ایم اے اردو میں داخلے سے پہلے میں نے ڈاکٹر انوار احمد کو اردو اکادمی ملتان کے ہفت روزہ تنقیدی اجلاسوں میں دیکھا تھا۔ میں اور ناصر بشیر ایمرسن کالج ملتان میں تھرڈ ائیر کی کلاس میں نئے نئے داخل ہوئے تھےاور ان دنوں امروز اور نوائے وقت کے ادبی صفحات میں مضامین اور غزلیں چھپوایا کرتے تھے۔ اردو اکادمی کے اجلاسوں میں ان دنوں کافی رونق ہوا کرتی تھی۔ عرش صدیقی، مرزا ابن حنیف، مبارک مجوکہ، انوار احمد، عبدالرؤف شیخ،محمد امین، اے بی اشرف،خالد سعید، اصغر علی شاہ، ارشد ملتانی، فیاض تحسین، نعیم چودھری، ممتاز اطہر، صلاح الدین حیدر، علمدار حسین بخاری ، سلیم خلجی، اظہر علی اور نجانے کتنے سینئر اور جونئیرادیب اور شاعر ان اجلاسوں کا حصہ ہوا کرتے تھے۔میں جلسے کی آخری نشست پر تقریباً چھپ کر سب کو بولتے دیکھتا اور سنتا تھا۔ ان دنوں ضیائی مارشل لاء کے خلاف بولنے اور لکھنے والوں سے انجانی سے محبت اور اپنائیت محسوس ہوتی تھی سو ڈاکٹر انوار احمد، صلاح الدین حیدر، خالد سعیدخصوصی طور پر دل سے بہت قریب محسوس ہوتے تھے۔ انوار صاحب کے انداز گفتگو میں جو رمزیت اور ان کے افسانوں میں جو مزاحمتی رویہ تھا وہ ہم جیسے طالب علموں کے لیے بہت متاثر کن تھا۔میں ان دنوں خاصا جوشیلانوجوان تھا، فیض کا عاشق ، چے گویرا ایسے انقلابی کو اپنا آئیڈیل ماننے والا اور نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا پر جوش کارکن تھا۔ سو مجھے انوار احمد اور خالد سعید کی شکل میں دو مزاحمتی کردار نظر آئے جو بات کہنے اور کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔
دو سال بعد جب ایم اے اردو میں داخلہ لیا تو انوار صاحب سے براہ راست استفادے کا موقع ملا۔ یونیورسٹی کا پہلا دن بہت خواب آور تھا کہ جن کو ہم سنا اور پڑھا کرتے تھے اب ان سے پڑھنے کا موقع مل رہا تھا۔ بلاشبہ یونیورسٹی کے ا ن دو برسوں میں ڈاکٹر انوار صاحب نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ وہ صرف استاد ہی نہیں تھے بلکہ شخصیت سازی، رویوں کے سدھار ، اندازِ فکر و اظہار غرض ہر حوالے سے معاون و مددگار تھے اور یہ رائے صرف میری نہیں بلکہ میرے طرح کے تقریباً ہر اس طالب علم کی تھی جو ان کے شاگرد رہے۔ ان دو برسوں میں انھیں دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ حق ِ اختلاف اور جرات انکار کا مفہوم جانا اور کبھی کبھار یہ حق ان کے ساتھ بھی استعمال کیا۔ کچھ اپنی کوتاہ اندیشی اور غیر مصلحت پسندی اور زیادہ تر دوسرے لوگوں کی بدنیتی اور غلط بیانی کے سبب اس تعلق میں دوری واقع ہوئی مگراس دوری میں بھی عزت، احترام اور محبت کا تعلق قائم رکھا۔ ایک عجیب سا رشتہ ہے کہ انوار احمد سے مجھے اختلاف کا حق حاصل ہے کیونکہ میں ان سے محبت کرتا ہوں اور اس اختلاف کو اپنا حق بھی سمجھتا ہوں بلکہ سب کے حق اختلاف کو تسلیم کرتا ہوں مگر ان کی ذات اور شخصیت کو تضحیک کا نشانہ بنانے اور ان کی نگاہِ ناز سے مراد پانے والوں کی طنزیہ باتوں کو سخت بے ہودگی ہی خیال کرتا ہوں۔ایم اے کے بعد کا عرصہ کچھ اپنی پریشاں نظری اور کچھ سرمستی میں ہی گزر گیااس دوران وہ ترکی چلے گئے مگر عجیب بات ہے وہاں بھی وہ اپنے "ضدی” طالب علموں کو نہیں بھولے۔ ہر موقع پر میرے اور شوکت قادری کے نام ان کا مشترکہ خط یا کارڈ ضرور ملتا۔
ترکی سے واپسی پر ایک نئے انوار احمد سے تعارف ہوا۔ اپنے طالب علموں کو جوڑنے، شعبہ کو نئی طرز پر استوار کرنے اور تحقیقی اور اشاعتی حوالوں سے نئےمنصوبوں کا ایک خواب ان کی زنبیل میں تھا۔ ان سب کے لیے وہ ہمہ وقت دستیاب تھے مگر ان کی طبعیت میں اضطرابی کیفیت تھی کہ جو کرنا ہے وہ جلد از جلد ہو۔ان دنوں انھیں ایک بار پھر بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، بطور استاد بھی، بطور منتظم بھی اور بطور کولیگ بھی۔اس دور میں بہت سے رویوں کو بھی قریب سے جانا۔ محبت اور خوشامد میں فرق نہ رکھنے کا ہنر جاننے والے، سازشی درباریوں کی طرح انھیں لوگوں سے دور لے جانے والے، اپنے منصوبوں کے لیے دوسروں کے خلاف من چاہی باتیں گھڑنے والے اور خود کو دوسروں کی آنکھ اور کان بن جانے کا فن رکھنے والے بہت سے موقع پرست کردار دیکھے۔ ایسے "فن کارکرداروں "کی ایسی ہاؤ ہو تھی کہ اپنی مردم شناسی کے باوجود ووہ تفریق نہ کر پائے یا شاید وہ شعبہ کے حوالے سے جو کرنا چاہتے تھے وہ مقصد ان کے لیے اتنا اہم تھا کہ ایسے کردار وں کو افسانہ نگار ہونے کے باوجود نہ جان پائے۔ اس دور میں بھی انہیں اپنی تنخواہ کا ایک حصہ اپنے طالب علموں کے لیے خرچ کرتے، ان کی پیشہ ورانہ مشکلات کو دور کرتے اور ان کی زندگیوں کو بہتر کرتے دیکھا۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ میرے لیے انوار احمد محض دو سال کے زمانہ طالب علمی کے ہی استاد نہیں ہیں بلکہ اس سے کہیں آگےوہ میری زندگی میں آج بھی پوری طرح شامل ہیں۔ آج میں خود زندگی کی نصف صدی مکمل کرنے کے قریب ہوں مگر آج بھی زندگی کے اہم فیصلوں میں وہ کہیں نہ کہیں شامل ہوتے ہیں۔
آج سر انوار کا جنم دن ہے۔ مجھ ایسے بے شمارشاگروں کے دستِ دعا ان کی صحت اور تندرستی کے لیےبے اختیار اٹھ جاتے ہیں ۔ سر انوار، بہت سی دعائیں اور محبتیں آپ کے لیے کہ آج جہاں ہیں آپ کی محنت اورمحبت کے طفیل ہیں۔

