خوشی اور شادمانی اور دکھ اور غم و اندوہ فطری انسانی جذبات ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ غم نہ ہو تو خوشی کا حاصل ہونا ممکن نہیں ہیں۔ برصغیر میں خوشیوں کے تہوار ہمیشہ سے موجود تھے۔یہاں تک کہ قربانی اور بلی کے تہوار جو شاید کہیں کسی غم سے جڑے ہوتے تھے، انہیں بھی خوشی سے منایا جاتا تھا۔ پھر واقعہ کربلا رونما ہوا۔
روایت ہے کہ برصغیر کے کچھ لوگ کربلا میں نصرت ِحسین کے واسطے گئے تھے۔ وہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے محرم کے خاص ایام میں عزاداری کا آغاز کیا۔ یہ لوگ شاید حسینی برہمن تھے جو "دت” کے سرنیم سے جانے جاتے ہیں۔
دکھوں کو سیلیبریٹ کرنے کی روایت کو ایک نوجوان شاعر فیضان ہاشمی نے کچھ یوں بیان کیا۔
عجیب طرز کی توحید ہے حسین کا غم
کسی بھی درد کو لے کر شریک ہو جاؤ
ہمارے بچپنے میں ایام محرم شروع ہوتے ہی چارپائیاں الٹ دی جاتی تھیں۔ موسیقی سننا اور ہر خوشی دینے والا عمل روک دیا جاتا تھا، گریبان کھول دیے جاتے تھے، فاقہ کیا جاتا تھا اور سروں میں خاک ڈالی جاتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے باتیں کرنا چھوڑ دیتے تھے، ہنسنا ہنسانا برا سمجھا جاتا تھا اور خوب گریہ کیا جاتا تھا۔ پورے برصغیر میں ہر مذہب و فرقہ کے لوگ مل کر غم مناتے تھے۔ مجالس میں مصائب کی روایات بیان کی جاتی تھیں، مرثیے گائے جاتے تھے، ماتم برپا ہوتا تھا اور نوحے پڑھے جاتے تھے۔
دس محرم الحرام کا دن مذہبی نہیں بلکہ ایک ثقافتی تہوار تھا۔ اس تہوار پر کسی مخصوص مذہب کے پیروکاروں نے اپنی مہر ثبت نہیں کی تھی۔ پھر وقت نے کروٹ بدلی اور اس تہوار کو کسی کی نظر لگ گئی۔ مذہبی لوگوں نے اس تہوار کو ایک خاص فرقے سے جوڑ دیا۔ذاکروں کی روایات پر سوال اٹھنا شروع ہو گئے۔ ماتم کی حدیں مقرر ہو گئیں۔ تعزیہ اور ذوالجناح پر اعتراضات ہونے لگے۔ جلوس کے روٹوں پر جھگڑے پیدا کیے جانے لگے۔عزاداری کی مخالفت شروع کر دی گئی ۔ یہاں تک کہ اس پر خونریزی شروع ہو گئی۔ فرقوں کے اندر فرقے پیدا کر دیے گئے۔ غرض یہ کہ دکھ کے خالص انسانی جذبات سے جڑے اس واحد ثقافتی اور سماجی تہوار کو نفرت سے جوڑ دیا گیا۔
آج میں اور مجھ جیسے ہزاروں لوگ مجلسوں اور محرم کے جلوسوں میں نہیں جاتے۔ یہ کیسا تہوار ہے کہ جس کے رستے میں سکیورٹی کے نام پر رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں اور پولیس کے دستے تعینات کیے جاتے ہیں۔ ثقافتی تہوار انسانوں کو اکٹھا کرتے ہیں، انہیں تتر بتر نہیں کرتے۔ محرم کا تہوار عَملاً ختم ہو چکا ہے۔آج جو منایا جاتا ہے یہ نری فرقہ واریت ہے اور نفرت آمیز مذہبیت ہے جس سے ہم بیزار ہیں۔

