عدت کسی میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں۔ اسلام آباد کے سیشن جج کی عدالت میں دو راؤنڈ کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔ تحریک انصاف نے اس مضحکہ خیز فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمر ایوب نے اس فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا۔ سیاسی مباحثہ سے قطع نظر، اس مقدمہ کی نوعیت اور ملکی عدالتی نظام کے حوالے سے ان کی بات سے اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔
ہمارا عدالتی نظام اس حوالے سے دو باتوں کا ادراک کرنے میں مکمل طور سے ناکام رہا ہے۔ ایک یہ کہ یہ دو بالغ لوگوں کا فیصلہ ہے جس میں دونوں نے مکمل ہوش و حواس میں ایک دوسرے کا شریک حیات بننے کا وعدہ کیا تھا۔ کسی بھی عدالت کو اس وقوعہ کی حیثیت، قانونی پوزیشن اور اس پر شرعی نکات کا اطلاق کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں اپنے عقائد پر واضح ہیں۔ اس لیے اس معاملے میں ان کی گواہی سے زیادہ کسی دوسری شہادت یا گواہی کی کوئی اہمیت نہیں ہو سکتی۔ دوسرے یہ کہ عمران خان ساڑھے تین سال تک اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں۔ بشریٰ بی بی کو اس دوران میں خاتون اوّل کا رتبہ حاصل تھا۔ اس حیثیت میں وہ متعدد ممالک کا دورہ کرچکی ہیں اور وہاں اعزاز پا چکی ہیں۔ اب ایک زیریں عدالت اگر یہ قرار دے رہی ہے کہ ان دونوں کے نکاح میں شرعی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تھے تو اسے عمران خان اور بشری بی بی کی کوتاہی سے زیادہ ملکی نظام کی کمزوری سمجھنا چاہیے جہاں ایک ایسا شخص عوام کے ووٹ لے کر ملک کا وزیر اعظم بن جاتا ہے جس کے عقیدہ اور اسلامی شعائر ’غیر واضح‘ ہیں اور اب عدالتیں ان کی تصحیح کر رہی ہیں۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے جمعہ کو اس فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قانونی طور سے سزا معطل کرنے کے حق میں کوئی بنیاد فراہم نہیں کی گئی۔ جج کا یہ نکتہ قابل غور نہیں ہے۔ یہ مقدمہ ہی بے بنیاد ہے اور عمران خان کی سیاسی حیثیت کی وجہ سے قائم کیا گیا ہے ورنہ نہ تو اس مقدمہ کی کوئی حیثیت ہے اور نہ ہی ملکی عدالتی نظام میں اس نوعیت کے معاملات کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے۔ اصولی طور سے جج کو سزا معطل کرنے کے علاوہ اس احمقانہ اور افسوسناک فیصلہ کو ختم کرنے کا اقدام کرنا چاہیے تھا۔ سیشن کورٹ کا فیصلہ خواہ کتنا ہی ’میرٹ‘ پر ہو لیکن موجودہ حالات میں اسے سرکاری دباؤ کا نتیجہ ہی کہا جائے گا۔ یوں بھی اس مقدمہ کا میرٹ اسی وقت ختم ہوجاتا ہے جب مقدمہ کے مدعی کو اپنی سابقہ بیوی کے کردار کے بارے میں کئی سال گزرنے کے بعد عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کا خیال آتا ہے۔ اسلام آباد سیشن کورٹ کا فیصلہ تو شاید ہائی کورٹ میں کالعدم قرار دیا جائے اور اس سزا معطلی کے علاوہ شاید اپیل میں اس سزا کو ہی ختم کر دیا جائے۔ لیکن اس معاملہ پر ہونے والی کارروائی نے ملک کی زیریں عدالتوں میں انصاف کی صورت حال اور سیاسی مخالفت میں حکومت وقت کی اخلاق باختگی کا پردہ ضرور فاش کیا ہے۔ سیشن عدالت کے پاس موقع تھا کہ اس بے بنیاد اور مضحکہ خیز مقدمہ کو خارج کر کے ملک میں انصاف کے نظام کو رسوا ہونے سے بچا لیتی لیکن متعلقہ جج اس کا حوصلہ نہیں کر سکا۔ یوں تو اعلیٰ عدلیہ کی خود مختاری کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں لیکن زیریں عدالتوں میں انصاف کی فراہمی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدت کیس کو جاری رکھنے کا طریقہ اس حوالے سے ٹھوس مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ملک کی بڑی اکثریت نچلے درجے کی عدالتوں سے ہی انصاف کی طالب ہوتی ہے لیکن اگر وہاں پر قانون کی عملداری کمزور ہوگی تو ملک کے شہریوں کی داد رسی ممکن نہیں ہو سکتی۔
