ادبڈاکٹر انوار احمدسرائیکی وسیبلکھاری

ڈاکٹر طاہر تونسوی : ہم سفر بگولوں کا، اور خود بھی بگولہ ۔۔ ڈاکٹر انوار احمد

نئے سال کی آمد پربارہ بجے رات سے ہی میرے بچے، دوست اور شاگرد تہنیتی پیغام بھیج رہے تھے اور میں وقفے وقفے سے اپنے موبائل میں جھانک رہا تھا،تب ایک پیغام پڑھ کے دل مٹھی میں آگیا،ان کے صاحبزادے،انگریزی کے استاد عامر حفیط نے اپنے والد اور ہم میں سے سب سے زیادہ زندہ اور فعال شخصیت ڈاکٹر طاہر تونسوی کی وفات کی اطلاع دی تھی۔ان کی علالت ڈیڑھ دو برس سے انہیں خانہ نشیں بنا رہی تھی، اس دوران تین چار مرتبہ ہمارا فون پر رابطہ ہوا،ایک جب فرخ درانی پر لکھتے ہوئے مجھے ان کے بھائی عزیز جاوید(مدیر آرگس )کے بارے میں کچھ معلومات کی ضرورت تھی،تو میں نے محسوس کیا کہ پہلی مرتبہ ان کا حافظہ ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ دوسری مرتبہ میں لاہور سے ہو آیا تھا اور ڈاکٹر سلیم اختر کا ایک پیغام انہیں پہنچانا چاہتا تھا مگر جونہی میں نے کہا کہ میں عیادت کے لئے آنا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا کہ آپ نے فون پر پوچھ لیا،عیادت ہو گئی اب کیا عیادت کیجئے گا؟ میں نے اس جواب کو ان کی کفایت شعار طبیعت کے تسلسل میں دیکھا،ایک مرتبہ ان کا فون آیا وہ اپنی کتابیں فروخت کرنے کے خواہاں تھے،میں نے انہیں یاد دلایا کہ بہت سے احباب کی کتب ان کے وسیلے سے جھنڈیر لائبریری میں منتقل ہوئی ہیں،مگر انہوں نے کہا کہ اب ان کے حالات بدل گئے ہیں۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ حفیظ الرحمن طاہر تونسوی کو میں نے پہلی مرتبہ 1968ءمیں دیکھا تھا جب میں ایمرسن کالج ملتان میں ایم اے اُردو سال اول کا طالب علم تھا ۔ ہماری کلاسوں کا الحاق پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ تھا ۔ اس لئے پنجاب یونیورسٹی اور لاہور ہم بے توفیق ملتانیوں کےلئے ایک دُور دراز خوش رنگ جزیرہ تھا جہاں پہنچنے کےلئے اضافی مالی وسائل کی ضرورت تھی ۔ بہرطور میں نے دیکھا کہ اُس کے آتے ہی تنقید کے ہمارے استاد ڈاکٹر سلیم اختر پر ایک طرح سے رِقت طاری ہوگئی ، وہ بڑے تپاک سے اُسے ملے اور پھر ہم سب سے تعارف کرایا کہ یہ طاہر تونسوی ہیں جو اورینٹیل کالج لاہور میں ایم اے فائنل کے طالب علم ہیں ۔ یہ اگر چاہیں تو اپنے استادوں سے آپ کےلئے کوئی نہ کوئی’ گیس ‘بھی لا سکتے ہیں۔ اس کے چند ماہ بعد طاہر تونسوی کو میں نے دیکھا اُس نے بابا ہوٹل اور خان کیفے ٹیریا میں بیٹھے ہوئے ملتان کے شاعروں پر ایک سراسیمگی اور سرشاری طاری کردی تھی اور یہ کہا تھا کہ میں ایم اے کا تھیسس ، ملتان میں اُردو شاعری کے عنوان سے لکھ رہا ہوں ، ہر شاعر جو تاریخِ ادب میں زندہ رہناچاہتا ہے اپنے حالات ِ زندگی اور اپنے کلام کا نمونہ مجھے تین دن کے اندر دے دے ۔ تب میں نے دیکھا کہ بہت سارے شاعر کچھ اور لوگوں سے پوچھتے پھر رہے تھے کہ اُن کے کلام کی خصوصیات کیا ہیں؟۔ گویا امجد کندیانی (یحیی امجد ) اور سہیل احمد خان (سہیل بزمی) کے بعد ہم لوگوں کےلئے طاہر تونسوی ایک نیم اساطیری کردار بن گیا کہ ہم اورینٹیل کالج کے جن استادوں کی کتابیں پڑھتے تھے طاہر تونسوی بے تکلفی سے اُن کی باتیں کرتے تھے بلکہ اُن کے باہمی تعلقات پر بھی روشنی ڈالتے تھے۔ طاہر کا یہ تھیسس بعد میں شائع ہوا اور ملتان میں اُردو شاعری کی تاریخ پر حقیقت میں حوالے کی بنیادی کتاب بن گیا۔ یہ اور بات کہ جب اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا اور نیشنل سنٹر ملتان میں غالباً اعزاز احمد آذر نے اس کی تعارفی تقریب کرائی جس کی صدارت عرش صدیقی نے کی، جو تب ہماری یونیورسٹی کے رجسٹرار تھے۔ اور میں نے حسبِ عادت’ محققانہ کمینگی ‘سے کام لے کر پہلے اور دوسرے ایڈیشن میں فرق پیدا کرنے والی اُن کی عملی ذہانت کی طرف کچھ اشارے کئے ۔
ڈاکٹراسلم انصاری کے بعد ڈاکٹرطاہر تونسوی دوسرے شخص تھے جن کی لاہور میں فتوحات کا ابتدائی سلسلہ حسب ِ منشا جاری نہ رہا۔ دونوں کی خواہش اورینٹیل کالج لاہور میں پڑھانے کی تھی ، مگر اسلم انصاری وہاں اول نہ آسکے اور طاہر تونسوی درجہ اول میں ایم اے نہ پاسکے، تاہم دونوں نے اس وقتی رکاوٹ کو اپنی علمی لگن سے پار کیا ۔طاہر تونسوی نے بھی پی ایچ ڈی کیا اور اس طرح یونیورسٹیوں سے وابستگی کے حوالے سے اُن کا راستہ ہموار ہوا،طاہر تونسوی نے میری طرح ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا ۔ وہ زکریا یونیورسٹی ملتان سے بھی باقاعدہ وابستہ ہوئے اور ہم دونوں جوگورنمنٹ ایمرسن کالج میں 1975ءمیں رفیقِ کار تھے ۔ ایک مرتبہ پھر زکریا یونیورسٹی کے شعبہ اُردو میں یکجا ہوئے ۔ تاہم اُن کی مضطرب طبیعت کسی ایک جگہ مستقل رہنا پسند نہیں کرتی تھی ۔ وہ لیکچرار سے براہ راست کمشن کے ذریعے ایسوسی ایٹ پروفیسر /پرنسپل کی پوسٹ کےلئے منتخب ہوئے ۔ اتفاق سے کمشن میں اُن کے کیس کے ریفری ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا اور ڈاکٹر اے بی اشرف تھے۔ اُس کے بعد کالج سروس میں کوئی قابل ِ ذکر انتظامی عہدہ نہیں جس پر وہ فائز نہ ہوئے ہوں۔ پرنسپل، ڈائریکٹر ، چیئرمین بورڈ اور پھر ریٹائر ہونے کے بعد وہ سرگودھا یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد سے میرے جاپان جانے کے بعد اس درس گاہ میں صدر شعبہ اور ڈین رہے۔ اسی زمانے میں منو بھائی نے مجھے کہا کہ طاہر تونسوی کہتا ہے کہ اُس کی تنخواہ سوا لاکھ روپے ہے ۔ میں نے کہا منو بھائی !میں نے بھی یہ تنخواہ ریٹائر ہونے کے بعد پہلی مرتبہ دیکھی ہے۔ تب منو بھائی نے قہقہہ لگا کے کہا :اب سمجھ میں آیا کہ مرا ہواہا تھی سوا لاکھ کا کیوں ہوتا ہے ؟۔ ریڈیو سٹیشن ملتان پر بھی سرائیکی اور اُردو کے سلسلے میں میری اور اصغر ندیم سید کی طاہر تونسوی کے ساتھ موافقت اور مسابقت رہی ۔ اسی طرح چھوٹی موٹی چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ بھی رہا ۔
