سید مجاہد علیکالملکھاری

سید مجاہد علی کا کالم : خالد تھتھال۔۔ شجر سایہ دار تھا جو نہ رہا

کسی دوست کی رحلت پر کچھ بھی کہنا آسان نہیں ہوتا۔پھر بھی جب کسی دوست کی علالت ، ناسازی طبع یا کسی ایسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کی خبر ہو جس میں جان جانے کا اندیشہ موجود رہے تو دوست احباب اور اہل خاندان ذہنی اور جذباتی طور سے کسی صدمے کے لئےتیار ہوتے ہیں۔
لیکن خالد حسین تھتھال نے جانے میں اتنی جلدی کی کہ ان کے انتقال کو دو ماہ بیت گئے ، ان کی نماز جنازہ میں شرکت کرلی اور اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتار دیا لیکن دل کو یہ یقین دلانا مشکل ہورہا ہے کہ ایک جیتا جاگتا، ہنستا کھیلتا اور زندگی میں بھرپور حصہ دار انسان ایسے اچانک راہی عدم ہوگیا۔ اب نہ اسے دیکھا جاسکے گا ، نہ اس سے بات ہوسکے گی اور نہ ہی اس کی فکر و دانش سے بھری باتیں سننے کو ملیں گی۔ نہ پیچیدہ سماجی امور پر اس کی رائے کا ادراک ہوگا اور نہ ہی انسانی رشتوں کے بارے میں اس کی نکھری ستھری شفاف سوچ کی عکاس نظمیں غزلیں سننے کو ملیں گی۔
خالد حسین تھتھال پنجابی شعر و ادب کا بڑا نام تھا لیکن ناروے کے چھوٹے سے ادبی حلقہ کا ایک ایسا ہیرا تھا جس کی وجہ سے لاہور ، فیصل آباد، گجرات اور راولپنڈی یا امرتسر، نئی دہلی، کلکتہ اورپھر برطانیہ و کینیڈا کے ادبی حلقوں تک اوسلو اور ناروے کے پاکستانی نژاد ادیبوں کا کام روشناس ہوتا تھا۔
خالد حسین بلند بانگ نہیں تھا لیکن اس کی کہی ہوئی بات میں وزن، دلیل اور انسان دوستی مترشح ہوتی تھی ۔۔ ان کی شاعری دل میں اترتی تھی۔ وہ سماج اور اس میں بسنے والے لوگوں کی ایسی تصویر نقش کرتا تھا کہ سننے یا پڑھنے والا خود کو اس تجربے یا تصویر کا حصہ سمجھنے پر مجبور ہوجاتا تھا۔ خالد حسین تھتھال ایک ادیب تھا۔ وہ انسانوں کے دکھ کو سمجھتا، ان پر کڑھتا لیکن انہیں دور کرنے کے لئے نعرہ زن ہونے یا کوئی ہنگامہ برپا کرنے کی بجائے، ان دکھوں تکلیفوں کو سمجھنے اور اسے انسانی شعور کا حصہ بنانے میں اپنے قلم کی قوت استعمال کرتا تھا۔ اس کا فنکار قلم جانتا تھا کہ کسی معاشرے میں انقلاب کے لئے آگاہی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ وہ اپنے الفاظ سے سماجی رویوں کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتا جو معاشرے میں ناانصافی اور ظلم کی بنیاد بنتے ہیں لیکن عام طور سے انسان دوستی کے دعوؤں کے باوجود نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں۔ انسانوں کو درپیش دکھوں کو سامنے لانے کا یہ طریقہ دراصل اس اجتماعی شعور کی تشکیل میں کردار ادا کرتا ہے جو کسی سماج سدھار کے بڑے منصوبے کے لئے بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔ جب کوئی لکھاری نعرے سے تفہیم تک کا سفر طے کرلے تب ہی وہ حقیقی فنکار کے رتبے پر فائز ہوسکتا ہے۔ خالد حسین نے یہ سفر بہت جلد طے کرلیا تھا۔ اس کی شاعری کا پہلا مجموعہ’ انمُلے پھل ‘ 1991 میں اشاعت پذ یر ہؤا تھا۔ اس وقت خالد حسین کا ادبی سفر ابھی شروع ہی ہؤا تھا۔ وہ پنجابی شاعر اور انسان دوست ادیب کے طور پر اپنی پہچان کروانے لگے تھے۔ اس مجموعہ میں کتاب کے عنوان سے ہی شائع ہونے والی یہ نظم دیکھئے:

روز سویرے
جد میں ویچن پھل جاؤناں واں
کیہڑے پاسے کل گیا ساں
ایہو تے میں بھل جاؤنواں واں
دیکھ کے لوکی اندریں وڑدے
کوئی نہ لگدا نیڑے
ایسے لئی ڈھیر پھلاں دا
لگا میرے ویہڑے
جے نہ لوکی پھل خریدن جوگے ہوندے
پھلاں دا کوئی مل تاں میتھوں پُچھ لیندا
ہن تے ایہہ آوازاں لاؤناں
پھلاں دی نہیں قیمت لیندا
سجرے گلاب دے لے لئو
چنبا موتیا بہیکڑ لے لو
فیر وی لوکی پھل نہیں لیندے
مونہوں کج نہیں کہندے
میتھوں پہلاں خبرے کس نے پھل ویچے نیں
خبرے کیہڑے مل ویچے نیں
خبرے کیہڑے پھل ویچے نیں!
سماج کی یہ تصویر دکھانے کے لئے کسی ادیب کو احساس کے جن تھپیڑوں اور طوفانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خالد حسین اپنی شاعری میں اس کا سایہ پڑنے نہیں دیتا۔ وہ اپنی ذات پر گزرنے والے دکھوں کا قصہ خواں نہیں ہے بلکہ انسانی رویوں کا عکاس ہے۔ ایک ماہر فوٹو گرافر کی طرح وہ تصویر اتار کر ہمارے مشاہدے کے لئے ایسے میٹھے، سہج اور دھیمے الفاظ میں پیش کرتا ہے کہ وہ تصویر احساس کی گہرائی میں اپنی جگہ بنانے لگتی ہے۔ اس کا یہ فنی رویہ اس کی تمام شاعری اور دیگر ادبی کام میں بدرجہ اتم محسوس کیا جاسکتا ہے۔ خالد حسین کے آخری شعری مجموعے ’سُفنے ویچے برف وچ‘ کی نظم ’ اوہ بندا سمجھو مر جاندا اے‘ملاحظہ ہو:
جیہڑا اپنے آپ جوگا ای رہ جاندا اے
حق کسے دا مارن لگدا اے
سچ کسے نوں جھٹلاندا اے
مکر فریب دا بانا پاکے
اپنا آپ لکاندا اے
کسے دی ماڑی چنگی وچ نہیں
کسے دے لنگ وچ ہتھ پاندا اے
اوہ بندہ سمجھو مرجاندا اے
خالد حسین اپنی شاعری میں ہی میٹھا اور سہج نہیں تھا بلکہ اس کی پوری شخصیت گھنے ، تناور اور سایہ دار درخت کی مانند تھی ۔ اس سے ملنے والا کوئی بھی شخص اس کی شگفتگی گفتار، دانشمندانہ توازن اور دلیل کے ساتھ متوازن بات کرنے کے طریقے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔
مجھے یاد نہیں کہ میری خالد حسین کے ساتھ پہلی ملاقات کب اور کیسے ہوئی لیکن مجھے ہمیشہ یہی لگا کہ وہ میرا جنم جنم کا ساتھی ہے۔ اس کے ساتھ کسی معاملہ پر کوئی بھی بات ہوتی تو وہ اپنے مخصوص انداز میں کسی پر الزام دھرے بغیر اس معاملہ کے تمام پہلوؤں کو سامنے لانے کی کوشش کرتا۔ خالد حسین سے مل کر کبھی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ جلدی میں ہے۔ اس سے بات کرنے والے ہر شخص کو یہ احساس ہوتا کہ اس کا تمام وقت اور توجہ اس کی طرف مرکوز ہے۔ کسی انسان کی قدر و قیمت کا اس سے بڑھ کوئی کیا شناور ہوسکتا ہے۔
لیکن جاتے ہوئے خالد نے بہت عجلت کی۔ نہ مزاج پرسی کا موقع دیا اور نہ دوستوں کو اس سانحہ کی تیاری کا وقت ملا۔ اس کے سب دوست اس سانحہ پر جس کیفیت سے گزر رہے ہیں، اس کا ذکر خالد نے خود ہی اس شعر میں کردیا ہے:
اوہدے وچ اوہ کیہڑی گل سی خالد ، جس دے کارن
مینوں اوہدی یاد ستایا ، جد وی ، کسے نوں ملیا
خالد جیسے گراں مایہ شجر سایہ دار کی تلاش کا یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوگا۔ لیکن وہ اپنی شاعری، افسانوں اور فکری مضامین میں جو گراں قدر ادبی اثاثہ چھوڑ گیا ہے، اس کے ہوتے خالد حسین کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا اور وہ خود اپنے دوستوں کے دلوں کی دھڑکنوں میں آباد رہے گا۔

(خالد حسین تھتھال کا انتقال 16 اگست کو اوسلو میں ہؤا تھا۔ 23 اکتوبر2021 کو فیملی نیٹ ورک اوسلو نے ان کی یاد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ یہ مضمون اسی موقع پر پڑھا گیا)

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker