انجینئر ممتاز احمد خان کے اس تجزیئے سے گردوپیش اگرچہ متفق نہیں لیکن ہم چونکہ آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں اس لیے ان کا نقطہ نظر شائع کیا جا رہا ہے اس حوالے سے کوئی جواب سامنے آیا تو اسے بھی یہاں جگہ دی جائے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ سواسال کے دوران پاکستان کے حکمرانوں اور دیگر متعلقہ اداروں نے آئین پاکستان اور سپریم کورٹ کے احکامات کی جس طور دھجیاں اڑائی ہیں اس کی مثال دنیا کے کسی اور جمہوری ملک میں تو درکنار کسی آمرانہ ملک میں بھی نہیں ملتی۔ راقم نے یورپ ، آسٹریلیا ، امریکہ اور دیگر ممالک میں اپنے عزیزوں اور دوستوں سے جب بھی پاکستان کے جاری سیاسی بحران پر گفتگو کی ہے انہوں نے ہمیشہ انتہائی مایوسی اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس حالیہ بحران نے بیرون ملک پاکستان کا امیج اس حد تک مجروح کردیا ہے کہ انہیں اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ خود پاکستان کے اندر اہل فکر لوگ پاکستان کی سا لمیت اور بقا تک کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔
راقم 9 مئی سے قبل تک (حکمرانوں اور دیگر اداروں کے انتہائی مذموم اور برہنہ آئین شکنی پر مبنی طرز عمل کے باوجود) جناب چیف جسٹس آف پاکستان کے آئین کی بالادستی اور اس کے تقدس کو ہر حال میں قائم رکھنے کے بتکراراعلانات اور عزائم کے پیش نظر اس یقین کا حامل تھا کہ جناب چیف جسٹس صاحب اور سپریم کورٹ کے دیگر معزز جج صاحبان اپنے منصب کے تقاضوں ، اپنے اعلانات اور عزائم کے مطابق حکومت اور اس کے منہ زور اداروں کو آئین کی پامالی سے باز رکھنے اور قانون کی عمل داری پر قائم رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور یوں ملک حالیہ سنگین بحران سے نکل آئے گا لیکن 9 مئی اور اس کے بعد کے واقعات اور اس دوران سپریم کورٹ کی حیران کن بے عملی اور یکسر خاموشی نے راقم کی سپریم کورٹ اور جناب چیف جسٹس پر بھرپور اعتماد کو ٹھیس ہی نہیں پہنچائی بلکہ اسے یکسر مسمار کردیا ہے۔ اس انتہائی المناک صورت حال کی وجوہ مذکور ذیل ہیں:۔
1۔ جناب چیف جسٹس صاحب کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جنوری 2023 میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد آئین پاکستان کے غیر مبہم اور واضح حکم کے مطابق ان دونوں صوبوں میں 14 مئی کے روز اسمبلیوں کے عام انتخابات کرانے کا حکم جاری کیا تھا اور اس سلسلہ میں حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں، سٹیٹ بینک ، الیکشن کمیشن وغیرہ کو شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے تمام ضروری اقدامات کرنے کا ہدایت نامہ جاری کیا تھا تاہم حکومت اور اس کے اداروں نے سپریم کورٹ کے اس حکم کو جس رعونت اور بے توقیری سے ردی کی ٹوکری کی نذر کیا ہے وہ عمل اگرچہ بجائے خود سپریم کورٹ کی محض توہین ہی نہیں بلکہ اس کی تذلیل کا درجہ رکھتا ہے لیکن اس کے بعد سپریم کورٹ کی حکومتی اداروں کی اس دیدہ دلیری اور (جو کرنا ہے کرلو) پر مبنی حکم عدولی پر آج تک خاموشی اور کوئی کارروائی نہ کرنا یا بے بسی کا اظہار سپریم کورٹ کی اس توہین سے کہیں بڑھ کر توہین ہے جو حکومت اور اس کے منہ زور اداروں نے کی ہے۔
2۔ 9 اور 10مئی 2023 کے ہنگاموں اور اس کے نتیجہ میں دو درجن سے زائد ہلاکتوں و آرمی تنصیبات پر حملے، جلاؤ گھیراؤ کے واقعات ، ایک خاص سیاسی جماعت کے ہزاروں کارکنوں کی گرفتاریاں ، حکومتی اداروں کی برہنہ دہشت گردی (حتی کہ خواتین کی بے حرمتی، ان پر سفاکانہ تشدد جس کی خود پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی) اور اس بربریت پر متاثرہ سیاسی پارٹی کے چیئر مین کی طرف سے بتکرار یہ موقف اور مطالبہ کہ یہ سب کچھ حکومتی اداروں کی سوچی سمجھی منصوبہ بندی اور اس پارٹی کو سیاسی طور پر ختم کرنے کی سازش ہے جس کے حقائق کا تعین کرنے کے لئے جناب چیف جسٹس ایک عدالتی کمیشن قائم کریں لیکن اس مطالبہ پر بھی سپریم کورٹ یکسر بے عمل رہی ہے ۔ کیا اس حکومتی بربریت اور فسطائیت پر سپریم کورٹ کا بظاہر محض خاموش تماشائی کا کردار از خود اس کے اپنے وقار کو شدید مجروح اور انصاف کا خون نہیں کرتا؟
3۔ جولائی اور اکتوبر 2022 کے ضمنی انتخابات جس میں پی ٹی آئی نے 37میں سے 30 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی اس کے تناظر میں ملک کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی پارٹی اور اس کے چیئرمین کے خلاف مذکورہ بالا بہیمانہ دہشت گردی اور بربریت کو پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی جن حکومتوں نے روا رکھا ہے ان کا نگران عرصہ حکومت کب کا ختم ہوچکا ہے اور دونوں حکومتیں سراسر غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں اور اس حوالے سے سپریم اور ہائی کورٹس میں پٹیشنز بھی دائر ہوچکی ہیں لیکن ان دونوں حکومتوں کی غیر قانونی اور غیر آئینی حیثیت پر سپریم کورٹ اب تک بے عمل ہے اور کوئی حکم جاری کرنے سے قاصر ہے۔
4۔ ملک کے سب سے مقبول سیاسی لیڈر پر دن دیہاڑے قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے اور اس کے باوجود کہ اس پر حکومتی اداروں کی طرف سے تقریباً180ایف آئی آر درج ہوچکی ہیں اور آئے دن اسے عدالتوں میں گھسیٹا جارہا ہے جس سے اس کی زندگی کو انتہائی سنگین خطرات لاحق ہیں لیکن کس قدر حیرت کا مقام ہے کہ حکومتی اداروں کی طرف سے اختیارات کے اس سراسر ناجائز اور برہنہ استعمال اور کھلے عام بدمعاشی پر ملک کی عدالت عظمیٰ کوئی نوٹس تک نہیں لے رہی۔
مذکورہ بالا صورت احوال نے نہ صرف میرے جیسے ایک درد مند شہری کے بلکہ پوری قوم کے جناب چیف جسٹس اور سپریم کورٹ پر اعتماد کو شدید ٹھیس ہی نہیں پہنچائی بلکہ اسے نابود کردیا ہے ۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی اس انتہائی ناقابل رشک کارکردگی کا اس سے بھی کہیں بڑھ کر انتہائی افسوسناک یہ نتیجہ نکلا ہے کہ دنیا بھر میں ملک و قوم کی اس بناءپر رسوائی ہورہی ہے کہ جس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اور اس کا چیف جسٹس خود اپنے حکم کو حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کی طرف سے انتہائی بے توقیری سے ردی کی ٹوکری میں پھینک دینے اور سرعام آئین کی دھجیاں اڑا دینے پر بھی کوئی تادیبی کاروائی کرنے سے معذور ہوں وہ ملک اور قوم بین الاقوامی سطح پر کیسے کسی وقار اور تکریم کے حامل ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ ملک و قوم کے لئے اس انتہائی المناک بلکہ رسوا کن صورت حالات کے تناظر میں یہ راقم جناب چیف جسٹس صاحب اور عدالت عظمیٰ کے دوسرے معزز جج صاحبان سے مذکور ذیل گزارشات کرنا اپنا قومی اور اخلاقی فرض سمجھتا ہے:۔
1۔ یہ کہ جہاں تک حکومت اور حکومتی اداروں کی طرف سے عدالت عظمی کا 14 مئی کے روز انتخابات کے حکم نامہ کو ردی کی ٹوکری کے حوالے کرنے کا تعلق ہے تو جناب چیف جسٹس صاحب کو اس پر تمام مجرمین کے خلاف نہ صرف توہین عدالت کی کاروائی زیر عمل لانی چاہیے بلکہ تمام مجرمین کے خلاف سنگین آئین شکنی کی کاروائی بدرجہ اتم زیر عمل لائی جائے۔
2۔ جہاں تک 9 مئی اور اس کے بعد کے واقعات کا تعلق ہے اس تمام صورت حال کے حقائق اور عوامل کا تعین کرنے کے لئے جناب چیف جسٹس صاحب ایک عدالتی کمیشن قائم کریں جو زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کے اندر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے کہ 9 مئی اور اس کے بعد دو روز میں جو کچھ ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟
3۔ پنجاب اور خیبر پختونخواہ صوبوں میں غیر آئینی اور غیر قانونی حکومتوں کا مسلسل برسر اقتدار رہنا بجائے خود سپریم کورٹ کی بے بسی اور بے چارگی کا اشتہار ہے ۔ سپریم کورٹ کو اس پر بلا تاخیر آئینی اور قانونی حکم جاری کرنا چاہیے۔
4۔ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول ترین سیاسی پارٹی پی ٹی آئی کے چیئر مین کے خلاف پنجاب اور خیبر پختونخواہ صوبوں کی غیر آئینی اور غیر قانونی حکومتوں کے اختیارات کے ناجائز اور ننگی بربریت پر مبنی اقدامات فوراً بند کرنے اور بدنیتی پر مبنی تمام ایف آئی آرز کو کالعدم قرار دینے کا حکم جاری کیا جائے۔
5۔ حکومت کے تمام متعلقہ اداروں کو حکم جاری کیا جائے کہ وہ چیئر مین پی ٹی آئی اور دوسرے سیاسی اکابرین کا ملک بھر میں آزادانہ گھومنا اور تحفظ یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں ۔
سپریم کورٹ کے قوائد و ضوابط سے لاعلمی کے باعث اس راقم کو نہیں معلوم کہ موجودہ صورت حالات میں سپریم کورٹ مذکورہ بالا گزارشات میں سے کن گزارشات پر عمل کرسکتی ہے اور کن پر نہیں تاہم یہ راقم نہ صرف چیف جسٹس صاحب بلکہ سپریم کورٹ کے تمام معزز جج صاحبان اور عدالت ہائے عالیہ کے جج صاحبان کو یہ باور کرانا اپنا قومی فرض اور حق سمجھتا ہے کہ:۔
1۔ حالیہ سیاسی بحران میں خصوصاً سپریم کورٹ بحیثیت ادارہ مذکورہ بالا کیسز کے حوالے سے اپنا آئینی کردار ادا کرنے میں یکسر ناکام رہی ہے ۔ یہ صرف اس راقم کی رائے نہیں بلکہ یہ ایک عام تاثر ہے اور یہ صورت حال نہ صرف ملک و قوم کے لئے بلکہ خود سپریم کورٹ جیسے ادارے کےلئے بہت بڑا المیہ ہے ۔
2۔ یہ تاثر بھی عام ہے کہ سپریم کورٹ کی مبینہ بے عملی اور حکومتی اداروں کے سامنے بے بسی کی اصل وجہ حکومت اور اس کے منہ زور اداروں کو حاصل نام نہاد اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی اورہلہ شیری ہے ۔ حالیہ سیاسی بحران کے دوران حکومتی خفیہ ایجنسیوں کے جو مبینہ کارنامے منظر عام پر آئے ہیں ان کے مدنظر عین ممکن ہے کہ ایجنسیوں نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے تمام یا کچھ جج صاحبان کی فائلیں اور خفیہ ویڈیوز بنارکھی ہوں اور انہیں بلیک میل کرکے اپنی مرضی کے فیصلے لینے یا محض خاموش تماشائی بنے رہنے پر مجبور کردیا گیا ہو۔ اگر کوئی ایسی صورت حال ہے تو ایسے تمام مثاثرہ جج صاحبان سے راقم کا مطالبہ ہے کہ یا تو وہ اعلیٰ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئین اور انصاف پر مبنی جرات مندانہ فیصلے صادر فرمائیں اور اپنی کمزوریوں کے منظر عام پر آنے کی صورت میں جراتمندی سے اس کا مقابلہ کریں ۔ اگر ان میں یہ اخلاقی جرا¿ت نہیں ہے تو پھر خدارا عدالتوں کے ناموس اور نظام عدل پر بوجھ بننے کی بجائے مستعفی ہو کر گھر آرام سے بیٹھیں۔ ان کے اس عمل سے سپریم کورٹ اور وطن عزیز مزید رسوائی اور بے توقیری سے بچ جائیں گے ۔
3۔ اگر سپریم کورٹ کی انتہائی اہم اور سنگین مذکورہ بالا کیسز میں بے عملی اور خاموشی کی وجہ یہ موقف ہے کہ جب اس کے احکامات پر عمل درآمد کرانے والے ادارے اس کی سرعام اور برہنہ حکم عدولی اور نافرمانی پر کمر بستہ ہوجائیں تو سپریم کورٹ کے پاس اس کے علاوہ کیا آپشن رہ جاتی ہے کہ وہ خاموش تماشائی بن جائے اور ایسے احکامات جاری کرنے سے گریز کرے جن پر وہ عمل درآمد کرانے سے قاصر ہو۔ راقم کو اس موقف(اگر واقعی ایسا ہے) سے اس بنا پر سراسر اختلاف ہے کہ عدالت کا فرض آئین اور قانون کے مطابق حکمنامہ جاری کرنا ہے ۔ جس جس ادارے نے عدالت کے حکم پر عمل درآمد میں کوئی بھی حکم عدولی اور نافرمانی کی ہے وقت آنے پر وہ قانون کی گرفت میں لازمی آجائے گا چنانچہ اداروں کی حکم عدولی اور نافرمانی کسی بھی عدالت کو یہ جواز مہیا نہیں کرتی کہ وہ بے بس ہوکر محض خاموش تماشائی بن جائے۔
4۔ حالیہ سیاسی بحران میں سپریم کورٹ کی مذکورہ بالا بے عملی اور انتہائی سنگین کیسز سے پہلو تہی نے اس بحران کو سنگین سے سنگین تر بنا دیا ہے اور صاف نظر آرہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کا رویہ یہی رہا تو ملک میں آئینی مدت کے دوران عام انتخابات کے امکانات بھی بالکل معدوم ہوجائیں گے اور مرکز اور سندھ و بلوچستان میں آئندہ قائم ہونے والی نگران حکومتیں بھی اسٹیبلشمنٹ کے زیر سایہ غیر معینہ مدت تک قائم رہیں گی ۔ پنجاب اور پختونخواہ میں قائم غیر آئینی اور غیر قانونی حکومتوں کے معاملہ میں سپریم کورٹ کی بے عملی نے تو پہلے ہی مستقبل میں بھی اس لاقانونیت اور صریح آئین شکنی کی راہ ہموار کردی ہے۔
5۔ عوام میں یہ تاثر بھی فروغ پارہا ہے کہ چوہدری اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ صاحب نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف جو شورو غل مچایا ہوا ہے اور سپریم کورٹ اس کیس پر فوجی عدالتوں کے خلاف اگر کوئی جو فیصلہ دینے والی ہے یہ سب محض ایک فکسڈ میچ سمجھا جائے گا جس کا مقصد سپریم کورٹ کے وقار کو بحال کرنا ہے ۔ اگر یہ ثاتر محض مفروضہ نہیں تو یہ عمل بالکل ایسا ہوگا جیسے کوئی عدالت 4 قتل کرنے والے مجرم کے خلاف قتل کے انتہائی سنگین جرائم پر تو کوئی کاروائی نہ کرے لیکن اس کے ہاتھوں چوری کے کسی جرم پر اسے چند ماہ کی سزا دے کر اپنے منصفانہ اور عادلانہ ہونے کا تاثر دے۔ عوام اب خاصے باشعور ہوچکے ہیں۔ جو عدالت حکومتی اداروں کی برہنہ حکم عدولی پر ان کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی اس بے بس عدالت میں ملٹری کورٹس کے حوالے سے آل پاورفل ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کوئی کیس دائر کرنا قوم کو بے وقوف بنانے کا ڈرامہ نہیں تو کیا ہوسکتا ہے؟ اس کیس پر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف فیصلہ دے کر بھی سپریم کورٹ کا وقار بحال نہیں ہوگا ۔
(جاری )
فیس بک کمینٹ

