ڈاکٹر انوار احمدسرائیکی وسیبکالملکھاری

اسد ملتانی اور ابن صفی کے حوالے سے مظہر کلیم کے ساتھ دو ملاقاتوں کا احوال ۔۔ ڈاکٹر انوار احمد

ملتان کے سینئر ناول نگار اور براڈ کاسٹرمظہر کلیم پر کوئی بات کرنے سے پہلے ہمیں اُن کے خانوادے کے ایک بزرگ اسد ملتانی کا ذکر کرنا چاہیے جو 31  دسمبر 1902ءکو ملتان میں پیدا ہوئے اور پھر 17 ستمبر 1959ء میں اُن کی وفات ہوئی۔ اسد ملتانی کی 4  خصوصیات ایسی ہیں جن کے سبب انہیں اہم ترین فرزندانِ ملتان میں شمار کیا جاتا ہے۔
1 ۔ اُن کی زیادہ تر شاعری علامہ اقبال کے رنگ میں ہے اور ایک خاص وقت میں مسلمانانِ برصغیر کی اُن امنگوں اور خوابوں سے منسلک تھی جو قیامِ پاکستان پر منتج ہوئے۔
2 ۔ وہ 1929 ءمیں پنجاب سیکرٹریٹ کے ساتھ وابستہ ہوگئے ۔ اس حیثیت میں اُنہیں آہستہ آہستہ تحریکِ پاکستان کے بعض زعماءکو بعض ’حساس کاغذات‘ کے حوالے سے باخبر کرنے کا موقع بھی ملا۔ قائد اعظم سے اُن کی مراسلت اور رابطے کے شواہد بھی ہیں۔
3 ۔ انہوں نے ملتان سے ایک اخبار ’ ’الشمس “نکالا اور پریس بھی قائم کیا۔
4 ۔ انہوں نے پاکستان کے قیام سے پہلے بانیِ پاکستان کو  اس بات پر قائل کرنے کی بھی کوشش کی کہ ملتان نئی مملکت کے مغربی بازو کے قلب میں واقع ہے اس لئے اسے دارالحکومت بنایا جائے۔
ادھرملتان یونیورسٹی جب 1975ءمیں قائم ہوئی تو سید افتخار حسین شاہ صدر ِ شعبہ اُردو مقرر ہوئے۔ اُنہیں اسد ملتانی سے بے پناہ عقیدت اور محبت تھی۔ اس لئے انہوں نے شعبے میں داخل ہونے والی پہلی کلاس کے ایک طالب علم مولانا عبدالباقی کو اسد ملتانی کی ادبی خدمات پر مقالہ لکھنے کےلئے کہا(اس کلاس میں فاروق مشہدی،شگفتہ حسین اورعلمدار حسین بخاری بھی تھے)۔ اس طالب علم نے کافی محنت سے تحقیقی مواد جمع کیا اور اس سلسلے میں مرحوم کی صاحبزادی سے بہت سا موادعطا کیا جو جناب ِ مظہر کلیم کی اہلیہ تھیں۔ مگر مقالے کی تکمیل سے پہلے میں نے عبدالباقی کو تھوڑا حواس باختہ پایا ۔ معلوم ہوا کہ جناب ِ اسد ملتانی کی دوسری شادی کے حوالے سے پہلی بیگم کے بچے جو مشکلات برداشت کررہے ہیں اُس کے تحت عبدالباقی کو سختی سے یہ کہا گیا کہ آپ نے اپنے مقالے میں اسد ملتانی کی دوسری شادی کا ذکر نہیں کرنا۔ یہ پہلا موقع تھا جب میں عبدالباقی کی سفارش کےلئے جناب ِ مظہر کلیم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اُن کی شہرت ایک قلمکار کی بھی تھی اور ہم جیسے عام قارئین کےلئے ایک آنہ (جو بعد میں چار آنے ہوگئی)لائبریری کے مالک کی بھی تھی۔ میرا ننھیال چونکہ پاک دروازے میں تھا اس لئے نواں شہر سے پاک دروازہ جانا زمانہ طالب علمی سے میرے معمولات کا حصہ رہا۔ اس لئے میں النگ پر قائم تمام بُک سٹالوں اور آنہ لائبریریوں سے واقف تھا۔ بہرطور میں نے مظہر کلیم سے درخواست کی کہ وہ آنے والے محققین کےلئے ہمارے طالب علموں کے اوراق ِ تحقیق پر سنسر شپ عائد نہ کریں۔ جو احباب مجھ سے واقف ہیں وہ میرے طولِ کلام اور لچھے دار باتو ں سے بخوبی واقف ہیں مگر میں ساری کوشش کے باوجود جناب ِ مظہر کلیم کی آہنی پیشانی پر پڑے ہوئے بَل دور نہ کرسکا ۔ جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ شاید پریس اور املاک کے سلسلے میں وارثوں کے معاملے میں مقدمہ بازی ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے کہ یونیورسٹی کے کسی مقالے کے کسی بھی حصے پر جناب ِ اسد ملتانی کی دوسری شادی کا اندراج ایک فریق کو قابل ِ قبول نہ تھا۔
