انجینئر ممتاز احمد خان کے اس تجزیئے سے گردوپیش اگرچہ متفق نہیں لیکن ہم چونکہ آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں اس لیے ان کا نقطہ نظر شائع کیا جا رہا ہے اس حوالے سے کوئی جواب سامنے آیا تو اسے بھی یہاں جگہ دی جائے گی
( گزشتہ سے پیوستہ )
سپریم کورٹ کا وقار کیسے بحال ہوسکتا ہے؟
موجودہ صورت حال میں سپریم کورٹ کا وقار بحال کرنے کے لئے مذکور ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:۔
1۔ جناب چیف جسٹس صاحب اور تمام دیگر جج صاحبان کو اس حقیقت کا احساس اور ادراک کرنا ہوگا کہ اگر عدالت عظمی کا وقار بحال نہیں ہوتا توخود ان کا بطور چیف جسٹس اور بطور جج سپریم کورٹ قطعاً کوئی وقار نہیں ہے اور یہ کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تمام عمر وہ ایک بے وقار سپریم کورٹ کے بے وقار ریٹائرڈ چیف جسٹس یا ریٹائرڈ جج کہلائے جائیں گے ۔ اس سے بھی بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی یہ بے وقاری اور بے حرمتی خود ان جج صاحبان کے ہاتھوں ہوئی جن پر سپریم کورٹ کے وقار کو ہر حال میں قائم رکھنے کی سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
2۔ عوام میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ سپریم کورٹ کی انتہائی اہم اور سنگین ترین کیسز میں بے عملی اور پہلو تہی کی وجوہات میں حکومتی اداروں کی حکم عدولی، دھونس اور ممکنہ بلیک میلنگ سے کہیں زیادہ خود سپریم کورٹ کے ججز میں تقسیم اور ڈسپلن کا فقدان ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ جج صاحبان نے چیف جسٹس سے اس بنا پر تعاون نہیں کیا کہ مختلف بینچوں کی تشکیل میں ان سے مشورہ نہیں کیا گیا ۔ کس قدر المناک ہے یہ منظر نامہ کہ جہاں ایسی معمولی فکر کو اس سپریم کورٹ کے وقار پر ترجیح دی گئی ہے جس کے وقار سے خود ان کا اپنا وقار وابستہ ہے چنانچہ سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان سے مودبانہ گزارش کی جاتی ہے کہ وہ سپریم کورٹ اور خود اپنے وقار کی بحالی کے لئے معمولی رنجشوں اور ذاتی تعلقات یا مفادات سے بالاتر ہوکر جناب چیف جسٹس صاحب کے ڈسپلن میں آجائیں ۔ اس کے بغیر نہ تو سپریم کورٹ کا وقار بحال ہوگا اور نہ ہی کسی بھی جج کا۔ اس پر دورائے نہیں ہوسکتی کہ اگر عدالت کا وقار قائم نہیں تو اس کے جج کا بھی کوئی وقار نہیں اور عدالت کا وقار اس پر منحصر ہے کہ قوم کو انصاف مہیا کرنے میں وہ کس قدر کامیاب یا ناکام ہے۔
3۔ جناب چیف جسٹس صاحب سے بھی مودبانہ گزارش ہے کہ وہ دوسرے جج صاحبان کی جائز رنجشوں کا مداوا کریں اور جتنا جلد ممکن ہو تمام جج صاحبان کو ایک پیج پر لائیں کیونکہ سپریم کورٹ کی بے عملی اور بے بسی کے تاثر سے ملک کا سیاسی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین تر ہوتا جارہا ہے(5 اگست 2023 کے روز ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ہمایوں دلاور نے جس طرح بلیک میل ہوکر یا دیدہ دلیری سے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سنایا ہے اس کی تہہ میں بھی یہ تاثر ہے کہ جس ریاستی جبر کے سامنے سپریم کورٹ بے بس اور بے عمل ہے اس جبر کے سامنے ایک ماتحت عدالت کہاںتک مزاحمت کرسکتی ہے؟) ۔ ملک و قوم کواس طوفان سے نکالنے کی سب سے بڑھ کرذمہ داری سپریم کورٹ کی ہے اور ایک متحد اور ڈسپلنڈ سپریم کورٹ ہی آئین شکن اور خود سر عناصر اور مافیاز کو لگا م ڈال سکتی ہے۔ بلکہ یہ یقینی امر ہے کہ سپریم کورٹ کے متحد اور ڈسپلن میں آتے ہی آئین شکنی اور (جو کرناہے کرلو ) جیسی بدمعاشی پر کمربستہ عناصر اور ادارے اپنی حدود میں آجائیں گے ۔ جو جج صاحبان کسی بھی وجہ سے جناب چیف جسٹس کے ڈسپلن میں آنے سے انکاری ہوں انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ وقت کا تازیانہ ان کا فیصلہ کرکے رہے گا۔
4۔ سپریم کورٹ کے وقار کی بحالی کا مرحلہ اور موقع پہنچ چکا ہے ۔ آئین کی پامالی اور ملک و قوم پر ہر حال میں مسلط رہنے پر کمر بستہ عناصر اب اس منصوبہ پر عمل پیرا ہیں کہ یا تو آئینی مدت میں عام انتخابات نہ ہونے پائیں یا وسیع پیمانے پر دھاندلی کے ذریعہ ان پر ڈاکہ ڈالا جائے(بدقسمتی سے سپریم کورٹ خود پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں 14 مئی کے روز عام انتخابات کے حوالے سے خود اپنے حکم کی تعمیل نہ کرا کر اورحکم عدولی پر متعلقہ مجرمین کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرکے ان منہ زور اداروں اور کرداروں کے حوصلے بڑھا چکی ہے)۔ اگر سپریم کورٹ آئندہ جرات مندانہ فیصلے کرکے صاف اور شفاف انتخابات کرانے اور انتقال اقتدار میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس سے یقینا نہ صرف خود اس کا اپنا اور تمام جج صاحبان کا وقار بحال ہوجائیگا بلکہ ملک اور قوم ایک ایسے طوفان اور بحران سے نکل آئیں گے جو اس کے استحکام ہی نہیں بلکہ بقا کے درپے ہےں۔
5۔ ایک متحد اور چیف جسٹس صاحب کی قیادت میں ڈسپلنڈ سپریم کورٹ کے پیچھے قوم کھڑی ہوگی اور آئین شکنی اور سیاسی غنڈہ گردی پر کمر بستہ عناصر اور ادارے اگر باز نہ آئے تو عوام بھی ایک ہی کال پر ان تمام عناصر کو نشان عبرت بنانے پر کمر بستہ ہیں۔
حرف آخر:۔
1۔ راقم کو اس کا بخوبی احساس اور ادراک ہے کہ اس کا یہ گزارشات نامہ غیر معمولی ہی نہیں بلکہ شائد اس کی مثال کہیں نہ ہو کہ ایک عام شہری ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اور اس کے ججز سے یوں مخاطب ہوا ہو لیکن ملک و قوم کو درپیش ایک انتہائی سنگین بحران اور اس کے سامنے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی بے عملی ، بے بسی اور سرعام بے توقیری نے اسے تمام نتائج و عواقب سے بے پرواہ ہوکر یہ گزارشات نامہ (جو صرف اس کے اپنے جذبات کا ہی نہیں بلکہ عام اہل فکر کا بھی ترجمان ہے) لکھنے پر مجبور کیا ہے ۔
2۔ یہ راقم بھی نہیں بلکہ ہر اہل فکر اس المیہ پر حیران اور پریشان ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی ایک جج نے بھی سپریم کورٹ کی اس انتہائی المناک بے توقیری اور بے بسی پر ماتم تو کیا کرنا تھا احتجاج تک نہیں کیا ہے۔ اس سے بڑھ کر خود سپریم کورٹ کے ججز کے لئے المناک اور کربناک صورت حال کیا ہوسکتی ہے؟ اس انتہائی افسوسناک صورت حال پر محترم ججز کے متعلق عوام میں جو توجیہہ بیان کی جارہی ہیں وہ اس قدر ناگفتنی ہیںکہ وہ سن کر تو سپریم کورٹ کی عمارت بھی دھڑام سے نیچے آگرے گی۔
3۔ سپریم کورٹ کے جو جج صاحبان کسی ذاتی مجبوری یا کمزور ی کی وجہ سے ملک و قوم کو درپیش اس انتہائی سنگین بحران میں اپنا مثبت اور جرات مندانہ کردار ادا کرنے سے معذور ہوں تو ایک بار پھر ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ اگر یہ راقم ان کی جگہ ہوتا تو مجاز اتھارٹی کو اپنا استعفیٰ یا قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر گھر چلا جاتا اور بعد از ریٹائرمنٹ تمام مراعات سے بھی رضاکارانہ دستبردار ہوجاتا کیونکہ جس منصب سے میں انصاف نہیں کرسکا اس منصب سے متعلق مراعات کا حصول بجائے خود انتہائی غیر اخلاقی عمل ہے۔ میری دانست میں بعد از ریٹائرمنٹ کسی قدرباعزت زندگی گزارنے کا یہی طریقہ ہے۔
4۔ جناب چیف جسٹس صاحب سے یہ بھی گزارش ہے کہ جب وہ مناسب سمجھیں قوم کو ان تمام دیگر عوامل اور محرکات سے ضرور آگاہ کریں جنہوں نے انہیں انتہائی اہم اور سنگین ترین کیسز میں بے عملی اور خاموشی پر مجبور کیا کیونکہ یقینا بہت سے راز ان کے سینے میں محفوظ ہوں گے۔ راقم کو یاد ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے بعد جب چوہدری افتخار احمد صاحب کو بطور چیف جسٹس بحال کیا گیا تھا تو ایک امریکی ڈپلومیٹ رچرڈ ہالبروک نے کسی پروٹوکول کے بغیر ان سے ملاقات کی تھی جس میں مبینہ طور پر اس نے چیف جسٹس صاحب کو جنرل پرویز مشرف کے خلاف کوئی قانونی کاروائی کرنے پر خطرناک نتائج کی دھمکی دی تھی۔
5۔ جناب چیف جسٹس صاحب قوم کو ان تمام ججز کے کردار سے بھی آگاہ کریں جو اپنے طرز عمل سے ملک و قوم اور سپریم کورٹ کی رسوائی اور بے توقیری کا باعث بنے ہیں ۔
6۔ آئین کے مطابق اکتوبر یا نومبر 2023 میں عام انتخابات کے یقینی انعقاد و ان کے شفاف اور کسی بھی دھاندلی سے پاک ہونے اور تمام سیاسی پارٹیوں (بشمول پی ٹی آئی اور چیئر مین پی ٹی آئی) بلا کسی روک ٹوک حصہ لینے کے تمام مراحل میں سپریم کورٹ کا کردار سب سے اہم اور فیصلہ کن ہوگا۔ اگر سپریم کورٹ اس اہم ترین اور فیصلہ کن مرحلہ پر بھی خدانخواستہ ناکام رہتی ہے تو پھر یقینی امر ہے کہ وطن عزیز ایک ایسی افراتفری اور خون ریزی کا شکار ہوسکتا ہے جو خدانخواستہ سب کچھ تباہ کردے گی۔ اگرسپریم کورٹ اکتوبر/ نومبر2023 میں ملک بھر میں صاف اورشفاف انتخابات کرانے اور انتقال کردار میں ناکام رہ جاتی ہے تو یہ المیہ 1971کے سانحہ سے کہیں بڑھ کر المناک سانحہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
( مکمل )
فیس بک کمینٹ