ڈاکٹر طاہر تونسوی ہمارے خطے میں بے حد متحرک زرخیز اور خوبصورت آدمی تھے، مگر اُن کے تضادات بھی بڑے بے ساختہ ہوتے تھے، اُس کے اضطراب میں کہیں ٹھہراﺅ نہیں تھا، اُن کی پسندیدگیوں میں کہیں پڑاﺅ نہیں تھا مگر عرش صدیقی اور سلیم اختر سے اُس نے سچ مچ جی بھر کے محبت کی اور جب ڈاکٹرسلیم اختر کے خلاف اخبارات اور جرائد میں بہت تکلیف دہ باتیں لکھی گئیں تو طاہر، سلیم اختر کے لیے ڈھال بن گئے، میرے خیال میں طاہر تونسوی میں مامتا کے بے پناہ جذبات تھے اور وہ اپنے بڑوں کے بھی سرپرست بنتے تھے تو بعض لوگ چڑنا شروع کر دیتے حالانکہ یہ اُس کی شخصیت کا ایک بہت بڑا وصف تھا، مجھے یاد ہے کہ1991ء میں زکریا یونیورسٹی کی سینٹ کی میٹنگ ہوئی گورنر میاں اظہر صدارت کر رہے تھے کہ جماعت ِ اسلامی سے متاثر میرے کچھ رفقاء(علی اصغر سلیمی، مجاہد رفیق) نے میرے بارے میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا جس میں اخبار کی خبر اور ایک سیمینار کی تصویر تھی، جس میں مَیں ایک مضمون پڑھ رہا تھا، سیمینارکا موضوع تھا ’ جنوبی پنجاب کے مسائل ‘ اور صدارت کر رہی تھیں بینظیر بھٹو جو وزارتِ عظمیٰ سے محروم ہوکر معتوب ہوچکی تھیں اور اسی کی بنیاد پر مذکورہ احباب نے مجھے یونیورسٹی کی نوکری سے نکالنے کا مطالبہ کیا تو اُس وقت ڈاکٹر طاہر تونسوی اور فرخندہ نواز میرے دفاع میں اُٹھے اور زور دار طریقے سے میری وکالت کی، جس پر گورنر کو کہنا پڑا کہ اختلافِ رائے کے حق کا احترام کرنا چاہیے کسی سیاسی شخصیت کی صدارت میں ہونے والے سیمینار میں شرکت کوئی جرم نہیں۔ حالانکہ بعض معاملات میں طاہر تونسوی کو میرا حریف خیال کیا جاتا ہے بلکہ سلیم اختر اور عرش صدیقی کے حوالے سے تو میں اُسے اپنا باقاعدہ رقیب بھی قرار دیتا ہوں، مگر میرے لیے طاہر کی شخصیت کا یہ روپ یادگار تھا اور یہیں سے میری سمجھ میں آیا کہ اُس نے سلیم اختر صاحب کا دفاع کرتے ہوئے بہت سے تیروں اور پتھروں کا رُخ اپنی جانب کیوں کر لیا؟ یہی نہیں اُستاد شاگرد کی جوڑی جتنی مشہور ہوئی ہے میرے خیال میں ماضی قریب میں بھی ایسی مثال نہیں ملتی، دونوں نے مشترکہ طور پر کئی سفر کیے، بھارت گئے حتیٰ کہ عمرہ بھی ایک دوسرے کا ’محرم‘ بن کر ادا کیا۔
ڈاکٹرسلیم اختر اور ڈاکٹر وزیر آغا کے مابین جومناقشہ وجود میں آیا بظاہر وہ بہت سادگی سے اور شاید معمول کے انداز میں تشکیل پایا۔ہوا یہ تھا کہ ڈاکٹر سلیم اختر کے پی ایچ ڈی کے مقالے کے ممتحن ڈاکٹر وزیر آغا تھے سلیم صاحب کا تو خیال ہے کہ اُن کی جانچ رپورٹ میں بدنیتی شامل ہے جبکہ میں اپنے تجربے کی بنیاد پر خیال کرتا ہوں کہ آغا صاحب اپنے علاوہ کسی کو بھی صاحب الرائے ہونے کا حق مشکل سے دیتے تھے ،بہر طور ایک نقاد، عالم اور پھر ممتحن ہونے کے ناطے یہ اُن کا استحقاق تھا،سو اُنہوں نے غالباً سلیم اختر صاحب کے ایک باب اور کچھ اجزاءکو فالتو قرار دیا اور رپورٹ میں لکھا کہ مقالے کی اشاعت کے وقت اِسے خارج یا تبدیل کیا جائے۔ ’عورت جنس اور جذبات‘ کے مترجم اور مؤ لف خود کافی جذباتی تھے، اُن کا خیال تھا کہ ’اوراق‘ میں لکھنے یا آغا صاحب کا احترام کرنے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی، پھر آغا صاحب کا ایک باقاعدہ گروپ بھی ہے اور عموماً گروپ تشکیل دینے والے ہمہ وقت با اُصول یا منصف نہیں رہتے، ڈاکٹر سلیم اختر نے ’اُردو ادب کی مختصر ترین تاریخ ‘کے اگلے ایڈیشن میں جوابی اقدام کے طور پر آغا صاحب کے بارے میں اپنی رائے میں تخفیف یا ترمیم