مظہر کلیم سے میرا دوسرا تعارف تب ہوا، جب معلوم ہوا کہ عمران سیریز کی بہت سی کتابیں ملتان سے اُن کے نام سے بھی چھپ رہی ہیں۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں اسرار احمد (ابن ِ صفی) کی خلّاتی اور اسلوب کا نو عمری سے ہی شیدائی تھا ۔ اس لئے اُن کی عمران سیریز اور کرنل فریدی اور حمید سیریز کا شاید ہی کوئی ناول ہوگا جو میں نے آنہ لائبریریوں سے لے کر نہ پڑھا ہوگا۔ اس لئے میں بخوبی جانتا تھا کہ ابن ِ صفی آخر آخر میں اِبّن صفی، این صفی یا بن صفی کے ناموں سے لکھنے والوں کے وضع کردہ کرداروں پر ہاتھ صاف کرنے والوں سے کتنے نالاں تھے۔ چنانچہ میری مظہرکلیم سے دوسری اہم ملاقات ریڈیو سٹیشن ملتان بعض مشترک دوستوں کی وساطت سے ہوئی جس میں میں نے اُنہیں قائل کرنا چاہا کہ اُن کے اپنے ذہن کی ز رخیزی اور طباعی کا تقاضا ہے کہ وہ اوریجنل ناول تخلیق کریں ، مگرابن ِ صفی کے بعض شیدائی پروڈیوسروں کا کہنا یہ تھا کہ اُن کی وفات کے بعد اگر ملتان سے کوئی انتھک مصنف اس خلا کوپُر کرتا ہے تو ہمیں اُس پر معترض نہیں ہونا چاہیے ، کہ کوئی ملتان میں بیٹھا شخص کچھ نشئی ہوجانے والے قارئین کی تشنگی کا سامان فراہم کررہا ہے۔ اسی طرح اُن کے چند مداحوں کا کہنا یہ تھا کہ انہوں نے اپنے آپ کو اس وراثت کا اہل اس طرح ثابت کیا ہے کہ وہ نئی سائنسی ایجادات کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں اور اُن سے معلومات سے آراستہ ہوکر جاسوسوں کی دُنیا کی کشمکش کو سلیقے سے بڑھاتے ہیں۔
اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ مظہر کلیم مرحوم کے صاحبزادے بھی صاحبِ قلم ہیں اور اُن سے محبت کرنے والے اُن کی اشاعتی اور فکری سرگرمیوں کو فروغ دینے کا ایک پروگرام رکھتے ہیں۔ میرے دل میں اُن کے ایسے عزائم کےلئے بہت دعائیں ہیں ۔ خدا کرے اُن کا صاحبزادہ اُن کے کاموں کو اپنی بہتر تخلیقی اور فکری سرگرمیوں سے آگے بڑھا سکے۔ وگرنہ یہ شہر ایسا شہر ہے کہ یہ گدی نشینوں کی پذیرائی اس لئے کرتا ہے کہ اُن کے بزرگوں کے مزارات کے ساتھ وقف املاک ہیں یا زائرین باقاعدگی سے نذرانے پیش کرتے رہتے ہیں۔ تاہم ماضی قریب میں میں نے علامہ عتیق فکری کی پہلی برسی کو عرس کے طور پر منانے کے خواہاں ان کے بیٹے عزت بیگ کو دل گرفتہ ہوتے دیکھا تھا جب ٹاﺅن ہال کے سناٹے میں اُنہیں دلاسہ دینے والے ہم تین چار لوگ ہی تھے ،حالانکہ ان کے صاحبزادے سے سینکڑوں لوگوں نے شرکت کا وعدہ کیا تھا۔ سو مظہر کلیم کا بیٹا اگر کوئی مقام پائے گا تو اپنے قلم اور ذہن سے پائے گا۔ان کے لئے بہت دعائیں

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker