قومی سلامتی کمیٹی نے ریاستی اتھارٹی قائم رکھنے اور کسی بھی قسم کے تشدد کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس اعلی سطحی کمیٹی کے اجلاس میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے اور ان کے ’جائز مطالبات ‘ پر غور کرنے کا اعلان بھی کیا گیاہے۔ ایک طرف توڑ پھوڑ ، تشدد اور غیر قانونی احتجاج کے خلاف وارننگ دی گئی ہے تو دوسری طرف وزیر داخلہ شیخ رشید نے بتایا ہے کہ حکومت ٹی ایل پی کے قائد سعد رضوی کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے تاکہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ختم کروایا جاسکے۔
قومی سلامتی کمیٹی میں وزیر اعظم اور وفاقی وزرا کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر، چئیرمین جوائینٹ چیفس آف اسٹاف اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کے علاوہ آئی ایس آئی ، آئی بی ، ایف آئی اے کے سربراہان اور اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس سے کمیٹی اجلاس کے بارے میں جو اعلامیہ جاری ہؤا ہے، اس میں وہ تمام باتیں شامل ہیں جو وزیر اعظم عمران خان نے اجلاس میں کہیں ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’ریاست پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے لیکن تحریکِ لبیک کے کارکنوں نے دانستہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور اہلکاروں پر تشدد کیا ۔ یہ رویہ قابل قبول نہیں ۔ ریاست کی حکمرانی کو چیلنج کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی‘۔ اس اعلامیہ کے مطابق ریاست آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہ کر مذاکرات کرے گی اور کسی قسم کے غیرآئینی اور بلاجواز مطالبات تسلیم نہیں کرے گی۔ اعلامیہ میں قومی سلامتی کمیٹی کی یہ تشویش بھی سامنے آئی ہے کہ ٹی ایل پی کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کا منفی تاثر گیا ہے۔ بیان کے مطابق’ کمیٹی نے ٹی ایل پی کی طرف سے ناموس رسالت کے غلط اور گمراہ کن استعمال کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس کی وجہ سے فرقہ واریت کو ہوا ملتی ہے اور ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں‘۔
اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت اور وزیر اعظم نے سابقہ کسی بھی حکومت کے مقابلے میں ناموس رسالتﷺ کے تحفظ اور اسلاموفوبیا کے تدارک کے لئے اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح زیادہ کام کیا ہے۔ حکومت نے کامیابی سے ان معاملات کو اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپین یونین اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کیا ۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ رحمت اللعالمین اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد بھی اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو رد کرنا ہے۔ اربوں مسلمان حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس سے محبت کرتے ہیں اور عقیدت رکھتے ہیں تاہم کسی بھی دوسری اسلامی ریاست میں املاک اور عوام کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔
یہ سیاسی مؤقف قومی سلامتی کے ایک فورم کی طرف سے پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان اور حکومت نے دراصل یہ تاثر قوی کرنے کی کوشش کی ہے کہ موجودہ سیاسی حکومت اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہی ہیں۔ اور نہ صرف تحریک لبیک پاکستان کے موجودہ احتجاج اور لاقانونیت کے بارے میں یکساں مؤقف رکھتے ہیں بلکہ عسکری قیادت عمران خان کے سیاسی داؤ پیچ کی’ اونر شپ‘ میں حصہ دار بھی ہے۔ حالانکہ موجودہ حکومت نے اگر کسی بھی شعبہ میں سابقہ سیاسی حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ خدمات سرانجام دی ہیں تو ان کے بارے میں مسلح افواج کے سربراہان اور اعلیٰ عسکری و سول افسران کسی براہ راست رائے کا اظہار نہیں کرسکتے۔ قومی سلامتی کمیٹی کا مینڈیٹ اسے حکومتی اقدامات کا سابقہ حکومتوں سے موازنہ کرنے اور اس پر رائے قائم کرنے کا اختیا رنہیں دیتا۔ فوجی عہدیداروں سمیت تمام سرکاری افسر اور اہلکار اس بات کے پابند ہیں کہ وہ غیر سیاسی طور سے خدمات سرانجام دیں اور سیاسی معاملات پر گفتگو سے پرہیزکریں۔