بآوازِ بلند کی اور پھر ایک گھمسان کا رن پڑا جو ادیبوں کی سماجی توقیر کو گھٹانے کا موجب بنا اور یہ سلسلہ بڑے دل آزار اور تکلیف دہ مراحل سے گزرا، ڈاکٹر سلیم اختر نے ایک دو مرتبہ شکوہ بھی کیا کہ تم سمیت میرے بہت سے شاگرد مردود نکلے ہیں، ایک جواں مرد طاہر تونسوی ہے جس نے میرا دل موہ لیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اِس موضوع پر صفائیاں دینا مناسب نہیں جو حقیقت ہے وہ یہی ہے۔ ڈاکٹرسلیم اختر نے جب عطاءالحق قاسمی کے
جریدے’معاصر‘ میں اپنی یادداشتیں لکھنی شروع کیں،تو مجھے احساس ہوا کہ ملتان سے جانے والے ہر ’لاہوری ‘کی طرح انہیں بھی فکر ہے کہ اگر انہوں نے قیامِ ملتان کی یادوں کو اہمیت دی،توپنجاب کی ادبی ٹکسال میں ان کی وقعت کم ہو جائے گی،تاہم انہوں نے اپنے شاگردِ باوفا طاہر تونسوی کو فراموش نہیں کیا۔
مخالف تو نہ جانے عرش صدیقی جیسے روشن خیال اور لبرل شخص کو کیا کیا القاب دیتے تھے۔ مگر وہ خود اخلاقی نظم و ضبط کے بے حد قائل تھے۔ میاں بیوی کے علاوہ کسی کی بھی جنسی قربت کے جارحانہ انداز میں مخالف تھے، میں ان کے غصے کا رخ امیروں کی جانب موڑنے کے لئے کہتا تھا۔ یہ سب خرمستیاں امیروں کی ہیں، آپ جانتے ہیں غریبوں کے تواعضائے رئیسہ ہی نہیں ہوتے، چنانچہ اس حوالے سے وہ ’ مجھ غریب‘ اور کفایت شعار ڈاکٹر طاہر تونسوی سے کبھی ناراض نہ ہوئے۔ البتہ کبھی کبھار ہمارے ایک استادسے بدگمان ہو جاتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اپنی محبت میں طاہر تونسوی کو ’چکنم‘کی حالت میں ڈال دیا تھا،ہم دونوں عرش صدیقی کی گاڑی میں تھے، میں نے طاہر کو چھیڑا کہ آج کل ایک خاتون سے تمہاری شادی کے عزائم ہر چینل سے نشر ہو رہے ہیں،طاہر کے جواب دینے سے پہلے عرش صاحب نے نہایت اٹل محبت سے کہا، ’طاہر کو اب شادی نہیں کرنی چاہیے، طاہر نے رونی صورت بنا کر پوچھا’کیوں؟‘ عرش صاحب نے ’بڑی محبت اور ہمدردی سے کہا’پہلی بیوی سے علیحدگی کو ایک عرصہ ہو گیا،اب تمہیں شادی شدہ زندگی کی مشق نہیں رہی ہو گی ‘،اب طاہر کی جان عذاب میں تھی کہ اگر کہے کہ اس کی مشق برقرار ہے،تو عرش صاحب یقیناً اسے’ بدکرداری‘ کی بنیاد پر گاڑی سے نیچے اُتار دیں گے جب کہ خاموش رہنے کی صورت میں وہ اپنی بے توفیقی پر مزید مہرِ تصدیق ثبت کرائے ۔ تاہم اس نے دوسری صورت کو ہی ترجیح دی۔
میرے پاس نجی یادوں کا ایسا بہت بڑا خزانہ ہے مگر حقیقت میں ان کی کتب ان کی علمیت اور فکری اضطراب کی مظہر ہیں،ڈاکٹر مہر عبدالحق اور ڈاکٹر وحید قریشی بھی ان پر بہت مہربان رہے،بلکہ طاہر نے مجھے خود بتایا کہ ڈاکٹر وحید قریشی کافی بدخط تھے،اس لئے وہ اپنے شاگردِ عزیز طاہر تونسوی سے اپنے جملہ معاصرین کو خط لکھواتے تھے،جب وحید قریشی مکتوب پر اپنے دستخط کر دیتے تو طاہر ایک سطر کا اضافہ کرتے’ ڈاکٹر وحید قریشی کا ایک ادنیٰ شاگرد طاہر تونسوی سلام عرض کرتا ہے ، وہ خود بتاتے تھے کہ اسی سبب جب میں مسعودحسن رضوی ادیب پر ڈاکٹریٹ کا مواد لینے بھارت میں گیا تو بہت سے اہل علم میرے نام سے بخوبی واقف تھے

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker