اختصارئےلکھاریمظہر حسین باٹی

بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات : قصور کس کا ہے ؟۔۔ مظہر حسین باٹی

بلاشبہ معاشرتی خرابیوں کے خلاف قانون بنانے کا مقصد معاشرے کو جرائم سے پاک کرنا ہوتا ہے اگر پھر بھی حالات جوں کے توں رہیں تو اس کا مطلب ہے کہ قانون میں ایسا کوئی پہلو رہ گیا ہے کہ جس سے جرائم کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے جدید انٹرنیٹ نے ہماری نوجوان نسل کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا جس سے ہمارے بچوں اور بچیوں کا مستقبل تاریک ہونے لگا ہے، نئی ایجاد نے جہاں انسان کو ترقی دی ہے وہیں نقصان بھی ہوا ہے،کلیوں کی طرح نازک اور معصوم بچے ہماری نگہداشت پیار اور دیکھ بھال کے لائق ہوتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں جہاں دوسری اخلاقی،سماجی اور معاشرتی برائیاں پنپ رہی ہیں وہیں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات بھی روز افزوں بڑھتے جارہے ہیں۔
دس سال کے دوران کمسن بچوں اور بچیوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے اور بعد میں بھاری رقم کے عوض ملزمان سے ڈیل بھی ہوئی ہے،سال 2018ء19اور 2020ء کے شروعات میں بچوں سے زیادتی کے حوالے سے انتہائی خطرناک ثابت ہوئے ہیں،جنوبی پنجاب میں ان چند برسوں کے دوران مختلف اضلاع میں بچوں اور بچیوں سے جنسی زیادتی کے بہت سے واقعات سامنے آئے ہیں ان واقعات میں متعدد بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا جبکہ بچیاں بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنی جنہیں ورغلا کر یا زبردستی اغوا کرکے انفرادی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بیشتر بچیوں کو بھی زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ ضلع خانیوال میں 2018ء،19اور 2020ء کے دوران بہت سے بچیوں اور بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا معصوم بچیوں اور بچوں سے زیادتی کرنے والو ں میں سے چند ایک کے سوا باقی قانون کی گرفت سے آزاد گھوم رہے ہیں جبکہ مذکورہ بالا میں 90فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں کروائے جاتے یا مقامی سیاسی پریشر پر سب معالات ختم کروا دیے جاتے ہیں جو کسی المیہ سے کم نہیں،پولیس کے گھسے پٹے طریقہ تفتیش،رشوت اور سفارشی کلچر کے باعث مظلوموں اور متاثرین کو دور دور تک انصاف کی توقع نہیں ہے،ضلع خانیوال کی سب سے بڑی تحصیل کبیروالا میں سال 2019ء اور 2020کے دوران کم سن بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات متعدد ہوچکے ہیں ۔ انتظامیہ کے اعلی افسران اور تبدیلی سرکارکو اس سارے معاملے میں مکمل چھان بین کرنی چاہیے،ہر گاؤں میں رضا کارانہ طور پر چائلڈ پروٹیکشن تنظیمیں بنائی جائیں جو مجرمانہ اور اوباش ذہنیت کے افراد پر نظر رکھیں کیونکہ دیہات میں شہریوں کی نسبت شناسائی زیادہ ہوتی ہے اگر بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر واقعات دیہی علاقوں میں معاشی طور پر کمزور افراد کے بچوں کے ساتھ پیش آتے ہیں او رکچھ واقعات میں زیادتی کرنے والوں کا تعلق بااثر گھرانوں سے ہوتا ہے ان سارے واقعات میں والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں پر کڑی نگاہ رکھیں ان کی تمام سرگرمیوں کا جائزہ لیتے رہیں اسی طریقے سے ایسے واقعات کی شرح کم ہوسکتی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker