لاہور:نامورناول نگار، کالم نگار اور سابق ایم پی اے بشریٰ رحمٰن طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال کر گئیں۔ان کی عمر 78برس تھی۔وہ ایک ماہ سے صاحب فراش تھیں۔
بشریٰ رحمٰن اگست 1944ء کوبہاولپور میں پیدا ہوئیں۔انھوں نے جامعہ پنجاب سے ایم -اے صحافت کی سند حاصل کی ۔ انھوں نے اپنا سیاسی سفر 1983 میں شروع کیا اور صوبائی اسمبلی پنجاب سے تین مرتبہ منتخب ہوئیں۔2007ء میں انہیں صدارتی اعزاز ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ 17 سے زائد ناول اور سفرنامے ان کے قلم کاشاہکار ہیں ۔
ان کی تصانیف میں بت شکن،چپ (افسانے)،پشیمان،پیاسی،چارہ گری،خوبصورت،عشق عشق،قلم کہانیاں،مولانا ابو الکلام آزاد۔ ایک مطالعہ،چاند سے نہ کھیلو،بہشت،لازوال،دانا رسوئی،صندل میں سانسیں چلتی ہیں،بے ساختہ،کس موڑ پر ملے ہو،اللہ میاں جی،تیرے سنگ در کی تلاش میں (ناول)اورلکھی کو کون موڑے(خود نوشت ) شامل ہیں ۔ ان کی نماز جنازہ آج سہ پہر چار بجے لاہور میں ادا کی گئی جس میںادیبوںشاعروں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔
فیس بک کمینٹ

