اب غیرجانبدار لوگ بھارت کی جمہوریت اور پریس فریڈم کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں اور مودی سرکار اپنے انتہا پسند سوشل میڈیا ٹرولز کے ذریعے ایک چھوٹے ملک ناروے کی صحافی کو ہراساں کرکے اپنی بے بسی کو چھپانے کوشش کررہی ہے۔
Browsing: تجزیے
ایران کی طرف سے تباہ شدہ
الدیفری (متحدہ عرب امارات) کی مرمت و بحالی پر قریب 5 بلین ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس کے علاؤہ پانچ تباہ ہونے والے امریکی جنگی جہازوں کی قیمت 2 بلین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ امریکی ماہرین دفاع کے مطابق اگر یہ جنگ ایک سال تک جاری رہی تو اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ریاست کے 250 سے 300 بلین ڈالر خرچ کرنا ہوں گے۔
دکھ ہمیں صدمے تک لے جاتا ہے۔ صدمے کا ذکر میں پہلے بھی کسی تحریر میں کر چکا ہوں۔ صدمہ اپنے مراحل مکمل کرتا ہے۔ دکھ زیادہ تر وقتی ہوتا ہے۔ صدمے سے سنبھلنے میں ہر انسان اپنا اپنا وقت لیتا ہے۔ کچھ دکھ مستقل ہوتے ہیں، مثلاً افلاس کا دکھ، کسی لاعلاج بیماری کا دکھ، یا کسی ایسی بیماری کا دکھ جس کا علاج تو موجود ہے لیکن غربت کے سبب بیمار کو میسر نہیں ہے۔
جمہوری لیڈر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں اور اپنی کارکردگی کے بارے میں کسی بھی سوال کا سامنا کرنے سے نہیں گھبراتے۔ لیکن بدحواس مودی کے ساتھ ناروے کی ایک صحافی نے وہی سلوک کیا ہے جو 1997 میں ریلیز ہونے والی فلم ’یشونت ‘ میں نانا پاٹیکر کے اس ڈائیلاگ سے نمایاں ہوسکتا ہے: ’ایک مچھر سالا آدمی کو ہجڑا بنا دیتا ہے ‘۔
کسی فوج کا مقصد اپنے لوگوں کو تباہی کی طرف دھکیلنا نہیں ہوتا بلکہ ان کی حفاظت، بہبود اور بھلائی ہی ہمیشہ اس کے پیش نظر ہونی چاہئے۔ پاکستان کو جغرافیے و تاریخ سے مٹانے کے شوق میں بھارتی فوج کو اپنے لوگوں پر ہلاکت مسلط کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔
ٹرمپ کے حالیہ دورہ چین کے دوران یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے۔ بیجنگ نے اپنی پوزیشن واضح کردی ہے۔ اب واشنگٹن اگر تصادم کا راستہ اختیا رکرتا ہے تو چین نے مقابلہ کرنے کا واضح اشار ہ دیا ہے۔
اس تصویر کا یہ رخ بھی مضحکہ خیز ہے کہ ایران آزادانہ فیصلے کرنے کا جو حق اپنے لیے مانگتا ہے، ہمسایہ عرب ممالک کو وہی حق دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے جنگ مسلط کرنے کے بعد سے ایران نے خلیجی و دیگر عرب ممالک کے خلاف غیرعلانیہ جنگ شروع کررکھی ہے۔ اس نے خاص طور سے متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور سعودی عرب کو نشانہ بنایا ہے۔ اردن اور عمان پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔
صدر مسود پزشکیان کی یہ تجویز ہی بہترین ہے کہ ایران کا مفاد سفارت کاری کے ذریعے باعزت معاہدہ کرنے میں ہی مستور ہے۔ بدقسمتی سے تہران میں اس اصول پر اتفاق رائے دکھائی نہیں دیتا۔ اور بادی النظر میں اسرائیل کا جنگجو وزیر اعظم اور ایران کے عسکریت پسند پاسداران ایک ہی مقصد کے لیے حالات خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
عمران خان اور ان کے سینکڑوں ساتھیوں کو ناجائز طور سے جیلوں میں بند رکھا گیا ہے بلکہ ان کے لیے انصاف حاصل کرنے کے دروازے بھی بند کیے گئے ہیں۔ عدالتیں نئی ترامیم کے تحت مجبور و پابند کردی گئی ہیں اور میڈیا پر عائد پابندیوں سے صحت مند اور اہم قومی مکالمہ کا راستہ مسدود ہوچکا ہے۔ اس وقت ریاست کی تمام تر طاقت تحریک انصاف کو دیوار سے لگانے اور عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی نافذ رکھنے پر صرف ہورہی ہے۔ کیا یہ طریقہ ایک فاتح اور حوصلہ مند قوم کے لیڈروں کو زیب دیتا ہے؟
برطانیہ میں ریفارم یوکے پارٹی کی کامیابی یورپ کے دیگر ممالک فرانس، نیدر لینڈ ، ڈنمارک اور سویڈن وغیرہ میں دائیں بازو کی انتہا پسند تحریکوں اور پارٹیوں کی مقبولیت ہی کی طرز پر ایک ایسے رجحان میں اضافے کی نشاندہی ہے جو بین الثقافتی معاشرہ تبدیل کرکے اسے سفید فام اکثریتی خواہش کے مطابق تشکیل دینا چاہتاہے۔
