ڈاکٹر علی شاذفکالملکھاری

ڈاکٹر علی شاذف کا کالم : ”ترقی پسند اور نظریاتی“ بھی چلتے پھرتے بم بن گئے

ہم بطور ایک اشتراکی سمجھتے ہیں کہ چالیس سال پہلے جہالت کا جو پودا جنرل محمد ضیاء الحق نے لگایا تھا وہ اب ایک تناور درخت بن چکا ہے. یوں تو ہم سارا الزام یوتھیوں پر دھرتے ہیں، سچ یہ ہے کہ دور حاضر میں ہمارے وطن کی ہر نسل یوتھیا بن چکی ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست نے ایسی نسلوں کو پروان چڑھانے میں خصوصی دلچسپی لی ہے اور بہت اہم کردار ادا کیا ہے. ریاست پاکستان پر قابض لوگوں نے ایسا اس لیے کیا کہ سنجیدہ سیاست، معیشت، معاشرتی علوم اور سائنس کے بارے میں جان کر عام لوگ ان کے لیے خطرناک ہو سکتے تھے.
ضیاءالحق کے وقت میں زیادہ تر ترقی پسند قوتیں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ تھیں یا اس سے ہمدردی رکھتی تھیں. اہل اقتدار نے ان کے بچوں کو اپنا نشانہ بنایا. سرکاری اور نجی اسکولوں میں جھوٹے اور من گھڑت قصے کہانیوں پر مبنی نصابی کتب کا جال بچھا دیا گیا. کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء یونینوں کو ختم کر کے وہاں جمیعت جیسی غنڈہ جماعتوں کے ذریعے فاشزم کو فروغ دیا گیا. سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈہا کو من پسند بیانیوں کے فروغ کے لیے استعمال کیا گیا. والدین اپنے بچوں کو سیاست سے دور رہنے کی تربیت دینے لگے. ان متاثرہ نسلوں پر غور و فکر کے دروازے بند کر دیے گئے. ان کی کھوپڑیوں میں سے دماغوں کو نکال کر ان کی جگہ مذہبی جنونیت اور کھوکھلی حب الوطنی کا بھوسہ بھر دیا گیا. اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ نسلیں ذہنی طور پر اپاہج ہو گئیں، ان میں علم و دانش کے حصول کا عمل رک گیا اور ان کی سوچ کا معیار سطحی اور گھٹیا ہو گیا.
آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس ملک کے سماجی تانے بانے کی دھجیاں بکھر چکی ہیں. جہالت ہر طرف اپنا عریاں رقص پیش کرتی دکھائی دے رہی ہے. ہر شخص بنیاد پرست، انتہا پسند، دہشت گرد اور چلتا پھرتا بم بن چکا ہے. یہ بم کسی بھی وقت کسی بھی گھر، محلے، بازار اور چوراہے یا سوشل میڈیا پر پھٹ سکتا ہے.
حال ہی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گرائی گئی عمران حکومت اور اس کے مخالفین کی جانب سے ایک دوسرے پر شدید تنقید کی جارہی ہے. اس تنقید کا معیار کیا ہے، اس کی مثال مندرجہ ذیل نکات سے ظاہر ہے. یہ تنقید ایک “ترقی پسند” جماعت کی طرف سے سوشل میڈیا پر کی جارہی ہے.
مشہور “نظریاتی” جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی عمران خان کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم کے اہم نکات
عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے.
اس کو اسرائیل سے فنڈنگ ہوتی ہے.
اس کے بچے ایک یہودی کے گھر میں پل رہے ہیں.
اس کی ایک ناجائز بیٹی ہے.
وہ ہم جنس پرست ہے.
اس نے تحریک لبیک کے عاشقوں پر گولیاں چلوائیں.
اس نے گستاخ مذہب آسیہ بی بی کو ملک سے باہر بھیج دیا تاکہ وہ ہمارے قہر سے بچ سکے.
اس کو احادیث اور آیات زبانی یاد نہیں ہیں، شرط لگا لیں.
اس کو نماز پڑھنا نہیں آتی، شرط لگا لیں.
وہ قادیانیوں کو مسلمان کہتا ہے.
وہ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا.
وہ گستاخ ہے.
اسے مارو.
اسے گھسیٹو.
اسے لہو لہان کر دو.
اس کا سر تن سے جدا کردو.
اس کی لاش کو آگ لگا دو.

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker