تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کو کون خوفزدہ کرنا چاہتا ہے؟

برطانیہ کی ایک عدالتی جیوری نے ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری کو ہالینڈ میں مقیم پاکستانی بلاگر وقاص گورایا کو قتل کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کا قصور وار قرار دیا ہے۔ اب اسے مارچ میں سزا سنائی جائے گی۔ یوں تو یہ ایک عام سا جرم کا معاملہ ہے لیکن اس کے ڈانڈے پاکستانی سیاست اور وہاں بنیادی حقوق کی صورت حال سے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستانی حکومت یا ایجنسیوں نے اس عدالتی کارروائی اور اس حوالے سے سامنے آنے والے الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
ہالینڈ میں مقیم وقاص گورایا پاکستان میں بنیادی حقوق اور عسکری اداروں کی سیاسی بالادستی کے خلاف اظہار رائے کی شہرت رکھتے ہیں۔ انہیں 2017 میں پاکستان کے دورہ کے دوران چند دوسرے بلاگرز کے ساتھ بعض نامعلوم عناصر نے روپوش کردیا تھا تاہم چند ہفتےبعد انہیں رہا کردیا گیا۔ وہ رہائی پانے کے فوری بعد ہالینڈ واپس آگئے تھے تاہم سوشل میڈیا پر وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ لندن کی عدالتی کارروائی کے دوران جو معلومات سامنے آئی ہیں ، ان میں ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہؤا کہ برطانوی شہری محمد گوہر خان کو کس نے وقاص گورایا کو قتل کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ استغاثہ کی معلومات کے مطابق ایک مڈل مین جسے ’مزل‘ کے نام سے پکارا گیا ہے، نے محمد گوہر خان سے رابطہ کرکے اسے ہالینڈ کے شہر روٹرڈم میں مقیم وقاص گورایا کو قتل کرنے کا کام سونپا تھا اور کہا تھا کہ اس کام کے انہیں ایک لاکھ برطانوی پاؤنڈ ملیں گے۔ اس کثیر رقم میں سے 80 ہزار پاؤنڈ گوہر خان کو ملنے تھے جبکہ باقی ماندہ 20 ہزار پاؤنڈ مزمل نے رابطہ کار کے طور پر خود اپنے پاس رکھنے تھے۔
عدالتی کارروائی کے دوران محمد گوہر خان نے جرم کی صحت سے انکار کیا تھا تاہم اس نے واقعات کی تفصیل کو تسلیم کیا اور اس بات کا اقرار بھی کیا کہ اسے مزمل نے وقاص گورایاکو قتل کرنے کے لئے ایک لاکھ پاؤنڈ دینے کا وعدہ کیا تھا اور وہ مزمل کو یہ باور کروانے کے لئے کہ وہ یہ کام کرنے میں سنجیدہ ہے ہالینڈ بھی گیا اور وقاص گورایا کی رہائش گاہ کے گرد انہیں تلاش کرنے کی کوشش بھی کی۔ اس دوران گوہر خان نے ایک مقامی مارکیٹ سے چاقو خریدنے کا اقرار بھی کیا ہے تاہم اس کا کہنا تھا کہ اس نے یہ چاقو گھریلو استعمال کے لئے خریدا تھا اور اس کا وقاص گورایہ کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے محمد گوہر خان کا کہنا تھا کہ مزمل نے ماضی میں اسے نقصان پہنچایا تھا ، اس لئے وہ اس کام کے بہانے اس سے زیادہ سے زیادہ رقم وصول کرنا چاہتا تھا۔ اسی لئے وہ ہالینڈ بھی گیا تھا لیکن وہ وقاص گورایہ کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ تاہم عدالتی جیوری نے ملزم کی اس وضاحت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور استغاثہ کی تھیوری کے مطابق یہ تسلیم کیا ہے کہ گوہر خان قتل کی نیت سے ہی ہالینڈ گیا تھا اور وہاں اس نے چاقو خریدنے کے علاوہ وقاص گورایا کو تلاش کرنے کی کوشش بھی کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکا تھا کیوں کہ ہالینڈ کی انٹیلی جنس نے وقاص گورایا کی زندگی کو لاحق خطرہ کے سبب انہیں پہلے ہی کسی محفوظ جگہ پر منتقل کردیاتھا۔ پولیس نے گوہر خان کو پاکستان سے چند ہزار پاؤنڈ منتقل کرنے کا سراغ بھی لگایا ہے تاہم اس سازش کے اصل سرغنہ کا سراغ لگانے کے لئے تحقیقات جاری ہیں اور پولیس فی الوقت کچھ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
بیرون ملک کسی پاکستانی نژاد شخص کو قتل کرنے کی سازش کا انکشاف ایک بڑی اور سنسنی خیز خبر ہے۔ پھر اس حوالے سے اگر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے اور ایک شخص قتل کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتار ہوتا ہے اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر قصور وار بھی قرار پاتا ہے تو پاکستان کے حوالے سے یہ ایک تشویش ناک اور قابل غور وقوعہ ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس حوالے سے پاکستانی حکومت نے پراسرار خاموشی اختیار کی ہے۔ بی بی سی اردو کی اطلاع کے مطابق پاکستانی ایجنسیوں کے علاوہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے رابطہ کیا گیا تھا لیکن انہوں نے کوئی جواب دینے سے انکار کیا۔ یہ خبر اگرچہ سوشل میڈیا پر موضوع گفتگو رہی ہے اور مین اسٹریم میڈیا میں بھی اس کی تشہیر ہوئی ہے لیکن اس واقعہ کو ملکی شہرت اور بیرون ملک مقیم اس کے شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے جو اہمیت اور ترجیح ملنی چاہئے تھی، وہ نہیں دی جاسکی۔ حکومت پاکستان کے مطابق ملکی میڈیا مکمل طور سے آزاد ہے ، اس لئے میڈیا اگر کسی خبر یا واقعہ کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتا اور دیگر غیر اہم اور بے بنیاد سیاسی معاملات کے برعکس بعض ٹھوس حقائق پر مشتمل اس وقوعہ کے بارے میں ٹاک شو کرنے یا حکومت و اداروں کو جواب دہ کرنے کا بنیادی فریضہ ادا نہیں کرتا تو اس سے حکومتی بیان کی حقیقت کے علاوہ میڈیا کی آزادی کا بھانڈا بھی پھوٹتا ہے۔
بیرون ملک مقیم ایک پاکستانی نژاد شخص کو قتل کرنے کی سازش کا معاملہ یوں بھی اہم ہوجاتا ہے کہ عمران خان کی حکومت بیرون ملک پاکستانیوں کو بے حد اہمیت دیتی ہے۔ وزیراعظم عام طور سے یہ سچائی بیان کرتے رہتے ہیں کہ اس وقت ملکی معیشت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی روانہ کردہ ترسیلات کی وجہ سے سانس لے رہی ہے ۔ ان ترسیلات کے بغیر پاکستان کی معاشی مشکلات کئی گنا زیادہ ہوتیں۔ 2021 کے دوران بیرون ملک پاکستانیوں نے 31 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ پاکستان روانہ کیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے چند روز پہلے ’آپ کا وزیر اعظم آپ کے ساتھ‘ پروگرام میں شہریوں کی ٹیلی فون کالز کا جواب دیتے ہوئے بھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اس عظیم خدمت کو خراج تحسین پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی ملک کا عظیم اثاثہ ہیں۔ ان کی آمدنی پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار سے زیادہ ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کے ناقص نظام اور بد اعتمادی کی وجہ (جس کا ذمہ دار وہ فطری طور سے سابقہ حکومتوں کو قرار دیتے ہیں) سے یہ لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرسکے لیکن ان کی حکومت اب حالات کو درست کررہی ہے اور عمران خان کو امید ہے کہ ان کی قیادت کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانی دھڑا دھڑ اپنا سرمایہ پاکستان میں لائیں گے اور اس طرح ملک دن دونی رات چو گنی ترقی کرسکے گا۔
اس طرح کے دعوؤں کے تناظر میں لندن کی ایک عدالت میں ایک پاکستانی نژاد شہری کے قتل کی سازش کے مقدمہ پر پاکستانی حکومت اور میڈیا کے ردعمل پر غور کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ جو حکومت بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو ملکی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی سمجھتی ہے، وہ کیوں کر ایک پاکستانی کو قتل کرنے کے معاملہ سے لاتعلق رہ سکتی ہے؟ پاکستانی حکومت کے مقابلے میں اگر برطانوی پولیس کے کردار اور ہالینڈ کی انٹیلی جنس کے بروقت اقدام پر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ حکومتیں کیسے اپنے ہاں مقیم شہریوں کی حفاظت کے بارے میں سرگرداں رہتی ہیں۔ کیا پاکستانی حکام کو بھی اپنے شہریوں کے حوالے سے ایسی کوئی پریشانی لاحق ہے؟ فی الوقت اس کا اظہار سامنے نہیں آیا۔ بیرون ملک مقیم ایک پاکستانی نژاد شخص کو قتل کرنے کی سازش کے دستاویزی ثبوت سامنے آنے کے بعد لندن اور ایمسٹرڈم میں پاکستانی سفارت خانوں کے علاوہ اسلام آباد میں حکومتی ترجمانوں کو فوری رد عمل دینا چاہئے تھا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو یقین دلا نا چاہئے تھا کہ سیاسی نظریات سے قطع نظر حکومت پاکستان اپنے ملک سے تعلق رکھنے والے ہر شہری کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
یہ بات نوٹس کی جاتی رہی ہے کہ پہلے اسحاق ڈار اور گزشتہ کچھ عرصہ سے نواز شریف کو واپس لانے کے حوالے سے حکومت پاکستان نے کثیر وسائل صرف کرنے کے علاوہ ہر ممکن کوشش کی ہے۔ لیکن اب ہالینڈ میں مقیم ایک سابقہ پاکستانی شہری کے قتل کی سازش کا انکشاف ہونے کے بعد کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی۔ ان اطلاعات کے بارے میں بھی کسی پریشانی کا اظہار نہیں ہؤا کہ اس معاملہ میں قتل کا منصوبہ پاکستان میں تیار ہؤا تھا اور گوہر خان کو یہ کام کرنے کے لئے پاکستان میں مقیم ایک شخص نے آمادہ کیا تھا اور اسے وسائل بھی فراہم کئے تھے۔ حالانکہ ان اطلاعات کی روشنی میں پاکستانی حکومت کا فرض تھا کہ وہ اپنی تمام صلاحیت بروئے کار لاتے ہوئے ’مزمل ‘ نامی شخص کا سراغ لگاتی اور جن ذرائع سے گوہر خان کو پاکستان سے رقم فراہم کی گئی تھی ، ان کا پتہ لگاکر اصل قصور واروں تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی۔
اس سوال کا جواب صرف حکومت پاکستان ہی دے سکتی ہے کہ اس معاملہ پر اسے کیوں تشویش نہیں ہے اور لندن کی ایک عدالت میں ایک مقدمہ کے بعد پاکستانی نظام کے بارے میں اٹھنے والے سوالوں کا جواب دینے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی جاتی۔ کیا پاکستان میں انسانی حقوق ، مذہبی شدت پسندی اور آزادی رائے پر عائد پابندیوں کے خلاف بات کرنے والوں کے اس الزام کو درست مان لیا جائے کہ پاکستانی حکام کسی ایسی آواز کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہیں جو جمہوریت اور بعض اداروں کی زور زبردستی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں؟ پاکستانی حکومت اور ایجنسیوں کی خاموشی انہیں بے قصور ثابت نہیں کرے گی بلکہ ان شبہات میں اضافہ کرے گی کہ ریاست پاکستان اختلاف رکھنے والے عناصر کو پاکستان میں خاموش کروانے کے بعد اب بیرون ملک بھی خوفزدہ کرنے کے مشن پر گامزن ہے۔
بی بی سی اردو نے محمدگوہر خان کو قصور وار قرار دیے جانے کے بعد ایک رپورٹ میں یورپ میں مقیم متعدد ایسے پاکستانیوں کا ذکر کیا ہے جنہیں وہاں کی پولیس یا ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ کیا پاکستان کے لئے یہ سوال باعث تشویش نہیں ہو نا چاہئے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی ’ممنون احسان‘ حکومت کے ہوتے ان سابقہ پاکستانی باشندوں کو کن عناصر سے خطرہ لاحق ہے ۔ کیا تارکین وطن میں ہراس پیدا کرکے پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکتا ہے؟
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker