ڈاکٹر علی شاذفکالملکھاری

بچوں کا جنسی استحصال ( 1) ۔۔ ڈاکٹر علی شاذف

برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں ہر بیسواں بچہ جنسی استحصال کا شکار ہوتا ہے. غریب ممالک میں اس کی شرح یقیناً کہیں زیادہ ہو گی لیکن اس کی کبھی جانچ پڑتال نہیں کی گئی.
مندرجہ ذیل جنسی سرگرمیاں بچوں کے جنسی استحصال کے ضمرے میں آتی ہیں:
بچوں کی عریاں تصاویر رکھنا.
کسی بچے کو اپنے کپڑے اتارنے یا خودلذتی پر مجبور کرنا.
کسی بچے کے سامنے جنسی عمل کرنا یا اس کی موجودگی میں عریاں فلمیں دیکھنا.
بچوں کی عریاں تصاویر کھینچنا، ڈاؤنلوڈ کرنا، دیکھنا یا شیئر کرنا.
کسی بچے کو ویب کیم کے سامنے جنسی عمل کرنے پر اکسانا.
کسی بچے کو جنسی عمل یا تصاویر دیکھنے سے نہ روکنا.
جنسی عمل کی نیت سے کسی بچے کو کپڑوں میں یا کپڑوں کے بغیر غیرمناسب طور پر چھونا.
کسی بچے کے ساتھ جنسی عمل کرنا.
لڑکے اور لڑکیاں دونوں جنسی استحصال کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن لڑکیوں میں اس کی شرح چھ گنا زیادہ ہے.
عام طور پر بچے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں بات نہیں کرتے. اس کی وجہ یا تو ان کے اندر موجود احساس ندامت ہوتا ہے یا انہیں یہ باور کروا دیا جاتا ہے کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے وہ نارمل ہے، یا پھر بہت “خاص خفیہ عمل” ہے. بچوں کو اس کے عوض رشوت دی جاتی ہے یا دھمکی دی جاتی ہے یا یہ بتایا جاتا ہے کہ کوئی ان کا یقین نہیں کرے گا.
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بچہ اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے کے ساتھ ہمدردی رکھے اور اسے کسی نقصان سے بچانے کے لیے فکرمند ہو.
بچوں میں جنسی استحصال کی علامات یہ ہو سکتی ہیں:
رویے میں تبدیلی: بچے کا بہت غصیلا، تنہائی پسند یا چڑچڑا ہونا، نیند کی کمی یا سوتے ہوئے بستر پر پیشاب کرنا.
زیادتی کرنے والے سے کترانا: بچے کا کسی مخصوص شخص سے ڈرنا یا اسے ناپسند کرنا یا اس کے ساتھ وقت گزارنے سے گریز کرنا.
نامناسب جنسی رویہ: زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کا غیر مناسب طور پر جنسی عمل ظاہر کرنا یا جنسی گالیاں دینا.
طبعی مسائل: بچوں کے جنسی اعضاء پر دکھن ظاہر ہونا، یا ان کا جنسی عمل کے نتیجے میں پھیلنے والی بیماریوں کا شکار ہونا یا حمل کا ہونا.
اسکول میں مسائل: زیادتی کا شکار بچہ اسکول میں پڑھائی میں کمزور ہو سکتا ہے یا اس کے گریڈ گر سکتے ہیں.
نشانیاں بتانا: بچے کا اپنے ساتھ وقوع پزیر ہونے والے عمل کا براہ راست ذکر کیے بغیر علامات کے ذریعے اس کا ظاہر کرنا.
(جاری ہے)
ترجمہ: علی شاذف
ماخذ: این ایچ ایس.

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker