لینن نے کہا تھا کہ غربت اگر انقلاب پیدا نہیں کرتی تو جرائم پیدا کرتی ہے۔ پاکستان میں لاقانونیت، انتشار اور افراتفری اپنے عروج پر ہے۔ لسانیت، صوبائیت اور مذہبی جنونیت کے ایٹم بم پھٹنے کے لیے تیار ہیں اور تباہی و بربادی کا ایسا چین ری ایکشن شروع کر سکتے ہیں جو اس ملک کی بنیادوں کو ملیامیٹ کر سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کے بعد پاکستان میں بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف پرتشدد مظاہرے کیے گئے۔ کے ایف سی اور امریکی مصنوعات بیچنے والی دکانوں پر لاٹھیوں، سریوں اور پتھروں سے حملے کیے گئے۔ کے ایف سی کے فرینچائز بند کر دیے گئے اور امکان ہے کہ بہت جلد وہ اپنا بوریا بسترا سمیٹ کر چلے جائیں گے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان بلووں کے پیچھے کوئی سیاسی شعور یا پختہ لائحہ عمل نہیں ہے بلکہ یہ سب مذہبی جنونیت کے سبب کیا گیا ہے۔
غربت اور مفلسی کے مارے عوام تعلیم و شعور سے بھی عاری ہیں۔ ریاست نے ایک مخصوص حکمت عملی کے تحت عوام کی اکثریت کو تعلیم سے محروم رکھا ہے اور باقی افراد کو ایسی تعلیم دی کہ وہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود سوچ بچار کرنے، نتائج پر پہنچنے اور اپنے مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔
سماجی بے ساختہ پن ناخواندہ یا نیم خواندہ طبقے تک محدود نہیں ہے بلکہ نام نہاد اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ بھی اسی بے ترتیبی کا شکار ہے۔ کل میری ملاقات ایک بہت سینیر ڈاکٹر صاحب سے ہوئی جن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انہیں ایسے ڈاکٹر نہیں ملتے جنہوں نے طبی سائنس اور ریسرچ کے شعبوں میں کوئی نمایاں کارکردگی دکھائی ہو۔ بین الاقوامی کانفرنسز میں انڈیا سے بہت سے ڈاکٹرز کو اپنی تحقیقات پیش کرنے کی دعوت دی جاتی ہے لیکن پاکستان سے شاذونادر ہی ایسا ہوتا ہے۔
پاکستانی اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ صرف گاڑیوں اور بنگلوں کے بارے میں سوچتا ہے اور انہی اشیا کے حصول کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔ یہ پڑھا لکھا طبقہ اپنے ہی ملک کو آگ لگانے والے مذہبی جنونیوں سے کسی طور بھی کم نہیں ہے کیونکہ اعلیٰ تعلیم کو معاشرے کی فلاح و بہبود کی بجائے مال و دولت کی ہوس مٹانے کے لیے استعمال کرنا بھی قیمتی مصنوعات کو آگ لگانے کے مترادف ہے۔
اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ پسے ہوئے معاشروں کو سدھارنے کے لیے انقلابات کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن انقلاب کے لیے بھی تعلیم نہیں تو کم سے کم شعور کی ضرورت ضرور ہوتی ہے۔ پاکستانی قوم کسی بھی طرح کا شعور حاصل کرنے کے لیے فی الحال تو بالکل بھی تیار نہیں ہے۔ اور اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ بھی شامل ہے۔ یہ زمین انقلاب کے لیے اس وقت تک بنجر رہے گی جب تک اسے علم و آگہی سے زرخیز نہ کر دیا جائے۔
فیس بک کمینٹ

