یہ توصیف اسی وقت قبول کی جاسکتی ہے اگر اس کا دائرہ کار فوج اور آرمی چیف کی آئینی فرائض کے بارے میں ہو۔ ملکی معیشت کی بہتری کے لئے منصوبہ بندی ، سرمایہ کاری میں سہولت کاری یا سیاسی مفاہمت میں فوجی قیادت کی خدمات کا اعتراف تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ فوج ملکی آئین کی مقررہ حدود کی پابند نہیں رہنا چاہتی۔ گزشتہ سال فوج نے تواتر سے یہ اعلان کیا تھا کہ اب وہ ملکی سیاسی معاملات میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتی اور خود کو اپنے آئینی کردار یعنی ملکی دفاع تک محدود رکھے گی۔ یہ اعلان نام نہاد ’عمران پراجیکٹ‘ کی ناکامی اور تحریک انصاف کی حکومت سے فوج کی مایوسی کے پس منظر میں قابل فہم بھی تھا۔ لیکن اب شہباز شریف ، آرمی چیف کے جس کردار کا بڑے فخر و اعزاز سے تذکرہ کرتے ہیں، اس کی روشنی میں یہ سوال زیادہ شدت اختیار کرگیا ہے کہ کیا ملک کا وزیر اعظم اور اہم سیاسی پارٹی کا صدر یہ پیغام عام کرنا چاہتا ہے کہ فوج کی مرضی و منشا کے بغیر ملکی معاملات چلانا ممکن نہیں ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جب فوج اپنی مرضی سے سیاست میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتی تو سیاسی لیڈر اسے ہاتھ بٹانے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ ان کی ہوس اقتدار پوری ہوتی رہے۔
پاکستان میں یہ منظر پہلی بار دیکھنے میں نہیں آیا۔ لیکن اس سے پہلے کوئی وزیر اعظم کبھی ایسے ہوسناک اور حریص لب و لہجہ میں فوج کی سرپرستی کا خواہشمند بھی نہیں رہا۔ نواز شریف سمیت متعدد لیڈروں کو فوج کی سرپرستی کی وجہ سے سیاسی عروج حاصل ہؤا لیکن پھر فوج کے ساتھ اختلافات اور ایک دوسرے کے ساتھ مایوسی کی وجہ سے سیاسی لیڈر کو زوال کی طرف لڑھرکتے بھی دیکھا گیا۔ اس کی تازہ مثال عمران خان ہیں۔ اس دردناک صورت حال سے تو سیاسی لیڈروں کو اسی نصب العین کے لئے کام کرنا چاہئے جس کی طرف بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر میں اشارہ کیا ہے کہ باہمی اختلافات کو ذاتی دشمنی نہ بنایا جائے اور تمام ادارے اپنی متعین حدود میں رہ کر کام کریں۔
البتہ شہباز شریف اس اصول کو ماننے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کے طور پر پوری مدت کے دوران انہوں نے فوج کے قریب ہونے کی کوشش کرنے کے علاوہ ایک ایسا اشتراک بنانے کے لئے کام کیا ہے جس میں فوجی قیادت، شہباز شریف کو سب سے زیادہ مفاہمت پسند سیاست دان تسلیم کرلے اور مستقبل میں انہیں بدستور ’منتخب‘ کروانے میں کردار ادا کرے۔ یہ رویہ اداروں کے غیر سیاسی کردار کو داغدار کرنے کا سبب بنے گا ۔ اور ایسے لیڈروں کے ہوتے ہوئے ملک میں آئینی جمہوریت کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ شہباز شریف نے خاص طور سے آج سیاست میں فوج کے جس کردار کی نشاندہی کی ہے، اس کی روشنی میں تو ان سے یہ دریافت کیا جانا چاہئے کہ اگر ملکی فلاح و ترقی کے تمام منصوبے آرمی چیف ہی نے تجویز کرنے ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لئے فوج کی صلاحیتوں ہی کو بروئے کار لایا جائے گا تو شہباز شریف جیسے وزیر اعظم یا لیڈر کی کیا ضرورت ہے؟ پھر تو بہتر ہے کہ ملکی آئین کو ازسر نو تحریر کرکے ہر آرمی چیف کو ’چیف ایگیزیکٹو‘ کے عہدے پر بھی فائز کردیاجائے تاکہ سیاسی کھینچا تانی کا سلسلہ ہی ختم ہو۔ آرمی چیف جن سویلین لیڈروں کو مناسب سمجھے ساتھ ملا لے ورنہ فوج کی طاقت تو اس کی پشت پر ہوتی ہی ہے۔
شہباز شریف کی یہ سطحی سیاسی بازی گری درحقیقت صرف اپنے ذاتی اقتدار کو دائمی بنانے کی افسوسناک کوشش کا پرتو ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) پر نواز شریف کا اختیار ہے اور جوں ہی حالات تبدیل ہوتے ہیں تو وہ واپس آکر شہبازشریف سے قیادت واپس لے لیں گے۔ لیکن نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم بنوانے کے دعوے کرنے کے باوجود شہباز شریف فوجی قیادت سے پینگیں بڑھا کر درحقیقت خود مستقل کا قومی لیڈر بننا چاہتے ہیں۔ ہوس اقتدار میں البتہ وہ یہ فراموش کررہے ہیں کہ ان کا یہ طرز عمل نہ صرف غیر اخلاقی طریقوں سے ایک غیر آئینی انتظام کی خواہش سامنے لاتاہے بلکہ اس طرح ملک میں جمہوری طاقتیں کمزور ہوں گی۔ اس کے علاوہ فوج اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی میں بھی اضافہ ہوگا۔
عمر کے اس حصے میں شہباز شریف کو تو شاید یہ بات نہ سمجھائی سکے لیکن فوجی قیادت کو ضرور پرکھنا چاہئے کہ کیا وہ ایک ہائبرڈ نظام کی ناکامی کے بعد کسی نئی غیر نمائیندہ حکومت کی پشت پناہی کا خطرہ مول لے سکتی ہے؟
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

