پاکستان کی سیاست سے نظریات ناپید ہو چکے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں پاکستان کسی سیاسی نظریے نہیں بلکہ مذہب کے نام پر وجود میں آیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد مغربی پاکستان میں ہر سیاسی جماعت کی سیاست مذہب یا اخلاقیات کے گرد گردش کرتی رہی۔ پاکستان کی مذہبی سیاست نے نام نہاد سیکیولر پڑوسی ملک کو بھی ہندووتا کا ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا اور آج وہاں کئی سالوں سے انتہاپسند ہندو نریندر مودی کی حکومت ہے جو دنیا بھر میں گجرات کے قصائی کے نام سے مشہور ہیں۔
ضیاءالحق ایک فوجی آمر تھے اور انہوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے مذہب کو استعمال کیا۔ ان کے دوراقتدار میں پاکستان کا روایتی سیاسی اور سماجی کلچر مکمل طور پر تبدیل ہو گیا۔ عمران خان نے پچھلی دہائی میں مذہب اور اخلاقیات کے نام پر اپنی سیاست چمکائی اور ریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے کا نعرہ لگایا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انہیں پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے نعوذبااللہ صادق اور امین کی سند بھی عطا کر دی۔ یوں وہ پاکستان کے پہلے سرٹیفائیڈ صادق اور امین بن گئے۔ ان کا اقتدار گیا تو ان کی جماعت کے بڑے رہنماؤں کی اکثریت پر ان کی مخالف فوجی اشرافیہ نے شدید دباؤ ڈال کر ان سے الگ ہونے پر مجبور کر دیا۔ ہم نے دیکھا کہ ان رہنماؤں کو جبری طور پر اٹھا لیا جاتا اور پھر یہ لوگ پریس کانفرنس میں عمران خان کے خلاف بیانات دیتے۔ یہ سلسلہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے بعد شدت اختیار کر گیا جن میں عمران خان کے اکسانے پر ان کی جماعت کے کارکنوں نے اہم فوجی دفاتر اور تنصیبات کو نشانہ بنایا اور توڑ پھوڑ کی۔
حال ہی میں سیالکوٹ سے تحریک انصاف کے اہم رہنما عثمان ڈار کو ایجینسیوں نے اٹھا لیا۔ عثمان ڈار عمران کی کچن کابینہ کا حصہ تھے لیکن رہا ہونے کے بعد انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنی جماعت کے رہنما پر سنگین الزامات عائد کیے، 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی اور فوج کی حمایت کا اعلان کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ سب انہوں نے گن پوائنٹ پر کیا۔
عمران خان نے اپنی سیاست میں بےشمار یوٹرن لیے ہیں یعنی صاف جھوٹ بولے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ "صادق” سیاستدان خود اور ان کے حامی ان یوٹرنز پر فخر بھی کرتے ہیں یعنی جھوٹ کی سیاست کو فروغ دینے پر کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہ سیاست میں اخلاقی گراوٹ کی بدترین مثال ہے جس کا مظاہرہ پی ٹی آئی نے کیا ہے جو خود کو اخلاقیات کا چیمپین سمجھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جماعت اخلاقیات کو صرف اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے اور دراصل نظریات ہی نہیں بلکہ اخلاقیات سے بھی عاری ہے۔ اپنی جماعت کے رہنماؤں کے جبری یوٹرنز پر عمران کا موقف یہ ہے کہ یہ رہنما وقتی طور پر ان سے الگ ہوئے ہیں اور حالات بہتر ہونے پر جماعت میں واپس آ جائیں گے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایک نظریات کی سیاست کرنے والا کارکن اور رہنما ہی جبر کا مقابلہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ غیرنظریاتی سیاست سے پاکستان کی ان فوجی اور غیرفوجی سرمایہ دار قوتوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا جو اس خطہ زمین کے ذرائع پیداوار کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ جھوٹی اخلاقیات اور مذہب کی سیاست دراصل اشرافیہ کی بنیادوں کو مضبوط کر رہی ہے۔ پاکستان کے غریب محنت کش جو مہنگائی اور بےروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں مذہب اور اخلاقیات کے نام پر ہونے والی اس غیراخلاقی سیاست کو مسترد کر دیں اور سوشلسٹ نظریات کو اختیار کر لیں تو دنوں میں سرمایہ دار مافیا کا قلع قمع ہو جائے۔ سوشلسٹ نظریات ہی محنت کشوں کے استحصال کا خاتمہ کر کے پاکستان کو سرمایہ داروں کے شکنجے سے آزاد کر سکتے ہیں۔ سوشلزم کا مطلب محنت کشوں کے لیے روٹی، کپڑا، مکان، پانی، بجلی، تعلیم، صحت اور تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے جن پر تمام انسانوں کا برابر کا حق ہے۔

