ملتان( رضی الدین رضی سے ) نامورناول نگار،ڈرامہ نگار اورسابق رکن پنجاب اسمبلی بشریٰ رحمن پیرکی صبح لاہورمیں انتقال کرگئیں ۔بشریٰ رحمن کی تعلق بہاولپورسے تھالیکن وہ ملتان کو اپنا میکہ کہتی تھیں ۔
بشریٰ رحمن نے گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین ملتان سے گریجوایشن کی اورکالج میں بین الکلیاتی تقریری مقابلوں میں انعامات بھی حاصل کئے ۔بشری ٰرحمن نے1962میں ایف اے سیکنڈایئر کی طالبہ کی حیثیت سے گورنمنٹ کالج فارگرلزبہاولپورکی نمائندگی کے لئے انٹرکالجیٹ تقر یری مقابلے میں شرکت کے لئے پہلی بار ملتان آئی تھیں۔ اپنے مضمون” ملتان میرامیکہ “میں وہ لکھتی ہیں میری زندگی کی پہلی کامیابی ،پہلا وقاراور پہلا افتخار ملتان سے شروع ہوااورپھرملتان میرے دل میں اترگیا۔ایف اے کے بعدبشریٰ رحمن نے اسی کالج میں تھرڈ ایئر میں داخلہ لیا ۔بشریٰ رحمن کالج میگزین” لالہ صحرائی “کی ایڈیٹربھی رہیں ۔انہوں نے کالج کی تقریبا ت میں ایک ڈرامے میں انارکلی کا کردار بھی اداکیااوراگلے برس خودبھی ڈرامہ ”مہرالنساءاورشہزادہ سلیم “تحریرکیا جس میں انہیں مہرالنساءکاکردا رسونپاگیا۔بشریٰ رحمن گریجوایشن کے بعد اولڈ سٹوڈنٹ ڈے کی تقریبات کے سلسلے میں بھی ملتان آتی رہیں ۔
بعدازاں 1984میں انجمن ثقافت پاکستان کے زیراہتمام ملتان میں ان کے ساتھ پہلی بار شام منائی گئی۔بعدازاں وہ مختلف تقریبات میں شرکت کے لئے بھی ملتان آتی رہیں ۔
2011میں ان کی کتاب” دانارسوئی “کی تعارفی تقریب بھی ملتان میں منعقدہوئی ۔بشریٰ رحمن آخری مرتبہ 2016میں ڈاکٹرنجمہ شاہین کھوسہ کی کتاب”پھول خوشبواورتارہ“ کی تعارفی تقریب میں شرکت کے لئے ملتان آئی تھیں ۔اور اس تقریب سے خطاب کے دوران بشریٰ رحمٰن نے کہا تھا کہ ’’
یہ ملتان کے اساتذہ کی تربیت کا اثر ہے۔کہ میں اپنی زندگی کے نصف النہار میں پارلیمنٹ میں پہنچ گئی۔مجھے یاد ہے جب میں نے صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیتا تھا تو سب سے پہلے مبارک باد کا تار ملتان کے گرلز کالج سے آیا تھا۔
میری پہلی کتاب کی پذیرائی کی رسم بھی ملتان میں ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اور ملتان کی تنظیم سخنور ور فورم نے مجھے عندلیب پاکستان کا خطاب دیا۔پھر حسن اتفاق سے ملتان میں مجھے دو بھائی مل گئے۔
شاکر حسین شاکر اور رضی الدین رضی
ملتان پھر سے میرا میکہ بن گیا۔
بہاول پور میرے لیے قبلہ و کعبہ ہے کہ وہاں میرے وا لدین مدفون ہیں لیکن ملتان میں میرے دو بھائی شاکر حسین شاکر اور رضی الدین رضی رہتے ہیںاور بھائیوں کی محبت کی وجہ سے میکہ ہمیشہ سلامت رہتا ہے۔ ‘‘
فیس بک کمینٹ