چند روز پہلے قومی اسمبلی میں وزیر اعظم شہباز شریف نے جیل میں عمران خان کی مشکلات کم کرنے کے لیے خیر سگالی کا اظہار کیا تھا۔ اس بیان کی روشنی میں بھی اگر عدت کیس کے فیصلہ کو جانچا جائے تو لگتا ہے کہ حکومت کی پالیسی اور بیانات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک ہو جو سابقہ دور میں ان کے اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ روا رکھا گیا تھا۔ چونکہ یہ مباحثہ دو مخالف سیاسی گروہوں کے ادوار حکومت کے بارے میں ہے، اس لیے اس سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا۔ لیکن شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں یہ اعلان کرنا کہ ’عمران خان کو اگر جیل میں کوئی تکلیف ہے تو وہ مجھ سے بات کریں‘ حیران کن ہے۔ کیا جیلوں میں سہولتوں کے لیے ہر قیدی کو وزیر اعظم سے رجوع کرنا چاہیے؟ یا یہ تخصیص خاص عمران خان کے لیے ہے۔ اور اس کا جواز کیا ہے؟ شہباز شریف کو علم ہونا چاہیے کہ عمران خان کو جیل میں سابق وزیر اعظم اور ایک مقبول لیڈر کے طور پر کیا سہولتیں ملنی چاہئیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سہولتیں کسی شکایت یا مطالبے کے بغیر انہیں فراہم کی جائیں۔
جیسا کہ تحریک انصاف اعلان کرتی رہتی ہے، اگر انہیں یہ سہولتیں نہیں مل رہیں تو شہباز شریف کو یقینی بنانا چاہیے تھا کہ ان شکایات کا ازالہ ہو جائے۔ اور عمران خان کو ہر وہ سہولت دی جائے جو کسی مہذب معاشرے میں اس حیثیت کے قیدی کو دی جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ قومی اسمبلی میں اعلان کرتے کہ اگرچہ انہیں خود دوران حراست مناسب سہولتیں حاصل نہیں تھیں لیکن اب انہوں نے یقینی بنایا ہے کہ عمران خان کو ملاقاتوں، ائرکنڈیشننگ، کھانے پینے اور لکھنے پڑھنے کی مناسب سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اس کے برعکس دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت تو سپریم کورٹ کو بھی مطمئن نہیں کر سکی کہ عمران خان کو وکلا اور پارٹی کے ساتھیوں سے ملنے کا مناسب موقع دیا جاتا ہے۔ حتی کہ ملک میں سنسر شپ کا یہ عالم ہے کہ ملکی ٹیلی ویژن اسٹیشنوں پر عمران خان کا نام لینے یا ان کی تصویر دکھانے کی بھی ممانعت ہے۔ اس قسم کے جابرانہ ہتھکنڈوں سے سیاسی لیڈروں کو دبانے کی خواہش بے سود ہوتی ہے۔
اس دوران میں مسلم لیگ (ن) کے دو سینئر لیڈر احسن اقبال اور رانا ثنا اللہ یہ اعلان کرچکے ہیں کہ عمران خان کو طویل عرصہ تک قید رہنا چاہیے کیوں کہ ان کے باہر آنے سے ملکی حالات قابو میں نہیں رہیں گے۔ یہ سطحی اور انصاف و قانون کے تمام تقاضوں کے برعکس موقف ہے کہ کسی لیڈر کو سیاسی حالات کنٹرول میں رکھنے کے لیے گرفتار کیا جائے اور اس کے خلاف عدت کیس جیسے مقدمے قائم کر کے طویل سزائیں دلوائی جائیں۔ اس ماحول میں اگر تحریک انصاف یہ کہتی ہے کہ عمران خان کو سیاسی بنیادوں پر حراست میں رکھا گیا ہے تو اس دعوے کو مسترد کرنا ممکن نہیں ہو گا کیوں کہ حکومت کا طرز عمل اور اس کے لیڈروں کے بیانات اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔
جمہوری نظام میں حکومتیں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتی ہیں۔ اپوزیشن کسی بھی حکومت کی کارکردگی کے خلاف مناسب طریقے سے اختلاف رائے کے علاوہ احتجاج کا راستہ اختیار کر سکتی ہے۔ کوئی احتجاج عوام کی حمایت کے بغیر منظم نہیں کیا جاسکتا۔ جب حکمران جماعت کے لیڈر اس خوف کا اظہار کرتے ہیں کہ عمران خان باہر آ کر نظام حکومت کو چیلنج کریں گے تو وہ خود جمہوری نظام پر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ دیانت داری سے ایسے عناصر کسی بھی جمہوری نظام کی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ کوئی جمہوری حکومت سیاسی احتجاج کو نہیں روکتی البتہ امن و امان بحال رکھنے کے لیے مناسب اقدام کیے جاتے ہیں۔ یہ کہنا کہ پاکستان کا نظام اس وقت عمران خان کے باہر آنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، لغو اور اصول سیاست کے بنیادی اصول سے متصادم موقف ہے۔
عمران خان ضرور نظام سے بغاوت کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ نام نہاد ’بغاوت‘ ہرگز ملکی نظام پلٹ دینے کا نام نہیں ہے۔ نہ وہ اداروں میں بغاوت سے ملکی اقتدار پر قبضہ کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ فوج کو اگر ریاستی طاقت کی علامت مان لیا جائے تو عمران خان نے کبھی فوج سے ’بغاوت‘ کا اعلان نہیں کیا بلکہ وہ تو بدستور فوج کے ساتھ بات چیت کا مطالبہ کر رہے ہیں کیوں کہ ان کا سیاسی موقف ہے کہ موجودہ حکومت کٹھ پتلی ہے اور فیصلوں کا اصل اختیار فوجی قیادت کے پاس ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ شہباز شریف بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرتے۔ اس معاملہ میں سانحہ 9 مئی نے مشکل پیدا کی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے تحریک انصاف سیاسی زیرکی کا مظاہرہ نہیں کر سکی اور عسکری قیادت اس روز ہونے والے واقعات کو فوج میں انتشار کی سازش سمجھتے ہوئے شدید ناراضی کا اظہار کرتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ تحریک انصاف میں کوئی ایسا لیڈر موجود نہیں جو اس موقع پر پارٹی لیڈر اور فوج کے درمیان مصالحت کروا سکتا۔
وزیر اعظم شہباز شریف اس حوالے سے فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن انہیں قومی مفاد سے زیادہ اپنا اقتدار عزیز ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ عمران خان کے ساتھ مفاہمت کی صورت میں وہ خود شاید فوجی قیادت کے لیے ’کارآمد‘ نہ رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلسل تحریک انصاف کو قومی سیاست سے دور رکھنے کی کوششیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ موجودہ بحران میں سب سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر معاشی، سماجی اور سفارتی مسائل سے نمٹنے کا عزم کرنا چاہیے۔ سب کو جان لینا چاہیے کہ اگر یہ ملک ہو گا، وہ تب ہی سیاست کر سکتے ہیں۔
شہباز شریف کو عمران خان کے خوف سے باہر نکلنا چاہیے۔ وہ اگر تحریک انصاف اور فوج کے درمیان پل نہیں بننا چاہتے تو بھی انہیں عمران خان کے سیاسی حقوق سلب کرنے کا طریقہ ترک کرنا چاہیے۔ ان کی حرکتوں اور عاقبت نا اندیشانہ فیصلوں کی وجہ سے ملک کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو سیاست کے سارے کھیل ادھورے رہ جائیں گے۔(بشکریہ:کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

