اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی توڑنے کی سمری پر دستخط کردیے۔ اب سمری صدر مملکت عارف علوی کو بھجوا دی جائے گی۔ یہ اسمبلی پارلیمانی تاریخ کی پہلی اسمبلی تھی جس میں وقت کے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب رہی۔
13 اگست 2018ء کو شروع ہونے والی پاکستان کی 15ویں قومی اسمبلی نے ایک صدر، دو وزرائے اعظم، دو اسپیکرز اور دو ڈپٹی اسپیکرز منتخب کیے۔9 اگست کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان وزیراعظم شہباز شریف کئی دنوں سے مختلف تقریبات میں بھی کرتے آئے ہیں۔
قومی اسمبلی میں الوادعی تقاریر بھی کی گئیں اور باہمی ملاقاتیں بھی قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے اپنے سٹاف اور اراکین اسمبلی سے بھی فرداً فرداً ملاقاتیں کیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نگراں وزیراعظم کے تقرر کے لیے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے کل ملیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے الوداعی خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 9 مئی کو جو ہوا وہ انتہا تھی، ریاست، فوج اور فوج کے سپہ سالار عاصم منیر کے خلاف سازش تھی، پاکستان کے ڈیفالٹ کر جانے کی دعائیں کرنے والوں کا مکروہ چہرہ بےنقاب ہوا۔
اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ انھوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کے عروج میں ان کی مخالفت کی، جب چیئرمین پی ٹی آئی ملک تباہ کرنے لگے تو ہم نے کردار ادا کیا ، اگر ہم نہ ہوتے تو ملک ڈیفالٹ کرجاتا۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نومبر میں کمان کی تبدیلی کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی تاکہ استحکام نہ آئے، الیکشن ہوں گے اور نئی اسمبلی آئے گی تو مزید سیاسی استحکام آئے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ پندرہ ماہ بہت خلفشار رہا، نومبر کے بعد استحکام آیا، نو مئی کے واقعے نے تاریخ کو داغ دار کیا۔ اس دن ایسے شخص کا اصل چہرہ سامنے آیا جو اقتدار کے لیے فوج پر بھی حملہ کرسکتا ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کل وہی شخص اپنے وکیل سے کہہ رہا تھا کہ مجھے جیل سے نکالو ، وہ شخص تحفے بیچنے کے شرم ناک کیس میں پکڑا گیا ہے۔
( بشکریہ : جیو نیوز )
فیس بک کمینٹ

