ہم آج کی نوجوان نسل کو یہ بتائیں گے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں پاکستان نیشنل سینٹر کے نام سے ایک ایسا ادارہ ہوا کرتا تھا ۔جہاں پر نوجوان لکھاریوں کے لیے ہر ماہ بے شمار تقریبات کا انعقاد کیا جاتا تھا ۔اس کے علاوہ حکومتی پالیسوں کے حق میں توصفیی مذاکرے، قومی دنوں کی مناسبت سے تقریری مقابلے اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں پر پروگرام کرانا پاکستان نیشنل سینٹر کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی ۔ملتان میں پاکستان نیشنل سینٹر کے پہلے انچارج غضنفر مہدی تھے ۔جن کی اس زمانے میں ہمدردیاں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ تھیں ۔جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا ۔تو غضنفر مہدی تب بھی پی پی پی کی حمایت کر رہے تھے۔ ان کے خلاف جب شکایات کا بازار گرم ہوا تو سزا کے طور پر ان کا تبادلہ ایبٹ آباد کر دیا گیا ۔اور ان کی جگہ پر معروف شاعر اعزاز احمد آذر کو ڈائریکٹر تعینات کر دیا گیا ۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ لاہور میں کشور ناہید پاکستان نیشنل سینٹر کی انچارج تھیں ۔اور اعزاز احمد آذر کشور ناہید کے تربیت یافتہ تھے ۔اس لئے انھوں نے لاہور سے ملتان آکر جھنڈے گاڑ لیے ۔
ادب کی دنیا میں اعزاز احمد آذر معروف نام تھا ۔اور انھوں نے اپنے پروگرام منیجر خالد خلیل کے ساتھ مل کر بہت سے یاد گار پروگرام کرانے شروع کیے ۔تو ملتان کی صحافتی، سیاسی، ثقافتی، ادبی اور سماجی حلقوں کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ۔اسی نیشنل سینٹر میں ایک شاندار لائبریری بھی ہوا کرتی تھی ۔جہاں روزنامے ماہنامے اور وزارت اطلاعات کے زیر اہتمام طبع ہونے والی صدر پاکستان کی تقاریر اور دیگر لٹریچر موجود ہوتا تھا ۔لائبریری کے انچارج سلیم جہانگیر اور ان کے معاون ظہور بخاری تھے ۔1983 میں علم ہوا کہ پشاور سے فارغ بخاری لاہور سے اسرار زیدی، شہزاد احمد اور کوئٹہ سے عطا شاد بہاولپور میں کل پاکستان محفل مشاعرہ میں شرکت کے بعد اعزاز احمد آذ ر کی دعوت پر پاکستان نیشنل سینٹر ملتان آ رہے ہیں ۔یہ واقعہ آج سے 39 سال پہلے کا ہے ۔جب ہم بمشکل اٹھارہ سال کے بھی نہیں ہوئے تھے ۔کہاں یہ علم وادب کے بڑے نام ۔اور کہاں ہم۔ فارغ بخاری کا قیام ڈاکٹر مقصود زاہدی کے ہاں تھا ۔رضی الدین رضی نے ڈاکٹر مقصود زاہدی سے فارغ بخاری سے ملاقات کا وقت طے کیا ۔ پھر مقررہ وقت پر فارغ بخاری سے مکالمہ کرنے مقصود زاہدی کے گھر واقع نواں شہر ملتان پہنچ گئے ۔میرا رضی الدین رضی کا کسی بھی بڑی ادبی شخصیت کے ساتھ پہلا ادبی مکالمہ تھا ۔رضی الدین رضی نے وہ انٹرویو روز نامہ امروز ملتان میں شائع کرایا جبکہ میں نے وہی انٹرویو ماہنامہ محور کراچی میں بجھوا دیا ۔جس کی مدیرشاہدہ نفیس تھیں ۔جو ان دنوں ملک کے معروف سیاست دان اور تجزیہ نگار نفیس صدیقی کی اہلیہ تھیں ۔ ماہنامہ محور کراچی دھنک لاہور کے بند ہونے کے بعد شائع ہونا شروع ہوا ۔اسی دوران ہم نے عطا شاد، شہزاد احمد اور اسرار زیدی کے انٹرویو بھی ریکارڈ کر لئے ۔جو بعد میں مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہوئے۔اس سے اگلے برس منو بھائی نسیم شاہد کے پہلے شعری مجموعہ کی تعارفی تقریب میں بطور صدر ملتان تشریف لائے تو منو بھائی کی شہرت ان کے کالم گریبان اور ٹی وی ڈرامہ سونا چاندی کی وجہ سے چاروں اور پھیل چکی تھی ۔ چونکہ اس وقت صرف پی ٹی وی گھروں میں دیکھا جاتا تھا ۔اس لیے منو بھائی کو سننے اور دیکھنے کے لیے پورا شہر آیا ہوا تھا ۔تقریب کے اگلے دن ہم نے منو بھائی کا انٹرویو تو کر لیا ۔لیکن اس موقعہ پر ہمیں فوٹوگرافر نہ ملا تو ہم کینٹ میں ایک چوبارے پر موجود فوٹو گرافی کے سٹوڈیو میں منو بھائی کو لے کر انٹرویو کرتے ہوئے کی تصویر بنوائی ۔
1980 کی دہائی میں ایک انٹرویو کرنے کے لئے نئے اور پرانے لکھنے والوں کو اتنے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے ۔کہ اگر آج کے نوجوان لکھنے والوں کے لیے وہی دور واپس آ جائے تو وہ کبھی ادب و صحافت کے قریب نہ جائیں ۔ یہی وہ جنون تھا جو ہمیں لکھنے کی طرف لے آیا ۔رضی الدین رضی نے باقاعدہ طور پر صحافت کو اپنایا اور ملتان سے شائع ہونے والے تمام اخبارات کی پہلی ٹیم کا حصہ بنے۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ملتان کی ادبی تاریخ میں اہم افراد کے سب سے زیادہ پینل انٹرویو کیے ۔
گزشتہ دنوں رضی الدین رضی کے 1983 سے لے کر اب تک کئے گئے اکثر مکالموں کو”مشاہیر ادب سے مکالمے“ کے نام سے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے ۔جس میں ڈاکٹر راجہ مظہر حمید نے رضی الدین رضی کی ادبی سرگرمیوں کو سراہا ہے ۔کتاب میں جہاں فارغ بخاری، بشری رحمان، اسلم انصاری، وزیر آغا، ممتاز مفتی، اسرار زیدی، شہزاد احمد، عاصی کرنالی، اسد اریب، ماہ طلعت زاہدی حسین سحر، ایاز صدیقی جیسی شخصیات سے مکالمے شامل کئے گئے ہیں ۔وہاں پر صلاح الدین حیدر، شوکت مغل، عزیز شاہد، زوار حسین، صادق علی شہزاد، ارشد ملتانی سمیت دنیائے ادب کے معروف اہل قلم کے انٹرویو شامل ہیں ۔رضی الدین رضی کے ساتھ پینل انٹرویو میں نسیم شاہد، اظہر مجوکہ، انور زاہدی، اشرف جاوید، ڈاکٹر فرحت عباس، محمد اسلام تبسم، اور ڈاکٹر خالد اقبال شامل ہیں ۔یہ انٹرویو جہاں ملکی ادبی تاریخ کا احاطہ کرتے ہیں ۔وہاں یہ مکالمے مقابلے کے امتحان میں شامل ہونے والوں کو نئے راستے دکھاتے ہیں ۔یہ کتاب پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ ماضی کے لکھنے والے ادب کے نئے زاویوں سے کتنے باخبر تھے ۔یہ مکالموں کی گفتگو ادب کا ایسا اثاثہ ہے کہ جو محفوظ ہونے کے قابل تھا ۔اس لیے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اہم مکالموں کو کتابی شکل میں محفوظ کر کے آنے والی نسلوں کے لئے روشن راستہ متعین کیا ہے۔
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )
فیس بک کمینٹ

