وہ یقیناً ایک غیر معمولی دانش اور حساسیت کا حامل انسان تھا۔ اپنی علمی بصیرت،تجزیاتی فکر اور خالص تنقیدی پیرائیہ اظہار ایسی سبھی خوبیوں کا مکمل…
Browsing: ڈاکٹر عامر سہیل
گزشتہ سے پیوستہ بنیادی طور پر خان صاحب Reflexesکے آدمی تھے۔ روہیلہ پٹھان تھے اور پٹھان کی کھوپڑی گھومنے والے محاورے سے نہ صرف آشنا تھے…
گزشتہ سے پیوستہ میرا خیال ہے ملتان میں کتب کی فراہمی کے حوالے سے خان صاحب سے زیادہ فیض رساں شاید ہی کوئی اور شخصیت ہو۔…
گزشتہ سے پیوستہ ایم اے کرنے کے بعد زندگی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں چھوٹی موٹی پرائیویٹ کالج کی نوکری تو ہاتھ لگی…
سچ پوچھیں تومجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ اِن آنکھوں نے اپنے نہایت محترم استاد، بزرگ دوست اور بے تکلف ساتھی لطیف الزماں خاں…
گزشتہ سے پیوستہ مرزا صاحب کے جلال کے کچھ قصے تو ہم نے سن رکھے تھے مثلاً پروفیسر لطیف الزماں خاں اپنی نیم طنزیہ گفتگو کے…
یہ وہ جنت مثال دھرتی ہے جسے سجدہ گاہِ ملائک کہا گیا ہے۔ تب اِس دھرتی کے سینے پر بل کھاتے، شور مچاتے اور کبھی پیغمبرانہ…
ایم اے اردو میں داخلے سے پہلے میں نے ڈاکٹر انوار احمد کو اردو اکادمی ملتان کے ہفت روزہ تنقیدی اجلاسوں میں دیکھا تھا۔ میں اور…
ملتان کی ادبی اور تہذیبی زندگی میں رنگ بھرنے والوں میں ایک نام مشتاق احمد شیدا کا بھی ہے۔ وہ منفرد طرز اسلوب کے حامل ادیب…
ڈاکٹر عامر سہیل کا پہلا تعارف تو استاد اور نقاد کا ہے ۔ ایک روشن خیال قلمکار کہ جس کی دوستی اور رفاقت ہمیں سرشار کرتی…
