تجزیےشاہد راحیل خانلکھاری

سول بالا دستی کا عوامی خواب پھر چکنا چور ۔۔ شاہد راحیل خان

پاکستان میں سول بالا دستی کا عوامی خواب ایک بار پھر چکنا چور ہو گیا ہے، اور یہ ان سیاستدانوں کے ہاتھوں ہوا ہے جو اقتدار سے محرومی کے بعد عوام کو سول بالادستی کا خواب دکھادکھاکر دھوکہ دیتے ہوئے ایک بار پھر اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کی تگ و دومیں لگے ہوئے ہیں۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سیاسی جماعتوں نے وہی اپنا پراناوراثتی رویہ اختیار کیا ہے جس کا آغاز ایوبی دور میں ہوا تھا۔جب فوجی ڈکٹیر کے ایک اشارے پر پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ بھی ٹکڑوں میں بٹ گئی اور اس کا ایک ٹکڑا” خود سپردگی“ کے عالم میں فوجی آمر کی گود میں جا گراتھا۔اورسات دہائیاں گزرجانے کے بعد بھی”خود سپردگی“کی یہ خواہش اب ہر سیاسی جماعت میں اس طرح موجود ہے، جیسے کوئی بے چین دل اپنے محبوب کی بانہوں میں گرنے کو بے قرار ہو۔ ایک فوجی آمر ضیاءالحق نے کہا تھا کہ سیاست دانوں کو جب بلاﺅ،دم ہلاتے ہوئے آئیں گے ۔قوم تو سمجھ رہی تھی کہ اب سیاست دانوں نے شاید تبدیلی کے نعرے کے ساتھ اپنی صنف تبدیل کر لی ہے ،مگر ”چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی “کے مصداق ، سیاست دانوں نے ضیاءالحق کی بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے ۔مسلم لیگ کے ماتھے پر یہ جھومر سجا ہواہے کہ اس نے پاکستان سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل کیاتھا۔مگر،یہ حقیقت بھی بہت تلخ ہے کہ اس سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں ایک نئے ملک کے قیام کے ساتھ ساتھ ہزاروں نہیں لاکھوں افراد کا قتل بھی ہواتھا۔انتقال آبادی کے دوران اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتیں ، بڑی بڑی جنگوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کو پیچھے چھوڑ گئیں۔جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں آزادی حاصل کرنے والا ملک اگر کسی فاتح جرنیل کامرہون منت نہیں تھا ۔تو پھر اس پر حاکمیت کا حق جمہور کی بجائے جرنیلوں کو کیسے حاصل ہوا؟اس سوال کا جواب بہت سادہ اور آسان الفاظ میں یہ ہے کہ ،سیاست دانوں کی اقتدار میں شمولیت کی خواہش اور اقتدار میں شمولیت کے بعد مال و زر کا حصول۔۔اس دو آتشہ نے جمہوری اقدار اور جمہور کا اختیار ، سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔
اس ملک کے اصل حاکم سیاست دانوں کی”اصلیت“ سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں اس لیئے انہیں ایسی کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی جس کا اظہار ہمارے جمہوری سیاست دان اقتدار سے محرومی کے بعد عوامی جلسوں میں کی جانے والی تقاریر کے ذریعے عوام کے سامنے کرکے عوام کی جمہوری امنگوں کو بڑھاوا دیتے رہتے ہیں۔”اب راج کرے گی خلق خدا“ جیسی نظمیں جلسوں میں عوام کا لہو گرمانے اور پرجوش نعرے لگوانے کے لیئے تو خوب کام دیتی ہیں مگر ”ملکی و قومی مفاد“ کے سامنے ان کی تاثیر صفر جمع صفر برابر صفر ثابت ہوتی ہے۔اور یہ ملکی و قومی مفاداپنے سیاسی و ذاتی مفاد کے لیئے شخصیت پرستی سے جڑا ہو اہوتا ہے۔کیا عجب جمہوری تماشہ ہے کہ کسی ایک شخصیت کے لیئے اتنے جتن سے ”کھیر پکائی“ جاتی ہے کہ ”چرخہ“جلا دینے کا ملال بھی نہیں ہوتا۔
پاکستان میں یہ کھیل روز اول سے جاری ہے، جو ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ سیاست دانوں نے جو وطیرہ اختیار کیا ہے ، وہ ان کے ماضی کے عین مطابق ہے۔ قوم سے جھوٹ بولتے ہوئے، قوم کو دھوکہ دیتے ہوئے، اپنی کہی ہوئی باتوں اور وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے، کسی نے نہیں سوچا کہ وہ عوامی خواہشات کے ساتھ کیا کھلواڑ کر رہے ہیں۔ موجودہ حکمران سیٹ اپ شاید عوام کی آخری امید تھی۔کرپشن فری پاکستان کی امید، روشن خیال پاکستان کی امید، ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے پاکستان کی امید۔ مگر ۔ یہ تمام امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے لے کر اب تک کیا ہو رہاہے۔؟ آئینی و قانونی پیچیدگیوں پر مباحثے ، اعلیٰ عدالتوں میں ان کی ایسی تشریح جو طاقتوروں کو ریلیف دینے کا باعث بن سکے۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع۔آرمی ایکٹ میں ترمیم۔۔کیا کسی کے پاس اس سوال کا جواب موجود ہے کہ ان سب باتوں سے عوام کو کیا حاصل ہوتا ہے؟سٹاک مارکیٹ کے اوپر جانے۔یا۔نیچے آنے۔اور زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور استحکام سے غریب کے گھر کا چولہا جلنے میں کتنی مدد ملتی ہے؟ سچی بات ہے کہ عوامی امنگیں دم توڑ چکی ہیں۔سیاست دانوں اورحکمرانوں سے عوام اب برملابیزاری اور مایوسی کااظہار کر رہے ہیں۔۔یہ بجا کہ مایوسی کفر ہے۔مگر ایسے حالات میں کبھی کبھی ایسے کفرپر بھی ایمان لاناپڑتا ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker