وقت کا تقاضا ہے کہ عدلیہ اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں۔ مکالمہ بڑھے، اعتماد بحال ہو اور انصاف کو صرف قانونی اصطلاح کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ انسانی قدر کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر ایسا ہو سکا تو نہ صرف عدلیہ کا وقار بلند ہوگا بلکہ پاکستان میں ایک زیادہ منصفانہ، متوازن اور انسان دوست معاشرے کی بنیاد بھی مضبوط ہو سکے گی۔
Browsing: تجزیے
یہ اشارے بھی موجود ہیں کہ بعض سیاسی عناصر ایکشن کمیٹی کو اپنے گروہی سیاسی مفادات کے لیے آلہ کار بنائے ہوئے ہیں۔
آزاد کشمیر حکومت کو کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے ایکشن کمیٹی کے لیڈروں کو رہا کرکے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اور ایکشن کمیٹی بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں یہ تسلیم کرلے کہ آئیندہ منتخب اسمبلی اس سوال پر حتمی آئینی فیصلہ کرے گی۔ اس وقت تک احتجاج ملتوی کرکے آزاد کشمیر کی سیاست کو کسی بڑے بحران سے بچایا جائے۔
تجارتی خسارہ روز افزوں ہے اور کوئی سرکاری حکمت عملی اس میں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتی اور نہ ہی علاقائی یا عالمی حالات کی صورت حال سے یہ قیاس کیا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں ملکی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔
یہ امر باعث حیرت ضرور ہے کہ اپنی حمایت میں اسرائیل غیظ و غضب کا نشانہ بننے والی حزب اللہ کو ایران ، امریکہ کے ساتھ بات چیت کے دوران کیوں فراموش کیے ہوئے ہے؟ کیا تہران کے لیڈر اب مشرق وسطیٰ میں موجود اپنی پراکسیوں کی حمایت سے دست بردار ہورہے ہیں؟
امریکہ ایران کا بلاکیڈ ختم کرنے اور جوہری ہتھیاروں پر حتمی معاہدے کے لیے دوسرے مرحلے میں اتفاق رائے پر بھی راضی ہے۔ اس کے باوجود تہران کی طرف سے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے جوہری ہتھیاروں کا معاملہ موضوع بحث ہی نہیں۔ حالانکہ یہ سارا تنازعہ ایران کے جوہری پروگرام ہی کی وجہ سے شروع ہؤا تھا
بہتر ہوگا کہ صدر ٹرمپ اور تہران کے لیڈر اب دھمکیوں کی زبان استعمال کرنا بند کریں اور ہوشمندی سے ایک ایسے تنازعہ کو ختم کرنے پر اتفا ق کریں جس سے دنیا کا ہر ملک اور ہر فرد عاجز ہے۔
صدر ٹرمپ اور سینیٹر لنزے گراہم نے تاثر دیا ہے پاکستان، سعودی عرب اور قطر وغیرہ نے ایران امن معاہدہ کے بعد اگر ابراہم معاہدہ کے…
معاہدہ ابراہیمی کی بات کرنا ایک سیاسی مؤقف ضرور ہے لیکن صدر ٹرمپ اس مؤقف کو معروضی و زمینی حقائق کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے، اسرائیل کو اپنی عالمی ذمہ داریاں قبول کرنے پر مجبور کریں۔ اگر ٹرمپ یا امریکہ یہ کام کرنے سے قاصر ہے تو وہ علاقے کے ممالک سے مطالبہ نہیں کرسکتا کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔بنیادی مسائل حل کیے بغیر اسرائیل کے لیے مشرق وسطیٰ میں کوئی احترام پیدا نہیں ہوسکتا۔
تہران میں سخت گیر ملا رجیم بدستور موجود ہے اور شدید مالی مشکلات کے باوجود اس بات کا امکان دکھائی نہیں دیتا کہ جنگ یا اس کے خاتمہ سے یہ حکومت ختم ہوجائے گی اور ایرانی سیاست ایرانی عوام کی خواہشات کے مطابق طے پاسکے گی۔ ایران کے عوام پہلے سے زیادہ غریب اور کرب کا شکار ہوں گے
مودی سوالوں کا جواب کیوں نہیں دیتے‘ والا سوال ، ایک ایسا ہتھوڑا ثابت ہؤا کہ بھارت میں تمام انتہاپسند عناصر اس کی ضرب سے تلملا رہے ہیں۔ اب ایک غیر متعلقہ مضمون اور اس میں شامل ہونے والے کارٹون کو بنیاد بنا کر بھارتی عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ناروے میں بھارت میں انسانی حقوق کے بارے میں کیے جانے والے سوال درحقیقت سفید فام اور نوآبادیت کی ذہنیت کا عکاس ہیں۔