البتہ وزیر اعظم ہاؤس نے قومی سلامتی کمیٹی کو موجودہ حکومت کا سیاسی پشت پناہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو ملکی آئینی تقاضوں اور زمینی حقائق سے متصادم ہے۔ حکومت نے یہ طریقہ اختیار کرکے نہ صرف ٹی ایل پی کے احتجاج سے نمٹنے کے لئے اپنی حکمت عملی کو ’متفقہ‘ پالیسی بتانے کی کوشش کی ہے بلکہ یہ پیغام بھی سامنے لایا گیا ہے کہ عسکری قیادت حکومت کے سیاسی اقدامات کی تائد و حمایت کرتی ہے۔ اس طرز عمل سے وزیر اعظم ہاؤس نے دراصل اپنی کمزوری اور موجودہ حالات میں درپیش چیلنجز کے بارے میں عسکری قیادت کو شراکت دار بنانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ عسکری قیادت کب تک موجودہ حکومت کے ایسے غلط سیاسی اقدامات کا ساتھ دے سکے گی جن کی وجہ سے ملکی عوام کو شدید مہنگائی کا سامنا ہے اور ٹی ایل پی کے احتجاج سے قطع نظر متعدد چیلنجز درپیش ہیں ۔ بظاہر حکومت کے پاس ان مسائل کا کوئی سیاسی حل موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے اب تحریک لبیک کی لاقانونیت کی آڑ میں قومی سلامتی کمیٹی کے پلیٹ فارم پر عسکری قیادت کے ہمہ گیر تعاون و سرپرستی کا تاثر سامنے لایا گیا ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس کا یہ طریقہ قومی سلامتی کی نزاکتوں کی موجودہ صورت حال میں افسوسناک طرز عمل ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک لبیک نے حرمت رسولﷺ کو غلط طریقے سے استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کیا، فرقہ واریت کو ہوا دی اور عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کمزور کی ۔ تاہم اگر اسی اعلامیہ میں حکومت کی دینی خدمات کے بارے میں فقروں کو پڑھا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت بھی مذہب کی آڑ میں دراصل سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں کرنا چاہتی۔ لوگوں کے جذبات سے کھیلنا موجودہ حکومت کا ویسا ہی مرغوب ہتھکنڈا ہے جس کا الزام ایک کالعدم گروہ پر عائد کیا جارہا ہے۔ حالانکہ قومی سلامتی کے بارے میں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں عالمی فورمز پر حکومت کی دینی خدمات کا بیان اور رحمت اللعالمین اتھارٹی کے قیام جیسے سیاسی فیصلے کی توصیف و تعریف کا کوئی محل نہیں تھا۔ یہ باتیں وزیر اعظم یا ان کے قریبی رفقا کی تقریروں کے حصے ہیں جنہیں کمیٹی اجلاس کی باقاعدہ رپورٹ کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ عمران خان کو صدق دل سے معاملہ کے اس پہلو پر غور کرنا چاہئے کہ کیا وہ واقعی اس طرح کے کمزور ہتھکنڈوں سے لوگوں کو دھوکہ دینے اور گوناں گوں مسائل سے ملک اور اپنی حکومت کو نکالنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں؟
یہ سرکاری اعلامیہ پڑھنے کے بعد اگر زمینی حقائق پر روشنی ڈالی جائے تو تکلیف دہ صورت حال سامنے آتی ہے۔ ملک کی اعلیٰ سیاسی ، عسکری اور سول قیادت ایک اعلیٰ ترین پلیٹ فارم پر ملاقات کرتی ہے لیکن گزشتہ دو ہفتے سے ملک میں انتشار اور بدامنی، خوں ریزی اور ہلڑ بازی کا سبب بننے والے گروہ سے نمٹنے کے لئے کسی ٹھوس اور واضح حکمت عملی کا کوئی اعلان سامنے نہیں آتا بلکہ وزیر داخلہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ وزیر مذہبی امور کے ہمراہ کالعدم تنظیم کے مقید سربراہ کے ساتھ ’پر امن مفاہمت‘ کے کسی فارمولے پر متفق ہونے کی کوشش کریں گے۔ شیخ رشید نے یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ حکومت تو فرانسیسی سفیر کا معاملہ قومی اسمبلی میں لے گئی ہے لیکن اپوزیشن اس کے خلاف ووٹ دے گی۔ گویا نہ صرف ایک غیر قانونی تنظیم کو جائز بنانے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ وزیر داخلہ اس کے غیر قانونی، غیر اخلاقی ، اشتعال انگیز اور صریحاً قومی مفاد کے خلاف مطالبہ کی بالواسطہ توثیق کررہے ہیں۔ تحریک لبیک کے ساتھ حکومت کے تنازعہ کی واحد وجہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے پر اختلاف رائے ہے۔ کیا بہتر نہ ہوتا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں حکومت کی دینی خدمات کا قصیدہ نشر کرنے کی بجائے اس معاملہ پر قومی مؤقف سامنے لایا جاتا کہ کسی غیر ملکی سفیر کے بارے میں کسی گروہ کے احتجاج پر ملک کی اعلیٰ قیادت کیا مؤقف اختیار کررہی ہے؟
تادم تحریر تحریک لبیک کے لانگ مارچ میں شریک لوگوں نے وزیر آباد کے قریب ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور رینجرز کی قیادت میں پولیس نے جہلم پل کو کسی ’فصیل ‘ میں تبدیل کیا ہے۔ بی بی سی نے اپنے رپورٹرز کے حوالے سے جو خبر دی ہے اس کے مطابق ’دریائے جہلم کے پل پر ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پل کی اطراف لگی ہوئی دیواروں کو متعدد جگہوں سے توڑ کر وہاں کنٹینرز کھڑے کئے ہیں۔ خالی کنٹینرز میں مٹی بھردی گئی اور ان کے اردگرد لوہے کے سریے لگا کر انہیں پل کے سریوں کے ساتھ ویلڈ کیا گیا ہے تاکہ انہیں آسانی سے ہٹایا نہ جا سکے۔ دریائے جہلم پل کے دونوں اطراف یہی عمل دہرایا گیا۔ اس کے علاوہ پل کے اوپر ہر 20 فٹ کے فاصلے پر بلاک رکھ کر ان کنٹینرز کو اس میں فکس کر کے اس پر پلستر کیا جا رہا ہے۔ مندرہ سے جہلم تک متعدد پلوں کی دیواروں کو توڑ کر وہاں پر کنٹینرز لگائے جا رہے ہیں۔ لانگ مارچ کے شرکا کو روکنے کے لیے سڑکوں کو توڑ کر 15 سے 20 فٹ تک گہری خندقیں کھودی گئی ہیں۔ یہ خندقیں لاہور سے اسلام آباد کی طرف آتے ہوئے دریائے چناب کے پل سے پہلے وزیرآباد بائی پاس کے قریب کھودی گئی ہیں‘۔
جنگی بنیادوں پر کی جانے والی یہ تیاریاں ایک ایسے گروہ کو روکنے کے لئے کی گئی ہیں ، اطلاعات کے مطابق جس میں زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار لوگ شامل ہیں۔ ایک طرف شرکا کو روکنے کے لئے یہ انتظامات ہیں تو دوسری طرف الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا نے تمام میڈیا اداروں کو بتایا ہے کہ ’تحریکِ لبیک پاکستان کالعدم جماعت ہے جو دہشتگردانہ کارروائیوںمیں ملوث ہے اور ملکی سلامتی اور امن کے خلاف کام کر رہی ہے۔ اس لیے تمام ٹی وی چینلز، ایف ایم ریڈیو سٹیشنز اور کیبل ٹی وی یا آئی پی ٹی وی آپریٹرز اس تنظیم کی کوریج روک دیں‘۔ دریں اثنا ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پر تحریک لیبک کے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی ہے اور اس جماعت کے سوشل میڈیا ونگ کے افراد کے خلاف کارروائیاں عمل میں آئی ہیں۔
گویا حکومت احتجاج اور رائے کے اظہار کو روکنے کے لئے ہر قسم کی اتھارٹی اور ہتھکنڈا اختیار کئے ہوئے ہے۔ لیکن ایک سرکش گروہ کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے لاکھوں شہریوں کو کوئی ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہے بلکہ درپردہ منت سماجت کے ذریعے مفاہمت کا کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کررہی ہے۔ کیا ریاستی حکمرانی کے تحفظ سے متعلق قومی سلامتی کمیٹی کا زوردار بیان اس تصادم کو ٹال سکے گا جس کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام سرکاری ذرائع بروئے کار لائے گئے ہیں؟ حکومت مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے خود کو زیادہ ’مذہب پرست‘ ثابت کرنے کوشش کررہی ہے لیکن وزیر اعظم اور تحریک انصاف کو جاننا چاہئے کہ اس شکست خوردہ طریقے سے لوگوں کی ناراضی دور نہیں کی جاسکتی۔
ٰٰ( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

